کرکٹ:’’سب اچھا‘‘ اور ’’سب اچھا نہیں ہے‘‘

کرکٹ:’’سب اچھا‘‘ اور ’’سب اچھا نہیں ہے‘‘
 کرکٹ:’’سب اچھا‘‘ اور ’’سب اچھا نہیں ہے‘‘

  

جب کسی بھی کھیل میں فتح مل جائے تو متعلقہ ٹیم کے سارے عیب چھپ جاتے اور خامیوں پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے اور یہی ٹیم شکست سے دوچار ہو تو تنقید کے ایسے ایسے تیر برسائے جاتے ہیں کہ کلیجے چھلنی ہو جاتے ہیں،پاکستان کرکٹ ٹیم کی سری لنکا کرکٹ ٹیم کے ساتھ ’’ہوم سیریز‘‘ متحدہ عرب امارات میں جاری ہے۔ ابتدا میں دو ٹیسٹ میچ ہوئے، یہ دونوں ہار دیئے گئے تو تنقید لازمی تھی،حیرت کی بات یہ ہے کہ مختلف کھلاڑیوں کے حوالے سے تو بات کی گئی، مصباح اور یونس کی یاد بھی آئی،نجم سیٹھی صاحب نے بے چارے آفریدی کو بھی گھسیٹ لیا،جو عرصہ پہلے ٹیسٹ کرکٹ چھوڑ گئے تھے۔ بہرحال بات سمیع اسلم اور شان مسعود پر آ کر رُک جاتی تھی، نقاد پوچھتے تھے اور پوچھتے ہیں کہ یہ جوڑی کتنی بار آزمائی جائے گی؟ جواب نہیں دیا جاتا، البتہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ چیف کوچ مکی آرتھر اور کپتان سرفراز احمد کو بری الذمہ ہی سمجھا جاتا ہے، حالانکہ سرفراز احمد کی قیادت پر سو طرح کے اعتراض ہو سکتے ہیں،سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ محترم کے اپنے اندر اعتماد ہی نہیں نظر آیا، فیلڈ میں وہ بلڈ پریشر بڑھاتے دکھائی دیتے تھے اور کھلاڑیوں پر برس بھی رہے تھے،حالانکہ ٹیم کے چناؤ کے وقت افتتاحی کھلاڑیوں اور مصباح، یونس کے متبادل پر زیادہ غور کی ضرورت تھی،جہاں تک بابر اعظم کا تعلق ہے تو شاید قسمت اُس سے روٹھ گئی تھی کہ وہ ٹیسٹ میچوں میں سکور نہ کر سکا اور دیر سے فارم میں آیا،حالانکہ یہ اتنی دیر بھی نہیں کہ ٹیسٹ کے فوراً بعد ایک روزہ میچوں کی سیریز شروع ہو گئی تھی، اس کے علاوہ مکی آرتھر شاید ’’نیلی آنکھوں‘‘ والے ہیں کہ اُن کی طرف انگلی نہیں اُٹھتی،ان کو تو آئندہ ورلڈ کپ تک توسیع دے دی گئی اگرچہ ان کا رویہ کھلاڑیوں کے ساتھ توہین آمیز ہے،دونوں میچ ہارنے کے بعد انہوں نے اپنے بارے میں تو کچھ نہیں کہا، لیکن کھلاڑیوں کو دھتکار کر کہا جا کر ’’ڈومیسٹک کرکٹ کھیلو‘‘ یاد رہے کہ ایسے ہی الفاظ مکی آرتھر نے عمر اکمل سے کہے (اس کی وضاحت نہیں مانی گئی اور وہ سزابھگت رہا ہے)

یہ ایک ہلکی جھلک ہے جو پیش کی ہے۔اب ٹیم نے (متعدد تبدیلیوں کے ساتھ) ایک روزہ میچوں کی سیریز میں پانچ میں سے پہلے تین میچ جیت کر سیریز اپنے نام کر لی ہے تو تعریف کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں، کپتان صاحب بھی پھولے نہیں سماتے اور ان کے حامی بھی میدان میں ہیں،حالانکہ خود ان کی اپنی پرفارمنس بطور کپتان اور وکٹ کیپر کھلاڑی سوالیہ نشان بن گئی ہے، سکور ان سے بھی نہیں ہوا اور کیچ بھی چھوڑے، ایک دو سٹمپ بھی نہیں کر سکے،اس کے علاوہ فیلڈ میں ان کی برہمی تو ٹیلی ویژن کے کیمرہ مین بھی دکھاتے چلے آ رہے ہیں۔ یوں ’’سب اچھا‘‘ ہے اور ’’سب اچھا نہیں‘‘ جہاں تک کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی کا تعلق ہے تو احمد شہزاد اپنے ’’بیڈ پیچ‘‘ کی وجہ سے باہر بیٹھ چکا تو قسمت کی دیوی امام الحق پر مہربان ہو گئی،اِس نوجوان کھلاڑی نے پہلے ہی میچ میں سنچری بنا کرناقدین کو جواب دے دیا، ہمارا خیال تو یہ ہے کہ امام الحق اپنے چچا کی وجہ سے دیر بعد سلیکشن میں آیا ورنہ اُسے دو چار سال پہلے ٹیم میں ہونا چاہئے تھا،بہرحال دیر آید درست آید اُس نے اپنا چناؤ درست ثابت کیا،دیکھنے والی بات سنچری نہیں،اُس کا کھیل ہے کہ مجموعی طور پر اُس نے اعتماد سے کھیلا، اُس پر دباؤ تھا،لیکن اس سے خود ہی باہر نکلا۔

ایک روزہ میچوں والی ٹیم سینئر اور نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور یہی وہ پہلو ہے ،جس پر پہلے ہی سے عمل ہونا چاہئے تھا، بہتر ہوتا کہ بابر اعظم کی طرح اچھے مڈل آرڈر بیٹسمین مصباح الحق اور یونس ہی کی موجودگی میں متعارف کرا دیئے جاتے، بابر کا اعتماد پھر بحال ہو گیا، اسد شفیق کے لئے بھی نیک تمناؤں اور دُعاؤں کی ضرورت ہے، وہ ایک اچھا کھلاڑی ہے تاہم اس کا بیٹنگ آرڈر تبدیل کر کے دباؤ میں لایا جاتا ہے، بہتر عمل مستقل نمبر پر کھلانا ہو گا۔

جہاں تک باؤلنگ اٹیک کا تعلق ہے تو اس پر بھی محنت کی ضرورت ہے اور یہ وسیم اکرم جیسے سینئر اور پرانے کھلاڑیوں سے ٹپس کی صورت میں بھی ہونا چاہئے، کہا جاتا ہے کہ ٹیلنٹ بہت ہے۔یہ سچ بھی ہے لیکن استعمال درست ہو گا تو ٹیلنٹ ثابت ہو گا، فخر زمان اچھی دریافت ہے،لیکن اس کی اتنی زیادہ تعریف کی گئی کہ وہ دباؤ میں نظر آیا،اس پر بھی محنت اور توجہ کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ پسند ناپسند کا بھی معاملہ ہے،اس کا تعلق عماد وسیم سے بنتا ہے۔وہ تھوڑے عرصے میں کھلنڈرے بچے کی طرح نخرے کرنے لگا اور فارم کھو بیٹھا تھا، اسے باہر بٹھا کر خود کو بہتر بنانے کی نصیحت کرنے کی بجائے اسے مجبور ہو کر ہی تیسرے میچ سے ڈراپ کیا گیا اور فہیم اشرف کو موقع ملا،وہ فیلڈنگ اور باؤلنگ تو کر سکا تاہم باری نہیں آئی ورنہ بیٹنگ بھی اچھی کرتا ہے۔ غور کریں تو فہیم اشرف ایک اچھا آل راؤنڈر ہے جو عبدالرزاق کی کمی پوری کرنے کی اہلیت رکھتا ہے،اس پر توجہ دیں، ٹیلنٹ واقعی ہے صرف میرٹ کی ضرورت ہے۔ سازش اور سفارش کو دور پھینکیں تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم پھر سے نمبر ایک ہو سکتی ہے۔ ذرا چیف کوچ اور کپتان پر بھی تو توجہ دیں۔

مزید : کالم