کھیل کا نیا مرحلہ اور ’’مایوس چہرے‘‘

کھیل کا نیا مرحلہ اور ’’مایوس چہرے‘‘
 کھیل کا نیا مرحلہ اور ’’مایوس چہرے‘‘

  

جو بات حمزہ شہباز نے کہی وہی تو سب اہل دانش کہہ رہے ہیں۔ اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی کے باعث صرف سسٹم کو ہی نہیں پاکستان کو بھی نقصان ہو گا اور اگر ایسا ہوا تو پھر کوئی بھی خود کو معاف نہیں کر سکے گا۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف بھی اسی موقف کے حامی ہیں۔ اب تو انہوں نے اس حوالے سے اپنی بھتیجی مریم نواز کو بھی قائل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ فوج اور عدلیہ کے حوالے سے شہباز شریف اور چودھری نثار بالکل یکساں سوچ رکھتے ہیں۔ اب حمزہ شہباز کھل کر میدان میں آئے ہیں۔ مختلف اجتماعات سے خطاب اور ٹی وی انٹرویو کے دوران یہ بات نوٹ کی گئی کہ اس حوالے سے وہ بظاہر کسی دباؤ میں نہیں۔ انہوں نے بہت ریلکس موڈ میں بتایا کہ جمہوریت کو پنپنے کیلئے ابھی کافی وقت درکار ہے۔ فوج سے اپنے پیار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے یہ بات بھی ساتھ ہی کہی کہ ہم سب اکٹھے کام کریں گے تو کامیاب ہونگے۔ فوج سے تو پوری قوم پیار کرتی ہے۔ تنازعات توکھڑے ہی اس وقت ہوتے ہیں جب یہ محسوس کیا جائے کہ ادارے اپنی حدود سے باہر آ کر دوسروں کے معاملات میں مداخلت کررہے ہیں۔ مشرف دور کے خاتمے کے بعد اب تک جاری لولے لنگڑے جمہوری عمل سے یہ امید بندھ چلی تھی کہ اقتدار کی شطرنج کا سب سے کمزور مہرہ پارلیمنٹ بھی اپنی کچھ نہ کچھ جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گا مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا۔ معیشت پر افواج پاکستان کے سیمینارز اور بیانات کے بعد جواب میں وزراء اور عوامی رائے عامہ کے حوالے سے جو کچھ سامنے آیا اس سے اچھا تاثر نہیں ابھرا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس بریفنگ کے ذریعے واضح کیا کہ مارشل لاء لگے گا نہ ہی ٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم ہو گی۔ انہوں نے یہ ارشاد بھی فرمایا کہ جمہوریت کو اگر کوئی خطرہ ہوا تو وہ جمہوری تقاضے نہ پورے کرنے کے باعث ہی ہو سکتا ہے۔ ان کے بیان کا یہ حصہ ہر گز غیر معمولی نہیں بلکہ مسلمہ اصول اور عام سی بات ہے مگر اسی ایک فقرے کو لے کر کئی حلقوں نے شدید اعتراضات اٹھا دئیے۔ ایسا محض اس لیے ہوا کہ اس وقت ماحول پر غیر یقینی کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں،کوئی دوسرے پر اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں۔ موجودہ حکومتی سیٹ اپ کے جمہوری انداز میں چلنے سے متعلق فوجی ترجمان کے بیان سے کہیں زیادہ شور و غل ایک قومی اخبار میں شائع ہونے والی اس رپورٹ پر مچا جس میں بتایا گیا تھا کہ حکومت گرانے کیلئے دھرنے، فارورڈ بلاک اور عدالتی حکم کے فارمولوں پر غور کیا جارہا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی اہم شخصیت نے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو بتا دیا ہے کہ آپ کا ٹائم پورا ہو گیا۔

فوجی ترجمان کی یقین دہانی کے بجائے ایک اخباری رپورٹ پر زور و شور سے بحث ہونا اس امر کا زندہ ثبوت ہے کہ بداعتمادی کی خلیج بہت گہری ہو چکی ہے اور ایسا کیوں نہ ہو آئے روز ہونے والے واقعات شبہات میں اضافہ کررہے ہیں۔ درجنوں اینکرز اور تجزیہ کار ایسے ہیں کہ وہ جھوٹ اور بہتان تراشی کے ساتھ ساتھ گالیاں تک بکنے سے نہیں چوکتے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ناپسندیدہ سیاسی ہی نہیں صحافتی عناصر بھی ان کا نشانہ بنتے ہیں۔ ہر ایک کو غدار قرار دینے کا چلن تو تھا ہی اب کچھ عرصے سے ایک منصوبہ بندی کے تحت مخالفین پر توہین مذہب کے الزامات لگانا شروع کر دیے گئے ہیں۔ ایک جانب نہایت ’’سلیقے ‘‘سے زبان بندی کا عمل جاری ہے اور دوسری جانب ایسے عناصر دندناتے پھررہے ہیں جنہوں نے آئی بی کی جعلی رپورٹیں پیش کر کے ملکی استحکام کو داؤ پر لگانے کی کوشش کی۔ایک عام آدمی بھی سوچ سکتا ہے کہ اس قسم کی حرکات کے نتائج کس قدر خوفناک ہو سکتے ہیں۔ اس سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ لڑائی کس سطح پر آگئی ہے۔ کیا ایسے ہر شے ہری بھری ہو جائے گی؟ ہر گز نہیں یہ سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ عہدیدار ایسی چیزوں کا نوٹس نہیں لیں گے تو کس طور یہ سمجھا جا سکے گا کہ تمام معاملات بہتری کی جانب چل رہے ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ آخر ملک میں ہو کیا رہا ہے؟ مسلم لیگ(ن) حکومت میں بھی ہے اور زیر عتاب بھی، تحریک انصاف حکومت میں آنا چاہتی ہے مگر ساتھ ہی بری طرح سے ہراساں بھی نظر آتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے بعض بیانات تو مکمل طور پر حوالدارانہ رنگ میں رنگے ہوتے ہیں اور بعض میں جمہوریت کا تذکرہ کر کے توازن پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایم کیو ایم شتر بے مہار کی طرح ہے۔ کبھی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے خلاف تحریک انصاف سے اتحاد کرتی نظر آتی ہے، کبھی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے روبرو حاضر ہو کر کراچی، حیدر آباد کے لئے ترقیاتی پیکیج مانگتی ہے۔

تیزی سے بدلتے ہوئے سکرپٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب تک جتنے بھی پلان تیار کیے گئے ان میں سے کوئی بھی فٹ نہیں بیٹھ رہا۔ شاید بہت اعلیٰ سطح پر غور و خوض کے بعد یہ طے کیا گیا کہ اگلے حکومتی سیٹ اپ میں ن لیگ کو کسی نہ کسی طور پر شامل رکھا جائے۔ یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ اگر 2018 ء کے بعد قائم ہونے والی سول حکومت میں سے ن لیگ کو مکمل طور پر باہر رکھا گیا تو وہ بے حد رکاوٹیں پیدا کرے گی اور سسٹم چلنا ناممکن ہو جائے گا۔ شہباز شریف، چودھری نثار اور حمزہ شہباز اور ان کے دیگر ہم خیالوں کی صورت میں ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں اس کا تعلق موجودہ حالات سے کہیں زیادہ آئندہ حکومتی ڈھانچے سے ہے۔ معلوم نہیں کہ یہ بیل منڈھے چڑھے گی یا نہیں۔ ہاں مگر(ن) لیگ کے سیاسی و غیر سیاسی مخالفین کیلئے یہ تصور ہی لرزہ خیز ہے وہ تو چاہتے ہیں کہ ن لیگ کا قلع قمع کر کے دو تین ماہ کا عبوری سیٹ اپ اور پھر اقتدار انہیں منتقل کر دیا جائے۔ تھوڑا غور سے دیکھیں کہ جنہیں وزیراعظم بننے کی جلدی ہے اور وہ جو آئے روز حکومت جانے کی تاریخیں دیتے آئے ہیں ان سب کے چہروں پر ہوائیاں اڑتی نظر آتی ہیں۔ یہ بھی طے ہے کہ اگر (ن) لیگ کو اگلے سیٹ اپ میں بھی کسی نہ کسی طور پر شامل رکھنے کی تجویز کو عملی جامہ پہنانے کا موقع آیا تو اس کی ’’قیمت‘‘ بھی وصول کی جائے گی۔ ایک سوچ تو یہ ہے کہ یہ مشورہ دیا جائے گا کہ نواز شریف کو خاندان سمیت سیاست ہی نہیں ملک سے بھی آؤٹ ہونا ہو گا۔ مسلم لیگ(ن) کی مرکزی قیادت بالخصوص نواز شریف خاندان کو اس نوع کی سودے بازی منظور ہو گی؟ یہی وہ سوال ہے جس کے جواب میں ساری گیم اٹکی ہوئی ہے۔ ملکی حالات کی گمبھیر صورت حال سٹیک ہولڈرز کو تاحال ریڈ لائن کراس کرنے سے روکے ہوئے ہے۔ ایسا کب تک چلے گا؟ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عام انتخابات قبل از وقت کرا دئیے جائیں، ان کی شدید خواہش ہے کہ مسلم لیگ(ن) موجودہ اسمبلیوں کے ساتھ سینیٹ الیکشن تک نہ پہنچے۔ اگر ایسا ہوا تو بحران کم ہونے کی بجائے مزید پھیل سکتا ہے۔

یہ بات کسی کو فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اگلے عام انتخابات کو مسلم لیگ(ن) کیلئے بھی قابل قبول بنانا ہو گا۔ اسٹیبلشمنٹ کی سوچ تو یہی ہو گی کہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط ترکر لے ۔ سیاسی کھلاڑی باری کے انتظار میں ضرور ہیں مگر ان میں سے کئی ایک سوچ رہے ہیں کہ اگر وزیراعظم نے کھڑے کھڑے نااہل ہی ہونا ہے ، نجی چینلوں کے ذریعے دن رات خواتین سمیت خاندان کے دیگر ارکان کیلئے مغلظات برداشت کرنا ہے تو اس سے بہتر نہ ہو گا کہ پہلے رول آف گیمز نئے سرے سے طے کر لیے جائیں۔سب ایسا نہیں سوچ رہے ہوں گے۔ بعض کی خواہش ہو گی کہ وزارت عظمیٰ اور وزارتیں خواہ تہمت کی صورت میں ہی کیوں نہ ہوں ان کے حوالے کر دی جائیں۔ معاملات پیچیدہ ہیں مگر لگ کچھ یوں رہا ہے کہ نواز شریف کو مکمل طور پر مائنس کرنے کیلئے اب تک استعمال کیے جانے والے تمام حربے بیکارگئے ہیں۔ بھائی، بھتیجے اور چودھری نثار کی ہم خیال لیگی رہنماؤں کی خواہشات پر پورا اترنے کیلئے نواز شریف کو جو قیمت چکانا ہو گی کیا وہ ادا کر پائیں گے؟ اور اگر ایسا کچھ نہیں ہوتا تو پھر طاقت کے استعمال کے سوا کوئی اور آپشن باقی نہیں رہے گا۔ جیلوں کے دروازے کھول کر حاصل وصول کیا ہو گا؟ اب تک تو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہر ممکن مالی تعاون کی یقین دہانی کرارہے ہیں۔ امریکہ بھی سی پیک کے تناظر میں (ن) لیگی قیادت خصوصاً نواز شریف کے خلاف کسی بھی مزید کارروائی کی صورت میں مداخلت کرتا نظر نہیں آرہا لیکن کیا کسی عمل کے وقوع پذیر ہونے کے بعد حالات جوں کے توں رہیں گے۔ ہم سب تو ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں تو پھر باہر والوں پر کیسے بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟۔

مزید : کالم