پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے اور قلعے تعمیر کرنے کا منصوبہ

پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے اور قلعے تعمیر کرنے کا منصوبہ

پاک افغان سرحد پر غیر قانونی آمدورفت کو مکمل طور پربند کرنے کے لئے 2350کلو میٹر طویل باڑ لگانے کا کام تیزی سے جاری ہے۔جبکہ مختلف فاصلوں پر 750 قلعے بنائے جائیں گے۔ غیر معمولی اہمیت کا یہ منصوبہ2019ء میں مکمل ہوگا اور مجموعی طور پر 96ارب روپے خرچ ہوں گے۔ آئی ایس پی آرکے ترجمان اور پاک افغان سرحد پر انچارج فوجی حکام کے مطابق باڑ لگانے اور قلعے تعمیر کرنے کا کام پانچ ہزار سے سات ہزار فٹ بلند پہاڑوں پر ہورہا ہے۔ ڈیڑھ سے تین کلو میٹر فاصلے پرقلعے تعمیر کئے جارہے ہیں۔ فی الحال 95قلعے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 85 پر کام جاری ہے۔ پہلے مرحلے میں 30کلو میٹر باڑ لگانے کا کام اسی سال دسمبر تک مکمل کرلیا جائیگا۔ مختلف مقامات پر جدید سازو سامان کے ساتھ تین تین منزلہ واچ ٹاور بھی بنائے جائیں گے، جن میں ایسے جدید آلات نصب ہوں گے کہ رات کے وقت بھی تمام نقل و حرکت دیکھی جاسکے اور سرحد کی نگرانی اندھیرے میں بھی ہو سکے گی30کلو میٹر باڑ لگانے کا کام مکمل ہونے کے بعد دو طرفہ تجارت اور آمدورفت کے لئے سرحد کو کھول دیا جائے گا۔ افغانستان کی طویل سرحدی پٹی پر باڑ لگانے اور قلعے تعمیرکرنے کا یہ منصوبہ بلاشبہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک وہ وقت بھی تھا کہ صدیوں سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی علاقہ بے حد محفوظ ہوا کرتا تھا اور صرف دو مقامات پر سرحدی محافظوں کو تعینات کیا جاتا تھا۔ اس پُر سکون، پُر اعتماد اور انتہائی محفوظ علاقے کو اللہ جانے کس کی نظرِ بد لگی کہ پہلے حکمرانوں کے درمیان بداعتمادی کی فضا پیدا کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، پھر بھارت جیسے ازلی دشمن نے افغانستان میں اپنے قدم جما کر پاکستان کے خلاف سازشوں کا آغاز کیا اور وطن عزیز میں افغانی ایجنٹوں اور سہولت کاروں کے ذریعے تخریب کاری کی وارداتیں ہونے لگیں۔ حالانکہ پاکستان نے گزشتہ چار عشروں سے 38 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کو پناہ دیتے ہوئے اسلامی تعلیمات کے مطابق اُن کی دیکھ بھال کا فریضہ انجام دیا۔ جب دہشت گردی کا سلسلہ شروع ہوا تو بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اور اس کے ایجنٹوں کی سازشوں کی وجہ سے پاک وطن میں بم دھماکوں سے لیکر خودکش حملوں کی وجہ سے تقریباً روزانہ ہی کسی نہ کسی علاقے میں لاشوں کو اٹھانے اور تباہی و بربادی کو برداشت کرنا پڑتا تھا۔اس پر افغان مہاجرین کی واپسی کے پروگرام پر عمل کیا گیاپھر بھی مہاجرین کی تعداد ساڑھے تین لاکھ رہ گئی تاہم طور خم اور چمن پر رفتہ رفتہ چیکنگ سخت کردی گئی۔ یہ سب مجبوراً کرنا پڑا کہ ’’را‘‘ کے ایجنٹوں کی روک تھام ضروری تھی۔ الحمدللہ پاکستان کی مسلح افواج نے پہلے ضرب عضب اور اس کے بعد ردّالفساد کے ذریعے دہشت گردوں پر کاری وار کرکے اُن کے تمام ٹھکانے تباہ کردیئے ہیں۔ اس کے باوجود کبھی کبھی بھارتی سرپرستی میں دہشت گرد سرحد عبورکرکے پاکستان میں دہشت گردی کرتے رہتے ہیں، انہیں روکنے کے لئے باڑ لگانے اور قلعے تعمیر کرنے کا اہم اور غیر معمولی منصوبہ تیزی سے مکمل کیا جارہا ہے۔پاک افغان سرحد پر باڑ لگنے اور قلعے تعمیر ہونے سے افغان سرحد سے پاکستان آکر دہشت گردی آسان نہیں رہے گی۔ یہ منصوبہ بلاشبہ لائق تحسین ہے۔

مزید : اداریہ