کرپٹ افسران کی رضا کارانہ رقم واپسی اور عہدوں پر بحالی پر سندھ ہائی کورٹ برہم

کرپٹ افسران کی رضا کارانہ رقم واپسی اور عہدوں پر بحالی پر سندھ ہائی کورٹ برہم

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے سندھ حکومت کے کرپٹ افسران کی جانب سے رضاکارانہ رقم کی واپسی اوران کی عہدوں پر بحالی پرحکومت پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے ، دوران سماعت عدالت نے سوال کیا کہ کرپشن کا اعتراف اور رقم واپس کرنے والے افسران کی عہدوں پر بحالی کا کیا جواز ہے ؟جس پر چیف سیکریٹری سندھ نے عدالت کو بتایا کہ کرپشن میں ملوث افسران کو عہدوں سے ہٹادیا گیا، محکمہ جاتی کارروائی کی جارہی ہے ، جس پر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ آپ حلفیہ بیان جمع کرائیں کہ کوئی کرپٹ افسر عہدے پر تعینات نہیں ہے، چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ کو معلوم ہے غلط بیانی کے کیا نتائج ہوسکتے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے سندھ حکومت کے کرپٹ افسران کی جانب سے رضاکارانہ رقم کی واپسی اوران کی عہدوں پر بحالی پرحکومت پر شدید برہمی کا اظہار کیا ، سندھ ہائی کورٹ میں کرپٹ افسران کی بحالی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس دوران نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہی دی کہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسر غلام مصطفی اور محمد نذیر نے 80کروڑ روپے سے ذائد کی کرپشن کی ، جس پر وکیل صفائی نے عدالت کو بتای کہ ملزمان نے رضاکارانہ طور پر رقم واپسی کی درخواست دے دی ہے ،عدالت کو بتایا گیا کہ رضاکارانہ رقم واپس کرنے والے افسران کو عہدوں پر بحال کردیا گیا ہے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہا رکیا، عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ کو آج ہی رضاکارانہ رقم واپس کرنے والے افسران سے متعلق بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا، جس کے بعدعدالت نے سماعت ملتوی کردی۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -