ہسپتالتوں کے اندرونی انتطامی معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی:شہرام ترکئی

ہسپتالتوں کے اندرونی انتطامی معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی:شہرام ترکئی

پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر برائے صحت شہرام خان ترکئی نے کہا ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں محکمہ صحت خیبر پختونخوا میں جتنی اصلاحات ہوئی ہیں وہ پورے ملک میں کسی بھی محکمے یا ادارے میں نہیں ہوئیں۔جو کام پچھلے65سالوں میں نہیں ہو سکے وہ ہم نے صرف چار سالوں میں کرکے دکھایا اگرچہ ابھی بھی بہت بہتری کی گنجائش ہے لیکن ہم نے صحت کے نظام کو صحیح ٹریک پر ڈال دیا ہے۔ اداروں کو مکمل مالی اور خود مختاری دے کر انہیں مضبوط کر نے کے ساتھ ساتھ ان میں سیاسی مداخلت کو بھی مکمل طور پر ختم کر دیا ہے جس کے نتیجے میں ان کی مجموعی کارکردگی میں ایاں بہتری آئی ہے اور صوبے کے طبی نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہو گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز خیبر میڈیکل کالج پشاور میں ورلڈ منٹل ہیلتھ ڈے کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے شعبہ نفسیات نے کیا تھا۔ورلڈ منٹل ہیلتھ ڈے کو نفسیاتی اور دماغی امراض میں مبتلا لوگوں کی بحالی اور علاج معالجے کیلئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ آجکل معاشرے میں نفسیاتی اور ذہنی امراض میں مبتلا لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو حکومت سمیت پورے معاشرے کیلئے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور موجودہ صوبائی حکومت نے اس مسئلے کی سنجیدگی کو سامنے رکھتے ہوئے حال ہی میں خیبر پختونخوا منٹل ہیلتھ ایکٹ2017ء نافذ کر دیا ہے جس کے تحت خیبر پختونخوا مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جو ذہنی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا افراد کے علاج معالجے اور ان کی بحالی کیلئے اقدامات اٹھائے گی۔ ڈاکٹروں ،ماہرین نفسیات اور میڈیکل کے طلباء کی ایک بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔اس موقع پروائس چانسلر خیبر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید ، ڈین خیبر میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر نور الایمان، پروفیسر ایس محمد سلطان، پروفیسر ڈاکٹر خالد مفتی، پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد عمران اور ڈاکٹر میاں افتخار نے خطاب کرتے ہوئے ذہنی امراض کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ ہر سال10اکتوبر کو ذہنی صحت کا عالمی دن منایا جا تا ہے جس کا مقصدعوام الناس میں ذہنی امراض کے متعلق شعور بیدار کرنا ہوتا ہے۔ ذہنی امراض پوری دنیا میں عام ہیں اور تیسری دنیا میں اس کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔ پاکستان جو کہ آبادی کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر ہے میں بھی ذہنی امراض کی شرح باقی دنیا کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ صرف ڈپریشن سے دنیا کے تقریباً20 فیصد لوگ متاثر ہیں جبکہ پاکستان میں بد قسمتی سے یہ بیماری34فیصد سے بھی زیادہ ہے یعنی ہر تیسراشخص اس کا شکار ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں اس کی شرح اس سے بھی زیادہ ہے جس کی ایک وجہ دہشت گردی اور لاقانونیت ہے۔ دیگر مشترکہ وجوہات غربت، بے روزگاری، منشیات، گھریلو مسائل اور تعلیم کی کمی ہے۔منشیات کا استعمال ہمارہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ چرس، ہیروئن ، افیم اور نشہ آور ادویات کھلے عوام دستیاب ہیں۔ ان کا خصوصاً شکار نوجوان ہیں اگرچہ یہ مرض اب قابل توجہ حد تک پھیل چکا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں پاکستان کے67لاکھ لوگ نشے کی عادی ہیں جس سے نہ صرف ملک کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے بلکہ جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین نفسیات نے مزید بتایا کہ حیران کن طور پر بچے بھی ذہنی امراض کا نہ صرف شکار ہیں بلکہ اکثر ان کی تشخیص بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کا علاج کیا جاتا ہے۔18سال کی عمر تک کے لوگوں کی شرح کل آبادی کے50فیصد سے زیادہ ہوگی۔ اس ملک میں قانون ہونے کے باوجود بھی بچوں کی مشقت یعنی چائلڈ لیبر میں کوئی کمی نہ کی جا سکی۔ اس کے علاوہ بھی بچوں کے حقوق کی پامالی آئے روز کا معمول بن چکی ہے۔ ملکی امن و امان کی صورت حال اور بچوں کے خلاف پر تشدد واقعات کے نتیجے میں بچے مختلف قسم کے خوفPhobias،اینگزائٹیAnxiety اور ڈپریشن کا شکار ہیں جہاں آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے وہاں یہ بھی عمل قابل ذکر ہے کہ ملک کے 20کروڑ عوام کیلئے صرف چار سو 400 ماہرین نفسیات ہیں یعنی ہر 5لاکھ کیلئے صرف ایک ماہر نفسیات، ترقی یافتہ ممالک میں ہر10ہزار لوگوں کیلئے ایک ماہر خدمات انجام دیتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذہنی امراض و علاج سے متعلق قانونMental Health Act کو اس کی حقیقی حالت میں نافذ کیا جائے تاکہ ان مریضوں کے حقوق کی حفاظت کی جا سکے۔ ذہنی دباؤ اور بے چینی دماغی امراض میں سے سے زیادہ عام ہے جس سے کام کرنے والے اور کام دونوں متاثر ہوتے ہیں۔پوری دنیا میں30لاکھ سے زائد افراد دماغی تناؤ کے باعث معذوری کا شکار ہوتے ہیں۔26 لاکھ سے زائدبے چینی کا شکار ہیں۔ ان سے کہیں زیادہ لوگ دونوں بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں ۔WHOکی ایک تحقیق کے مطابق ذہنی تناؤ اور بے چینی کے باعث سالانہ پیداوار میں ایک ٹرلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر