جمو ں وکشمیر یوتھ اسمبلی کی مسئلہ کشمیر اجاگرکرنیکی عالمی مہم کاآغاز

جمو ں وکشمیر یوتھ اسمبلی کی مسئلہ کشمیر اجاگرکرنیکی عالمی مہم کاآغاز

مظفرآباد( بیورورپورٹ )جموں کشمیریوتھ اسمبلی نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کیلئے عالمی مہم شروع کردی، مہم کے تحت ابتدائی مرحلہ میں پاکستان کے ذرائع ابلاغ سے وابستہ دانشوروں، اینکر پرسنز، قلمکاروں ، ادیبوں اور آزادکشمیر کی نمایاں شخصیات کو مکتوب ارسال کیئے جائیں گے جن سے تحریک آزادی کشمیر کی تازہ ترین صورتحال اور کشمیری عوام کی اپنی آزادی و حق خودارادیت کیلئے دی گئی قربانیوں کا احاطہ کیا جائیگا۔ جموں کشمیر یوتھ اسمبلی منقسم ریاست جموں وکشمیر کے نوجوانوں کی تنظیم ہے ، اس تنظیم میں شہداء کشمیر کے ورثاء، متاثرین سیز فائر لائن ، مہاجرین کے علاوہ مقامی نوجوان بھی شامل ہیں۔ جموں کشمیر یوتھ اسمبلی کے صدربلال عبداللہ شیخ، آرگنائزر محمد اقبال میر کی جانب سے میڈیا نمائندگان کو جاری کردہ ایک مکتوب میں کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر یوتھ اسمبلی اس مہم کے دوران آزادکشمیر و پاکستان کے مختلف علاقوں میں سول سوسائٹی کی اہم شخصیات اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ شخصیات سے ملاقات کر کے تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے کردار ادا کرنے کی اپیل کریگی۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ 1947 سے بھارت سے حصول آزادی کی جدوجہد میں مصروف حق خودارادیت کا جھنڈا تھامے ہم کشمیر کی چوتھی نسل ہیں، کشمیر کے قریہ قریہ اور بستی بستی میں پھیلے قبرستان ہمارے عزم اور داستان حریت کی گوہی دے رے ہیں۔ کشمیر ایک جھلسے ہوئے گلستان کا منظر پیش کررہا ہے، پاکستان کے جھنڈے کو اپنا علم اور کفن بنانے والے کشمیریوں کو بھارتی وحشت و درندگی کا سامنا ہے۔ پیلٹ گنوں سے نوجوانوں کی بینائی چھینی جارہی ہے۔ جنت ارضی کا چپہ چپہ عقوبت خانوں کا منظر پیش کررہا ہے، بھار ت عالمی سطح پر ایک مضبوط اور موثر ملک کے طور پر ابھر رہا ہے اور اپنے چانکیائی پروپیگنڈے سے آئے روز کشمیری قوم کے خلاف عالمی برادری سے اپنے حق میں فیصلے کروا رہا ہے۔حالیہ BRICSاعلامیہ میں اس امر کا واضح ثبوت ہے۔ اب بھارت کشمیر کی داخلی خودمختاری اور شناخت مکمل ختم کرنے اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کیلئے آئین کی دفعہ 35-Aکو ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ اس دفعہ کے خاتمے سے کشمیر کی انفرادی حیثیت کا جنازہ نکل جائیگا اور وہ محض بھارت کی کالونی بن کر رہ جائیگی۔ انہوں نے مکتوب میں مزید کہا ہے کہ ان مشکل حالات میں ہم کشمیر کے بچے آپ سے بحیثیت ’’ سیاسی رہنماء‘‘ ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ ہم آزادی کشمیر اور ایک مضبوط و مستحکم پاکستان کے مشن پر گامزن ہیں، آ پ ہماری طرف ہاتھ بڑھا کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ صلاحیتوں کے مطابق اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کیجئے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر