اگر انصاف کا خون ہوگیا تو پھر نواز شریف کی سیاست کا بھی خون ہوگیا ہے: شیخ رشید احمد

اگر انصاف کا خون ہوگیا تو پھر نواز شریف کی سیاست کا بھی خون ہوگیا ہے: شیخ رشید ...
اگر انصاف کا خون ہوگیا تو پھر نواز شریف کی سیاست کا بھی خون ہوگیا ہے: شیخ رشید احمد

  

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ اگر انصاف کا خون ہوگیا ہے تو پھر نواز شریف کی سیاست کا بھی خون ہوگیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے 42 ایم این ایز جوگر پہن کر بیٹھے ہوئے ہیں ، اندرون سندھ میں بھی کئی لوگ اقتدار کا ہما دیکھ کر الیکشن کا فیصلہ کریں گے۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے نواز شریف کے ’انصاف کا خون‘ والے بیان پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ اگر انصاف کا خون ہوگیا ہے تو پھر نواز شریف کی سیاست کا بھی خون ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی پیشی کی وجہ سے بچوں کو امتحانی پرچے دینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا سیکرٹریٹ کے علاوہ تمام دفاتر میں غریب لوگوں کی غیر حاضریاں لگی ہیں ایک خاتون کو پرائم منسٹر پلس پروٹوکول دیا گیا اگر وہ پرائیویٹ جہاز میں اسلام آباد آسکتے ہیں تو جوڈیشل کمپلیکس بھی ہیلی کاپٹر پر جا سکتے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں: ’میرے پاس اس چیز کی دستاویزات نہیں ہیں‘ شیخ رشید کے وہ کاغذات گم ہوگئے جن کی بنا پر انہیں نا اہل بھی کیا جاسکتا ہے، جان کر سیاسی مخالفین کی خوشی کی انتہا نہ رہے گی

شیخ رشید احمد نے کہا کہ جعلی دستاویزات سمیت دیگر معاملات پر 22 ایم این ایز نا اہل قرار دیے گئے ہیں ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے پاس مسجد کا مشترکہ اکاﺅنٹ تھا یا کسی نے اپنی تین مرلے کی بیٹھک ظاہر نہیں کی۔ ن لیگ والے یہ کیوں نہیں بتاتے کہ اس اقامے میں سے قائم دین نکلے گا، ایک اقامے کے پیچھے 19 ، 19 کمپنیاں نکلیں ۔حدیبیہ پیپر ملز کیس میں شہادتوں کی بھی ضرورت نہیں ہے، اگر سپریم کورٹ نے اسے کھولنے کا حکم دے دیا تو پھر پورا شریف خاندان فارغ ہوجائے گا۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: یہ انصاف ہو رہاہے یا انصاف کا خون ،غیر موجودگی میں فر د جرم عائد کرنے کی کوئی نظیر نہیں ملتی:نوازشریف

عمران خان اور جہانگیر ترین نا اہلی کیس پر گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ عمران خان کو اللہ بچائے گا یا جمائمہ کی محنت بچائے گی ، وہ جمائمہ سے کبھی بھی نہیں ملے لیکن اصل کیس اسی نے لڑا ہے ، ان کا کردار وکیلوں سے بھی زیادہ اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکومینٹیشن سیاستدانوں کیلئے بہت مشکل کام ہے کیونکہ ان کی اپنی ایم اے اور لا کی ڈگریاں گم ہوچکی ہیں ، ’ 16 سال کی محنت ہے، اب مل ہی نہیں رہیں‘۔

آئندہ الیکشن کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن ، سندھ میں پی پی اور پی ٹی آئی جبکہ خیبر پختونخوا میں مقابلہ عمران خان اور فضل الرحمان سمیت دیگر کے مابین ہوگا۔آصف زرداری بلاول کو قیادت نہیں دیں گے ، تحریک انصاف دل بڑا کرے تو پیپلز پارٹی کے بڑے بڑے لوگ آنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔ پنجاب میں پی پی کا کوئی کردار نہیں ہے البتہ قمر زمان کائرہ اور میاں منظور وٹو جیسے لوگ کچھ سیٹیں نکال سکتے ہیں۔ اندرون سندھ میں بعض لوگ اقتدار کے بھوکے ہیں جو اقتدار کا ہما دیکھ کر پارٹی بدلیں گے اگر سلیکشن ہوئی تو 80 فیصد اندرون سندھ ادھر جائے گا جدھر جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے 40 سے 42 ایم این اے جوگر پہن کر بیٹھے ہوئے ہیں جنہوں نے باتیں کرنا شروع کردی ہیں۔ جنوبی پنجاب کے لوگ بھی جوگرز پہن کر تیار بیٹھے ہوئے ہیں۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -