عمران خان کی گوانتا نامو میں بھوک سے دم توڑتے پاکستانی کے لئے صدائے احتجاج

عمران خان کی گوانتا نامو میں بھوک سے دم توڑتے پاکستانی کے لئے صدائے احتجاج
عمران خان کی گوانتا نامو میں بھوک سے دم توڑتے پاکستانی کے لئے صدائے احتجاج

  

تحریر: عمران خان

تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان پاکستان میں انصاف کا بول بال کرنے کی جدوجہد کررہے ہیں تو عالمی سطح پر ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی ان کو کھٹکتی رہتی ہیں ۔انہوں نے حال ہی میں واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون لکھا ہے جس کا مقصد گوانتانامو میں بے گناہ قیدیوں خاص طور پر ایک بے قصور پاکستانی کے لئے امریکی عوام اور حکام تک یہ آواز پہنچانا مقصود ہے جو عدل اور حق کو اپنی پہچان قراردیتے ہیں مگر دوسری قوموں کو ناحق تشدد کا شکار بناتے ہیں۔عمران خان کی یہ تحریر تیکھی اور حقائق پر مبنی ہے ،وہ لکھتے ہیں ۔

’’پاکستانیوں میں یہ تاثر عام ہے کہ امریکی پُرامن احتجاج کی شاندار تاریخ رکھتے ہیں، خصوصاً ایسے موقع پر جب ان کی حکومت اپنے مقصد سے ہٹ جائے۔ مجھے سول رائٹس کی تحریک، ویتنام کی جنگ کے خلاف مظاہرے یاد ہیں اور وہ لاکھوں لوگ بھی جو کسی بھی اہم مسئلے پر واشنگٹن کی مال روڈ پر نکل آتے ہیں۔ یہ مضمون میں ایک پرامن احتجاج سے متعلق لکھ رہا ہوں، جو گوانتاناموبے کا قیدی ایک پاکستانی شہری احمد ربانی ہے، جس سے اس کے حقوق چھین لئے گئے ہیں۔

احمد کا اصل تعلق برما کے مظلوم روہنگیا مسلمانوں سے ہے، وہ کراچی کا ایک غریب ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ 2002ء میں اسے سی آئی اے کے ہاتھ بیچ دیا گیا اور بتایا گیا کہ اس کا نام حسن گل ہے۔ سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی نے تصدیق کی ہے کہ سی آئی اے کی تحقیقات کے دوران احمد ربانی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، احمد کا بھی دعویٰ ہے کہ اس پر سخت تشدد ہوا تھا۔ دراصل بغیر کسی منظوری کے احمد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، حالانکہ منظوری سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ احمد 540 دن سی آئی اے کی حراست میں رہا، بعدازاں گوانتاناموبے بھیج دیا گیا۔ وہ گزشتہ 15 سال سے منتظرہے کہ اس پر کوئی الزام یا مقدمہ چلایا جائے۔

چار سال قبل احمد کا صبر جواب دے گیا اور اس نے پرامن احتجاج کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کردی۔ اس قسم کے احتجاج کو امریکی یقیناً سمجھتے ہوں گے۔ 15 سالہ بے انصافی پر احتجاجاً احمد اس کے علاوہ کیا کرسکتا تھا کہ کوئی بھی چیز منہ میں ڈالنے سے انکار کردے۔ اوباما انتظامیہ نے حکام کو ہدایت کی تھی کہ بھوک ہڑتالیوں کے گلے میں زبردستی خوراک انڈیلی جائے۔ اوباما کے اس حکم کی وجہ سے کم از کم ابھی تک زندہ ہے۔

20 ستمبر کو احمد نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم میں اپنے وکیل سے ٹیلی فون پر بات کی اور بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے نئی پالیسی تیار کی ہے جس کے تحت بھوک ہڑتالیوں کو زبردستی کچھ نہیں کھلایا جائے گا۔ یوں احمد اور دیگر پرامن پڑتالیوں کی بھوک ہڑتال حتم کرانے کیلئے انہیں ہر ممکن حد تک موت کے قریب پہنچایا جائے گا، حتیٰ کہ ان کے جسمانی اعضا کام کرنا چھوڑ دیں یا وہ مرجائیں۔ احمد نے بتایا کہ امریکی فوج میڈیکل کیئر بھی ختم کررہی ہے۔

شاید صدر ٹرمپ ٹویٹ کریں گے کہ احمد نے خود اپنے آپ کو خراب کیا، اس نے بھوک ہڑتال کی، اور اگر وہ مرنا چاہتا ہے، تو اسے مرنے دیا جائے۔ کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ انسانی حقوق کے حامی پولیس کے ہاتھوں پٹنے کے لائق ہیں، کیونکہ وقت کے ظالمانہ قوانین کا انہوں نے احترام نہیں کیا۔ا حمد ایک سچا مسلمان ہے، اگر وہ اپنی جان خود لیتا ہے تو یہ اس کے عقیدے کے خلاف ہوگا۔ وہ موت نہیں، صرف انصاف چاہتا ہے۔

پاکستانی حکومت نے احمد کیلئے آواز نہیں اٹھائی، میں سمجھتا ہوں کہ مجھے اٹھانی چاہیے۔ میں تمام اعتدال پسند امریکیوں پر زور دیتا ہوں کہ گوانتاناموبے میں سڑنے والے چند لوگوں کو یاد رکھیں، اس بات پر زور دیں کہ آزادی، انصاف اور جمہوریت کے وہ اصول جو کہ امریکہ کی بنیاد ہیں، ان کا احترام کیا جائے۔ احمد کی صحت اور زندگی حقیقت بنانا ہمارا فرض ہے تاوقت کہ وہ اپنی بیوی اور بیٹے کے پاس واپس کراچی نہیں آجاتا‘‘

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ