’’بھارتیوں کا باپوننگا ہوکر لڑکیوں کے ساتھ ۔۔۔‘‘برطانوی محقق کی کتاب نے بھارت کے سب سے بڑے سیاستدان کی شرم ناک زندگی بے نقاب کرکے رکھ دی

’’بھارتیوں کا باپوننگا ہوکر لڑکیوں کے ساتھ ۔۔۔‘‘برطانوی محقق کی کتاب نے ...
’’بھارتیوں کا باپوننگا ہوکر لڑکیوں کے ساتھ ۔۔۔‘‘برطانوی محقق کی کتاب نے بھارت کے سب سے بڑے سیاستدان کی شرم ناک زندگی بے نقاب کرکے رکھ دی

  

لاہور ( نظام الدولہ)بھارت میں مذہبی اور سیاسی رہ نماؤں کی جنسی زندگی کوئی راز نہیں رہی ۔حال ہی میں عبادت کے نام پر جنسی غلاظت سے اپنے دھرم کا نشٹ مارنے والے سچا سودا کے گرمیت سنگھ نے بھارت میں تہلکہ مچا رکھا ہے جبکہ مزید کئی مذہبی راسپوٹین گرو گیانی سادھو بھی سامنے آچکے ہیں جو بھارتی ناریوں کو آشرم میں سیوا اور گیان کے نام پر جنسی ہوس کا شکار بناتے رہتے ہیں۔ بھارتیوں کے مہاتما باپو گاندھی بھی اپنے دور میں سیوارام میں آشرم بنا کر’’سچاسودا‘‘ بیچا کرتے تھے ۔وہ جنسیت کے ناقابل علاج مرض میں گرفتار تھے ۔برطانوی مصنف اورلندن یونیورسٹی کے ریسرچ فیلو جان ایڈم نے جب گاندھی کی زندگی پر تحقیق کرتے ہوئے انکی دستاویزات کو کھنگالا تو انہیں مہاتما کے روپ میں جس گاندھی سے واسطہ پڑا وہ جنسیت کے گند میں لتھڑا ہوا تھا ۔ جان ایڈم نے تحقیقی کتاب ’’گاندھی: نیکڈ امبیشن‘‘ (Gandhi: Naked Ambition)میں انکشافات کرکے بھارتیوں کے سر شرم سے جھکا دئیے ہیں۔ سنہ دوہزار دس میں منظر عام پر آنے والی تہلکہ خیز کتاب کو بھارت میں بین کردیا گیا تھا تاکہ بھارتی اپنے باپو سے متنفر نہ ہوجائیں ۔محقق کا دعویٰ ہے کہ اس نے گاندھی کے خطوط اور دیگر ڈائریوں کا مطالعہ کیا تو انکشاف ہوا کہ گاندھی نے اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے تجرد کی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا اور اسکا ذکر گاندھی نے اپنی خودنوشت میں بھی کیا تھا ۔مصنف نے کتاب میں پنڈت نہرو کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ باپو کی ان حرکتوں کو ابنارمیلٹی قرار دیتے تھے۔

جان ایڈم نے لکھا ہے کہ گاندھی چار بچوں کے باپ تھے جب انہوں نے بیوی سے جنسی تعلق ختم کرنے کا اعلان کیا اور اپنے آشرم میں شادی شدہ افراد کو بیویاں ساتھ رکھنے سے سختی سے منع کر دیا ۔ لیکن دوسری جانب گاندھی نے آشرم میں اپنے لئے جوان لڑکیاں رکھی تھیں جن کے ساتھ وہ عریاں ہوکر تالاب میں نہاتے اور ان سے مساج بھی کراتے تھے اور انکے سوتے بھی تھے ۔ مصنف کا کہنا ہے کہ ’’ہزاروں صفحات کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے علم ہوا کہ گاندھی سیاست کے ساتھ ساتھ جنسیت پر گہری نظر رکھتے تھے‘‘ جان ایڈم کا کہنا ہے کہ گاندھی کی خفیہ دستاویز سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ گاندھی عریانی کی حالت میں نوجوان لڑکیوں کے ساتھ سوکی مشق کرکے جنسی اختلاط پر قابو پانے کی ریاضت کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ روحانی طور پر وہی مرد کامیاب انسان ہوتا ہے جو اپنی جنسی قوت کو زائل نہیں ہونے دیتا کیونکہ مرد کا مادہ منویہ زائل نہ ہوتواسکی روحانی طاقت بڑھ جاتی ہے۔جان ایڈم نے کتاب میں لکھا ہے کہ گاندھی اپنی سیکرٹری کے علاوہ اپنی کم سن بھتیجی مانو کے ساتھ بھی ننگے نہاتے تھے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -