حکومت کو اپنے مقدمات کی پیروی کے لئے مرضی کا وکیل مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے،ہائی کورٹ

حکومت کو اپنے مقدمات کی پیروی کے لئے مرضی کا وکیل مقرر کرنے کا اختیار حاصل ...
حکومت کو اپنے مقدمات کی پیروی کے لئے مرضی کا وکیل مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے،ہائی کورٹ

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے قراردیا ہے کہ بادی النظر میں حکومت کو اپنے مقدمات کی پیروی کے لئے مرضی کا وکیل مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے یہ ریمارکس ایڈووکیٹ جنرل آفس میں لاءافسروںکی تقرری کے طریقہ کار کے خلاف سلیم شعیب ایڈووکیٹ کی درخواست پرحکومت پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دیئے ۔

درخواست گزار شعیب سلیم ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور ان کے آفس میں لاءافسروں کا عہدہ آئینی نوعیت کا ہے مگر تعیناتیوں کا طریقہ کار ہی موجود نہیں،سیاسی وابستگیوں کی بناپر تقرریاں کی جاتی ہیں ،اسی بنا پر سرکاری وکیل خاور اکرام بھٹی کی جانب سے پولیس افسر کو تھپٹر مارنے کا ناخوشگوار واقعہ پیش آیا، ایڈووکیٹ جنرل آفس کے لاءافسران سیاسی وابستگی کی بناءپر سیاسی ریلیوں اور جلوسوں میں شریک ہوتے ہیں جو کہ آئین کے تحت ان کے عہدے کے منافی ہے،انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ یڈووکیٹ جنرل آفس میں لاءافسران کی سیاسی وابستگیوں کی بجائے میرٹ پر تعیناتیوں کا طریقہ کار وضع کرنے اور لاءافسران کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکنے کےاحکامات صادر کرے،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو بتایا جائے کہ کیا ریاستی مقدمات میں مرضی کا وکیل کرنا حکومت کا اختیار ہے یا نہیں؟

عدالت نے مزیدریمارکس دیئے کہ جائزہ لینا ہو گا کہ ایڈووکیٹ جنرل کے لاءافسران کوسرکاری خزانے سے تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں، ان کے تقررکے لئے طریقہ کار کیا اختیار کیا جاتا ہے،تعیناتیوں کا کوئی تو طریقہ ہونا چاہیے عدالت نے اس بابت بھی جواب طلب کیا ہے کہ لاءافسروں کی تعیناتیوں کے لئے اسامیوں کا اشتہار کیوں نہیں دیا جاتا ؟،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 15یوم تک ملتوی کر دی۔

مزید : لاہور