کیسے ہوسکتا ہے حساس اور امن و امان قائم رکھنے والے ادارے کام نہ کریں، ہائی کورٹ

کیسے ہوسکتا ہے حساس اور امن و امان قائم رکھنے والے ادارے کام نہ کریں، ہائی ...
کیسے ہوسکتا ہے حساس اور امن و امان قائم رکھنے والے ادارے کام نہ کریں، ہائی کورٹ

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کی حوالگی کے لیے دائر درخواست پر بچے بازیاب نہ کرانے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حساس اور امن و امان قائم رکھنے والے ادارے کام نہ کریں، پولیس افسران کی نااہلی ہے کہ بچے بازیاب نہیں ہورہے ۔مسٹر جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے سارہ عاطف کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ پولیس کی جانب سے عدالت میں بچوں کو پیش کرنے کی یقین دہانی کے باوجود بچے پیش نہیں کیے جارہے،اس کے تینوں بیٹوں تین سالہ محمد بن عاطف اور دو سالہ شہیر بن عاطف کو بازیاب کروایا جائے، بچوں کے والد ڈاکٹر عاطف مقبول بچوں کو لے کر غائب ہوگئے ہیں،متعلقہ پولیس کی طرف سے بچوں کی بازیابی کے لئے ایک مرتبہ پھر مہلت طلب کی گئی جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پولیس کی نااہلی کی وجہ سے بچے ابھی تک بازیاب نہیں ہوئے، پولیس افسران کی طرف سے بچوں کی بازیابی کے معاملے پر مسلسل عدالت میں جھوٹ بولا جارہا ہے، عدالت کو پتہ ہے کہ پولیس تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حساس اور امن و امان قائم رکھنے والے ادارے کام نہ کریں، پولیس افسران کی نااہلی ہے کہ ابھی تک بچے بازیاب نہیں ہوئے اگر 23 اکتوبر تک بچے بازیاب نہ ہوئے تو سی سی پی او اورمتعلقہ آر پی او سمیت دیگر پولیس افسران کو عدالت طلب کرلیا جائے گا۔

مزید : لاہور