پر اسرار قتل

پر اسرار قتل
پر اسرار قتل

  

چین کی ایک پرانی کہا وت ہے : ’’ ہم دلچسپ وقتوں میں رہتے ہیں‘‘۔یہاں پر دلچسپ سے مراد ایسا وقت ہے، جب ہما رے ارد گرد رونما ہونے والے واقعات نہایت پیچیدہ ہو تے ہیں اور ان کی تہہ میں بہت کچھ پو شیدہ ہو تا ہے۔حال ہی میں سعودی صحا فی جمال خشو گی کا قتل بھی یہ ثابت کرتا ہے کہ ہماری آج کی دنیا میں جنم لینے والے واقعات انتہا ئی اہم ہیں۔جما ل خشوگی کا قتل پو ری دنیا کو اپنی جانب کبھی بھی متوجہ نہ کر سکتا اگرجمال خشوگی نے کچھ عرصہ قبل امریکہ میں پنا ہ نہ لی ہو تی اور وہ ’’ دی واشنگٹن پوسٹ‘‘ جیسے اہم اخبار میں کالم نہ لکھتے۔2اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں سعو دی قونصل خانے کے علاقے میں قتل ہونے والے جما ل خشوگی کے معاملے پر مز ید تفصیلات منظر عام پر آنا شروع ہو گئی ہیں اور یہ واضح ہو تا جا رہا ہے کہ جمال خشوگی کو بے رحمانہ طر یقے سے ہی قتل کیا گیا۔

ترکی کے میڈیا نے ایسی ویڈیو فوٹیج جا ری کی ہیں ، جن میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ جس روز خشوگی غا ئب ہو ئے اسی روز 15سعودی شہر ی بھی استنبول پہنچے۔ان 15افراد میں سے دو سعودی ائر فورس کے افسران، انٹیلی جنس کے اہلکار،اور سعودی شاہی خاندان کی گا رڈز کے عہدیدار بھی شامل تھے۔ترکی کی انٹیلی جنس کے مطابق انہی 15افراد میں ایک ایسا شخص بھی شامل تھا جس کے پاس آری موجود تھی۔ جما ل خشوگی کو استنبول میں سعودی قونصل خانے اس لئے جانا پڑ ا کیو نکہ وہ ایک تر ک خاتون سے شادی کرنے جارہے تھے ، اس حوالے سے ان کو دستا ویزات کی ضرورت تھی۔

ا طلا عات کے مطابق جما ل خشوگی کو ان کے کئی قریبی ساتھیوں نے خبر دار بھی کیا تھا کہ ترکی میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے مگر خشوگی نے یہی موقف اختیار کیا کہ ان کی زندگی کو سعودی عرب کے علاوہ اور کسی ملک میں خطرہ نہیں ہے۔مگر خشوگی کا ندازہ غلط تھا۔ تر کی کی انٹیلی جنس کے مطابق 2اکتوبر کی دوپہر کو ایک بجے سعودی قونصل خانے کے تمام عہدیداروں کو چھٹی دے دی گئی۔ ترکی کی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب سے آنے والے 15افراد نے جمال خشوگی کو قونصل خانے میں ہی ہلاک کردیا اور آری سے اس کی لاش کے ٹکرے، ٹکرے کر دیئے ۔خشوگی کے اس بے رحمانہ قتل کو پوری دنیا میں اس لئے توجہ ملی، کیونکہ خشوگی کا شمار سعودی عرب کے ایسے صحافیوں میں ہو تا تھا جو سعودی شاہی خاندان کے اندر جنم لینے والی سیاست، اختلافات ، حسد اور اقتدار کی کشمکش سے بہت اچھی طرح واقف تھے۔خشوگی کا سعودی شاہی خاندان کے انتہائی اہم اور قریبی حلقوں سے گہرا تعلق تھا۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور مغربی دنیا سعودی شاہی خاندان کے حوالے سے خشوگی کی خبروں اور ذرائع پر بہت زیا دہ انحصار کر تی تھی۔خشوگی نے سعودی عرب کے انٹیلی جنس چیف اورامریکہ میں سعودی عرب کے سفیر رہنے والے ترکی بن فیصل کے مشیر کی حیثیت سے بھی کام کیا۔

گزشتہ سال ستمبر میں جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی شاہی خاندان کے کئی اہم ارکان، کا روباری شخصیات، اور کئی صحافیوں کے خلاف زبر دست کریک ڈاون کا آغاز کیا تو جمال خشوگی نے گرفتا ری سے بچنے کے لئے امریکہ میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی اختیار کر لی۔ امریکی شہر یت اختیار کرنے کی کوشش شروع کر دی اور ’ واشنگٹن پو سٹ‘‘ میں کالم بھی لکھنا شروع کر دیے۔ اپنے کالمز میں جمال خشوگی، نہ صرف محمد بن سلما ن کو تنقید کا نشانہ بنا تے، بلکہ یہ واضح کرتے کہ محمد بن سلمان کی پالیسیوں کے باعث سعودی شاہی خاندان کے اندر شدید اختلافات پیدا ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں خشوگی نے محمد بن سلمان کی یمن کے خلاف جنگ کو بھی تنقید کا نشانہ بنا یا ۔جمال خشوگی جیسے کسی عالمی شہرت کے حامل صحافی کے قتل میں اگر روس، چین، وینزویلا ، ایران یا شمالی کو ریا کی حکومتوں پر یوں الزام لگتا تو اس وقت امریکہ انسانی حقو ق کی پامالی کا رونا رو رہا ہوتا مگرامریکہ نے خشوگی کی ہلاکت پر کوئی فوری ردعمل نہیں دیا۔

امریکی انتظامیہ ایک ہفتے تک اس معاملے میں خاموش رہی اور اب یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ امریکہ خشوگی کے معاملے پر سعودی عرب سے اپنے تعلقات خراب نہیں کرے گا۔’’ دی واشنگٹن پو سٹ‘‘ کے مطابق امریکی حکومت کو اچھی طرح سے علم تھا کہ سعودی حکومت خشوگی کو قتل کر سکتی ہے۔ اخبار کے دعوے کے مطابق امریکی انٹیلی جنس نے اس حوالے سے سعودی عہدیداروں کی بات چیت کا ریکارڈ بھی حاصل کیا کہ جس میں ایک صحافی کو اغوا کرنے اور پھر قتل کرنے کی بات کی گئی تھی۔تاہم ایک اہم اتحادی ہونے کے باعث امریکہ کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ سعودی حکومت کس طرح انسانی حقوق کو پا مال کرتی ہے۔ سعودی حکومت نے صرف2017ء میں 150 افراد کو موت کی سزا دی۔خشوگی کے واقعے سے پہلے 30سعودی صحافی یا تو اغوا کئے گئے یا پھر ان کو قید کیا گیا،مگر اس سب پر امریکہ مکمل طور پر خاموش رہا، کیونکہ سعودی عرب امریکہ سے اربوں ڈالرز کے ہتھیا ر لیتا ہے ۔

ٹرمپ کے دور میں تو امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں مزید گرم جو شی آئی، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کھل کر سعودی عرب اور اسرا ئیل کی مدد سے ایران کے خلاف گھیرا تنگ کرنا چا ہ رہی ہے۔امریکہ ، یمن میں تبا ہ کن جنگ کو جا ری رکھنے کے لئے بھی سعودی عرب کی بھر پور امداد کر رہا ہے۔جمال خشوگی کو جس انداز سے قتل کیا گیا وہ1930ء کی دہائی کی یاد دلا تا ہے، جب فاشسٹ اور کمیونسٹ حکومتیں پو رے یورپ میں اپنے مخالف صحافیوں ، دانشوروں یا جا سوسوں کو اسی انداز میں قتل کر واتی جیسے اب خشوگی کا قتل کیا گیا کہ اس کی لاش کے بھی کئی ٹکڑ ے کر دیئے گئے۔

عالمی سرمایہ داری نظام میں بحران کے باعث اس وقت جمہوری ممالک میں بھی فا شسٹ رجحانات ابھر کر سامنے آرہے ہیں امریکہ میں ٹرمپ ، یورپ میں انتہا پسند قوم پرست جما عتوں کی مقبولیت، بھارت میں مودی جیسا وزیر اعظم اور حال ہی میں برا زیل میں جیر بولسنارو جیسے فاشسٹ لیڈر کی کامیابی اس حقیقت کی چند مثا لیں ہیں۔ بدقسمتی سے صحافی بھی ایسے فاشسٹ رویوں کا شکار ہورہے ہیں۔ ’’ کمیٹی ٹو پرو ٹکٹ جرنلسٹس‘‘ کی رپورٹ کے مطابق 2018ئمیں اب تک دنیا میں 48اہم صحافی ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ60بڑے صحافی گمشدہ ہیں۔ یہ تعداد 2017ء کے مقابلے میں50فیصد زیا دہ ہے۔ اگر جمہوری ملکوں میں یہ صورت حال ہے تو پھر سعودی عرب جیسے ملک میں کیا صورت حال ہو گی ، جہاں پر اعلانیہ طور پرایک خاندان کی شاہی حکومت قائم ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے 2اکتوبر کو امریکی ریاست مسسپی میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کی مدد کے بغیر سعودی بادشاہت دو ہفتے تک بھی قائم نہیں رہ سکتی۔ٹرمپ کے اس بیان پر سعودی عرب کا بھی ردعمل سامنا آیا۔دنیا کا کو ئی متوازن ذہن رکھنے والا شخص ٹرمپ جیسے ایک مسخرے کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لے سکتا ، مگر کیا یہ تا ریخی حقیقت نہیں کہ مشرق وسطیٰ کے علاقے میں بہت سے ممالک ایسے ہیں جو پہلی جنگ عظیم کے دوران 1916ء میں Sykes150Picot( فرانس اور برطانیہ کے درمیان مشر ق وسطیٰ کی تقسیم کا معا ہدہ) معا ہدے کی بدولت مصنوعی طور پر وجود میں لائے گئے۔

اس وقت کے انگریزی اور فرانسیسی سامراج نے مشرق وسطیٰ کو عین اپنے مفا دات کے تحت تقسیم کیا اور بدقسمتی سے دوسری جنگ عظیم کے بعد مشرق وسطیٰ کے بہت سے ممالک، خاص طور پر شاہی خاندانوں نے اپنی حاکمیت کو بر قرار رکھنے کے لئے مکمل طور پر امریکہ پر ہی انحصار کیا۔ کیا سعودی عرب کے شاہی خاندان نے اپنی حاکمیت کو بر قرار رکھنے کے لئے امریکہ پر انحصار نہیں کیا؟ٹرمپ نے اپنے بیان میں کسی نئی بات کا انکشاف نہیں کیا، کیونکہ تا ریخ کا ہر طا لب علم جا نتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -