گھڑیاں اور وقت

گھڑیاں اور وقت
گھڑیاں اور وقت

  

آج بروز ہفتہ 20اکتوبر 2018ء افغانستان میں جنرل الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔ امریکہ 2001ء سے افغانستان پر اپنی فتح کے جھنڈے گاڑنے کی کاوشوں میں مصروف ہے۔ نائن الیون کے بعد وہ بڑے کروفر اور رعونت کے ساتھ یہاں حملہ آور ہوا تھا، اس نے حملہ آور ہوتے وقت پوری دنیا کو دھمکی دی تھی کہ ’’اس جنگ میں یا ہمارے ساتھ ہیں یا نہیں‘‘۔۔۔ یعنی کسی ملک کے لئے آپشن ہی نہیں تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی اعلان کردہ جنگ میں شامل نہ ہو۔ امریکہ نے ناٹو کے درجنوں ممالک کو اپنے ساتھ ملایا۔ پھر ایساف کے جھنڈے تلے اور دیگر ممالک کو اکٹھا کیا اور افغانستان پر تابڑ توڑ حملے کئے جو ہنوز جاری ہیں۔17سالوں سے جاری اس جنگ نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مایوس کر دیا تھا۔ افغان قوم اپنی جدوجہد آزادی میں برتری حاصل کر چکی ہے۔

امریکہ کے اتحادی افغانستان کا بھاری پتھر چوم کر چھوڑ چکے ہیں۔ وہ اس لاحاصل جنگ سے نکل گئے ہیں۔ امریکی جرنیل کئی مرتبہ یہ اعلان کر چکے ہیں کہ یہاں افغانستان میں عسکری جنگ جیتی نہیں جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما نے اعلان کر دیا تھا کہ نتیجہ کچھ بھی ہو۔2015ء میں افغانستان میں جاری ملٹری آپریشن ختم کر دیا جائے گا اور عملاً ایسا ہی ہوا، لیکن نئے امریکی صدر ٹرمپ نے ترک شدہ ملٹری آپریشن کو نئے ’’مذہبی اور نسلی‘‘ جذبات کے ساتھ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ملٹری آپریشن شروع کرتے ہوئے کہا کہ اس بار اس آپریشن کی کامیابی کے لئے کوئی ٹائم ٹیبل نہیں دیا جائے گا۔ یعنی لامتناہی ٹائم کے لئے آپریشن جاری رہے گا۔ امریکی صدر کے جواب میں طالبان رہنما نے کہا کہ ’’امریکیوں کے پاس گھڑیاں ہیں، جبکہ وقت ہمارے ساتھ ہے‘‘۔ انہوں نے امریکی صدر کے اعلان جنگ کو ویلکم کیا تھا۔

گزشتہ سے پیوستہ روز (بروز جمعرات) اس وقت طالبان کے اس دعوے کی گونج ایک بار پھر سنائی دی۔ قندھار کے گورنر ہاؤس پر اس وقت حملہ کیا گیا جب اعلیٰ سطحی افغان وفد افغانستان میں امریکی جنرل آسٹن سکاٹ ملر کے ساتھ مذاکرات سے فارغ ہوا تھا۔ طالبان دراصل امریکی جنرل ملر کو ہلاک کرنا چاہتے تھے، لیکن اس حملے میں جنوبی قندھار کے پولیس سربراہ عبدالرزاق ہلاک ہو گئے، انہیں جنوبی افغانستان کا سب سے طاقتور فرد سمجھا جاتا تھا۔ امریکی اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قندھار کے گورنر ہاؤس کے صحن میں ہونے والے اس حملے میں ایک امریکی سپاہی، ایک ٹھیکیدار اور ایک سویلین ہلاک ہوئے۔ افغان صدر اشرف غنی نے بتایا کہ عبدالرزاق اور صوبہ قندھار کے انٹیلی جنس چیف بھی اس حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ افغان وزارت داخلہ نے بتایا کہ صوبہ قندھار کے گورنر زلمی واسع اس حملے میں زخمی ہو گئے ہیں، انہیں علاج معالجے کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا ہے، جبکہ امریکی جنرل ملز بخیر و عافیت کابل واپس لوٹ گئے ہیں۔

طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف احمدی نے صحافیوں کو بھیجی جانے والی ای میل میں بتایا کہ اس حملے کا مرکزی ٹارگٹ جنرل ملر کو ہلاک کرنا تھا،جسے ہلاک کر دیا گیا ہے۔(امریکی ذرائع نے اس دعوے کی تردید کر دی ہے)۔طالبان ترجمان نے کہا قندھار کا ظالم کمانڈر عبدالرزاق ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں قندھار کا گورنر واسع اور جاسوسی ادارے کا سربراہ عبدالمومن شامل ہیں۔اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ طالبان، افغانستان کی ایک قابلِ ذکر اور موثر قوت ہیں۔ انہوں نے ابھی تک امریکیوں اور ان کی پروردہ افغان حکومت کو ٹِکنے نہیں دیا ہے۔ افغانستان کا بیشتر علاقہ طالبان کے کنٹرول میں ہے ، دن کی روشنی میں جو علاقہ امریکیوں کے قبضے میں ہوتا ہے رات کے اندھیرے میں وہاں طالبان کی حکومت ہوتی ہے۔

امریکی عالمی بالادستی کا خواب پریشان ہو رہا ہے۔1991ء میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ نے یکہ و تنہا عالمی طاقت کا منصب سنبھال لیا تھا پھر خلیجی جنگ میں اس نے اپنی فائر پاور کا حیرت ناک مظاہرہ کرکے دنیا پر اپنی ہیبت بٹھا دی تھی۔ آپریشن ڈیزرٹ سٹارم اور ڈیزرٹ شیلڈ نے دنیا پر حقیقتاً امریکی رعب و دبدبہ طاری کر دیا تھا۔ امریکہ نے مشرق وسطی کی ری شیپنگ کا اعلان بھی کر دیا تھا، لیکن نائن الیون کے نتیجے میں امریکی بالادستی شدید پریشانی کا شکار ہو گئی۔ اسی پس منظر میں امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا،تاکہ دنیا پر ایک بار پھر امریکی قوت اور دہشت کی دھاک بٹھائی جا سکے، لیکن 17سالوں سے جاری اس جنگ میں امریکہ کھربوں ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ ہزاروں سپاہی ہلاک، زخمی اور نفسیاتی مریض بن چکے ہیں، لیکن فتح زمین پر کہیں نظر نہیں آ رہی ۔

کابل میں کٹھ پتلی حکومتیں قائم کرکے امریکہ طالبان کو بارہا دعوت دے چکا ہے کہ ان کے ساتھ مل کر حکومت کرو۔ ان کے ساتھ شریک اقتدار ہو جاؤ، لیکن طالبان کٹھ پتلی حکمرانوں کو رتی برابر بھی اہمیت نہیں دیتے ہیں اور وہ کٹھ پتلی حکومت کی رٹ کو بار بار ، ہر بار، ہر جگہ چیلنج کرتے ہیں۔ قندھار کے گورنر ہاؤس میں ہونے والا تازہ حملہ طالبان کی اسی پالیسی کا حصہ ہے جو وہ گزشتہ 17سالوں سے امریکی افواج اور کٹھ پتلی افغان حکمرانوں کے خلاف اختیار کئے ہوئے ہیں۔ افغانوں نے کبھی بھی کسی بالادستی کو قبول نہیں کیا ہے وہ آزادی پسند مسلمان ہیں۔ امریکہ نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا اور تاریخ کا سبق بھی یہی ہے کہ اس سے کسی نے سبق نہیں سیکھا ہے‘‘۔ امریکی اگر سوویت یونین کے ساتھ افغانوں کی معرکہ آرائی کو جان جاتے اگر وہ اس سے کچھ سیکھتے تو کبھی بھی افغانستان پر حملہ آور نہ ہوتے، لیکن اب وہ کیونکہ یہاں حملہ آور ہو چکے ہیں۔ یہاں اربوں کھربوں ڈالر کھپا چکے ہیں، اتنے ہزاروں انسانوں کی جانیں داؤ پر لگا کر مار بھی چکے ہیں۔ اس لئے انہیں واپسی کے لئے کسی آڑ کی ضرورت ہے، کسی بہانے کی ضرورت ہے۔

سوویت یونین کو جنیوا معاہدے کے ذریعے افغانستان سے نکلنے کا محفوظ راستہ مل گیا تھا۔ پاکستان نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ امریکہ ایسا ہی کردار اب چاہتا ہے کہ پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز تک لائے، انہیں مجبور کرے کہ وہ جنگ و جدل کا راستہ چھوڑ کر شریکِ اقتدار ہو جائیں۔ پاکستان شاید یہ کردار ادا کرنے کے لئے آمادہ بھی ہے، لیکن امریکہ دھونس بھی قائم رکھنا چاہتا ہے۔ اس نے افغانستان میں ہندوستان کو چودھری بنایاہوا ہے، وہ وہاں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف مورچہ زن ہے۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے ڈانڈے افغانستان سے جا ملتے ہیں، جنہیں انڈین ادارے منظم کر رہے ہیں۔

پاکستان اس حوالے سے امریکہ کو کھلے الفاظ میں بتا بھی چکا ہے، لیکن امریکی اپنا مطالبہ دھرانے پر اکتفا کرتے ہیں۔ پاکستان کی بات نہیں سنتے۔ پاکستان نے اپنی مسلح افواج کے ذریعے دہشت گردی پر مکمل طور پر قابو پا لیا ہے، لیکن افغانستان میں امریکی الجھے ہوئے ہیں۔ افغان حکومت، امریکی فوجیوں کے بغیر ایک دن بھی قائم نہیں رہ سکتی ہے۔ یہ بات سب کو معلوم ہے طالبان توانا اور تازہ دم ہیں۔ قندھار حملہ اس بات کا واضح ثبوت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -