قیدی برگد اور پاکستانی سیاست

قیدی برگد اور پاکستانی سیاست
قیدی برگد اور پاکستانی سیاست

  

میاں شہبازشریف نیب کی حراست میں ہیں۔ ان سے پہلے میاں نوازشریف اور محترمہ مریم نواز اڈیالہ جیل میں اسیری کے دن گزار چکے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی گرفتاری کے متعلق قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ سرکاری ترجمان مزید گرفتاریوں کے اشارے دے رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ کرپشن کے خلاف جاری مہم کے نتیجے میں بڑے بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالا جائے گا۔ اپوزیشن ان گرفتاریوں کو سیاسی انتقام قرار دے رہی ہے اور ان کے خلاف اسمبلیوں میں بھی احتجاج ہو رہا ہے۔برصغیر کی تاریخ میں بے شمار سیاستدان گرفتار ہوئے۔ ایک دور میں جیلوں کو سیاست کی پہلی درسگاہ قرار دیا جاتا تھا۔ مہاتما گاندھی متعدد مرتبہ گرفتار ہوئے۔ نہرو اپنی سوانح عمری میں اپنے جیل کے تجربات بیان کرتے ہیں۔ جیل میں انہوں نے کتابیں بھی لکھیں۔ان کا قید کا سب سے برا تجربہ مہارجہ نابھہ کی جیل میں تھا۔برطانوی حکومت کی جیلوں میں سیاسی قیدیوں کے لئے کچھ مراعات بھی تھیں۔ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی متعدد مرتبہ جیل گئے۔ حسرت موہانی کی تو ایک عمر جیل کی چکی کی مشقت میں گزری۔ تحریک خلاف اور تحریک پاکستان میں ہزاروں مسلمان پابند سلاسل ہوئے۔ سید عطااللہ شاہ بخاری نے جیل کو اپنا دوسرا گھر بنائے رکھا۔ایک مرتبہ انہوں نے خود کہا کہ شاہ جی نے تقریر کی، لوگوں نے کہا واہ شاہ جی واہ۔ شاہ جی جیل گئے لوگوں نے کہا آہ شاہ جی آہ۔ اس آہ اور واہ کے چکر میں ہم تو ہو گئے تباہ۔انگریزوں نے قیدیوں کے لئے پورے برصغیر ہی میں جیلوں کا جال نہیں بچھا رکھا تھا، بلکہ بحیرہ ہند کے اندر جزائر انڈیمان میں ایک پورے جزیرے پر جیل قائم کر رکھی تھی۔ اس جیل کو کالا پانی کا نام دیا جاتا ہے اور جو قیدی یہاں آتے تھے ان میں سے اکثر کی قبریں بھی اسی جزیرے میں بنتی تھیں۔ انگریزوں نے کچھ قیدیوں کو مالٹا کے جزیرے میں بھی قید کیا تھا۔

برصغیر کی تاریخ میں بہت سے مقدمات نے غیر معمولی شہرت حاصل کی۔ راولپنڈی سازش کیس میں مشہور شاعر فیض احمد فیض بھی مقید رہے۔ جنرل ایوب خان کے عہد میں اگرتلہ سازش خاصی معروف ہوئی، جس میں شیخ مجیب الرحمن اور دوسرے کچھ بنگالیوں کے خلاف مقدمہ قائم ہوا تھا۔ اس مقدمے نے مشرقی پاکستان میں خاصی ہلچل پیدا کی۔ مغربی پاکستان میں بھی اس مقدمے کو سیاسی قرار دیا گیا، مگر بنگلہ دیش بننے کے بعد اس مقدمے کے تمام ملزم اپنے جرم پر فخر کا اظہار کرتے ہیں اور انہیں قومی ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو نے دلائی کیمپ قائم کیا۔ اس کے علاوہ شاہی قلعہ کو بھی عقوبت خانہ بنانے کا تجربہ کیا گیا۔ جنرل ضیاالحق نے سیاسی قیدیوں کو کوڑنے مارنے کا تجربہ بھی کیا۔پاکستان کی تاریخ میں جب بھی کسی سیاستدان کے خلاف کارروائی ہوئی تو اسے انتقامی کارروائی قرار دیا گیا۔ ان میں سے بہت سے مقدمات حقائق پر بھی مبنی تھے اور اس ضمن میں ثبوت بھی پیش کئے گئے، مگر سیاستدان اپنے جرائم کو سیاسی انتقام کا نام دیتے رہے، جبکہ حکومت اکثر یہ موقف دیتی رہی کہ وہ سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتی۔

پاکستان کی جیلوں میں بہت سے نامور قیدی رہے ہیں، مگر دنیا بھر میں سب سے قدیم قیدی بھی پاکستان میں ہے۔ اس کی قید کو 120 سال گزر چکے ہیں۔ پوری دنیا میں اسے ایک عجوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ قیدی برگد کا ایک درخت ہے۔ 1898ء کی ایک شام کو انگریز فوجی افسرجیمزسکیوڈنشے میں دھت تھا۔ وہ میس سے اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ برگد کا درخت حملہ آور ہونے کے لئے اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس نے چلا کر میس کے سارجنٹ کو برگد کو زنجیریں پہنانے کا حکم دیا۔ انگریز افسر کے حکم کی تعمیل میں برگد کے درخت کو زنجیریں پہنا دی گئیں، تاکہ وہ فرار ہونے کی کوشش نہ کرے۔ اگلے دن برطانوی افسر کا نشہ اتر گیا، مگر اس وقت برطانوی اقتدار اپنے عروج پر تھا۔ اس انگریز افسر نے اپنے حکم کو واپس لینے کے متعلق سوچنا بھی پسند نہیں کیا۔ لنڈی کوتل میں خیبررائفلز کے میس میں آج بھی یہ درخت پابند سلاسل کھڑا ہے۔ اس پر ایک تختی آویزاں ہے، جس پر انگریزی میں لکھا ہے ’’میں زیرحراست ہوں۔‘‘برگد کے اس درخت کو 1898ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بہت سے انگریز افسر آئے ،مگر انہوں نے اسے پابند سلاسل ہی رکھا۔ وہ قبائلیوں کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہ درختوں کو قید کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے اور انگریز افسر اگر کوئی فیصلہ نشے کی حالت میں بھی کرے تووہ فیصلہ واپس نہیں ہوتا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ درخت برطانوی عہد کی یادگار کے طور پر پابند سلاسل ہے۔

انگریز افغانستان پر قبضہ کرنے میں ناکام ہوئے تھے۔ اس کے بعد یہ خطہ سوویت یونین کا بھی قبرستان ثابت ہوا۔ تہذیبوں کے اس قبرستان میں امریکہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہے، مگر کئی ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے بعد مکمل فتح اس کا مقدر بنتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے۔ وہ باعزت انخلاء کے لئے راستے تلاش کر رہا ہے۔ انگریزوں، روسیوں اور امریکیوں کو یہاں ایک نئی دنیا سے واسطہ پڑا۔ ایک برطانوی صحافی بیورلے نکلسن 1940ء کے عشرے میں برصغیر میں آیا تھا۔ اس نے قائد اعظم کا ایک انٹرویو بھی کیا جو غیر معمولی تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ انٹرویو اس کی معروف کتاب ’’Verdict on India‘‘ میں شامل ہے۔ اس کتاب میں اس نے ہندوستان کے متعلق اپنے دلچسپ مشاہدات کو زبان دی ہے۔ جس طرح خیبرایجنسی میں لوگ آج بھی پابند سلاسل درخت کو دیکھ کر حیران ہوتے ہیں اور انگریزی ذہن کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اس طرح بیورلی نکلسن اس علاقے میں تعینات اس انگریز کمانڈر کی یہ بات سن کر حیران ہوا تھا کہ ہر ماہ کوئی نہ کوئی فوجی اس کے پاس چھٹی کی درخواست لے کر آتا ہے، جس میں لکھا ہوتا ہے کہ موصوف اپنے دشمن کو قتل کرنے کے لئے جانا چاہتا ہے اور اسے ایک یا دو ہفتے کی چھٹی درکار ہے۔ بیورلے نکلسن نے حیران ہو کر اس انگریز کمانڈر سے دریافت کیا کہ ایسی درخواستوں پر وہ کیا حکم جاری کرتا ہے۔ کمانڈر نے اسے یہ بتا کر پریشان کر دیا کہ وہ ایسے فوجی سپاہیوں کو چھٹی دے دیتا ہے، کیونکہ اگر انہیں چھٹی نہ دی جائے تو یہ سپاہی سرکاری رائفل لے کر فرار ہو جاتے ہیں اور برطانوی فوج اپنے ایک فوجی اور ایک سرکاری رائفل سے محروم ہو جاتی ہے، جبکہ چھٹی دینے کی صورت میں فوجی بھی واپس آ جاتا ہے اور رائفل بھی۔

انگریزوں نے برصغیر میں اپنی حکمرانی کے لئے بہت سے ایسے کام کئے، جن کا برطانیہ میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ پاکستان اپنی آزادی کے 71سال پورے کر چکا ہے۔ لنڈی کوتل کا برگد کا بوڑھا درخت آج بھی پابند سلاسل ہے۔ فرنٹیئر ریگولیشنز کو برطانوی وحشت کی علامت قرار دیا جاتا رہا ہے۔ انگریزی روایات اور قوانین کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے، مگر انگریزی دور کے عہد غلامی نے کتنے بڑے بڑے دماغوں کو آج بھی غیرمرئی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے ۔ پاکستان کی تاریخ کو بحرانوں کی تاریخ قرار دیا جاتا ہے۔ ہم اپنی قومی زندگی میں انصاف کا وہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، جس پر اہل مغرب فخر کرتے ہیں۔ پاکستان نے قائم رہنا ہے اور یہاں بہرحال انصاف نے نہ صرف ہونا ہے، بلکہ ہوتے ہوئے نظر بھی آنا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -