پنجاب پولیس اور سیاسی مداخلت

پنجاب پولیس اور سیاسی مداخلت
پنجاب پولیس اور سیاسی مداخلت

  

پنجاب کے نئے آئی جی امجد جاوید سلیمی نے پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرانے کا ایک انوکھا فارمولا بتایا ہے۔پنجاب کے پولیس انسپکٹروں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگوں کو عزت دیں،انہیں اپنے قریب کریں، وہ آپ پر غلط کام کے لئے دباؤ ڈالنا چھوڑ دیں گے۔شاید انہوں نے یہ بات اپنی زندگی بھر کی پولیسنگ کا نچوڑ سمجھ کر کی ہو،تاہم پولیس انسپکٹروں کو یہ باریک نکتہ مشکل ہی سے سمجھ آیا ہو گا۔یہ سُن کر اُن کے ذہن میں یہ ضرب المثل پھڑکی ہو گی کہ گھوڑا گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا؟اگر سیاسی نمائندوں سے دوستی کر لی تو اُن کے حلقے میں پولیس کی دھاک کیسے بیٹھے گی؟امجد جاوید سلیمی کی ساری سروس پنجاب کی ہے، کچھ عرصے کے لئے وہ آئی جی بن کر سندھ گئے، انہوں نے پولیس میں ہر سطح کے رینک پر ذمہ داریاں نبھائیں،فیلڈ کا بہت وسیع تجربہ رکھتے ہیں،پنجاب کی پولیسنگ کو اُن سے بہتر کون جانتا ہو گا۔اُن کا عرصہ ملازمت جن ادوار پر مشتمل ہے، اُن میں آمریت کا دور بھی آیا اور جمہوریت بھی چلتی رہی۔

شریف برادران کی حکومتیں بھی دیکھیں اور چودھری برادران کی بھی، سو اُن کے لئے پنجاب ایک کھلی کتاب ہے۔اس کتاب کو وہ بڑی اچھی طرح پڑھ چکے ہیں،لیکن اب انہیں یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ اس کتاب کا نصاب بدلیں، پولیس کو تبدیل کریں،عمران خان جو خواب رکھتے ہیں، اُسے تعبیر بخشیں۔بہت مشکل ٹاسک ہے۔ ناصر خان درانی کام شروع ہونے سے پہلے ہی ہاتھ کھڑے کر کے رخصت ہو گئے ہیں۔ امجد جاوید سلیمی کے پاس کام کے لئے معقول عرصہ ہے۔ ایک تاریخی موقع اُن کے ہاتھ آیا ہے، وہ پولیس کی وردی بدلنے یا موٹے پولیس والوں کی توندیں گھٹانے پر اپنی توانائیاں صرف نہ کریں،

بلکہ پولیس اصلاحات کے لئے ایسا ایجنڈا دیں ، جس پر عمل کر کے حکومت پنجاب پولیس کو ایک مثالی فورس بنا سکے۔اُن کے پاس بہت اچھے اور پڑھے لکھے حاضر و ریٹائر پولیس افسران موجود ہیں، جو بہترین تجاویز دے سکتے ہیں، اُن کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں ۔ دوسری طرف فوری طور پر پولیس میں میرٹ کا نظام رائج کر دیں،اپنی پوسٹ سے پیار نہ کریں،بلکہ اپنے ادارے سے محبت کریں۔ پی ٹی آئی کی حکومت اب مزید جگ ہنسائی کا سامان پیدا نہیں کرے گی،اِس لئے اُن کی ریٹائرمنٹ تک تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔اِس عرصے کو محکمے کی بہتری اور پولیس کی اصلاح کے لئے یکسوئی کے ساتھ استعمال کیا گیا تو تبدیلی ضرور آئے گی۔

ڈی پی او پاکپتن کیس سے جو بدمزگی پیدا ہوئی اُسے پولیس اور حکومت دونوں کے لئے کارِ رائیگاں قرار دیا جا سکتا ہے،پھر اُس کے بعد گویا یہ عادت بنا لی گئی کہ سیاست دانوں کو پولیس سے دور رکھنا ہے۔ ہاں ایک آئیڈیل پولیس کی موجودگی میں تو اس کا کلی جواز بنتا ہے،لیکن ایک ایسی پولیس کو جو اپنی منفی سرگرمیوں کے حوالے سے مشہور ہے،جس کے ظلم کی داستانیں زبان زدِ عام ہیں،جو جھوٹے پرچوں اور عقوبت خانوں کی اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے، جس پر عوام کا اعتماد نہیں، اُسے اگر یہ یقین دلایا جاتا کہ کوئی رکن اسمبلی تھانے فون نہیں کرے گا، آنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ اس کی شکایت یا سفارش پر کسی پولیس والے کو تبدیل کیا جائے گا یا سزا دی جائے گی، تو پھر جو ہو گا، اس کا تصور کر کے ہی ہول سا آنے لگتا ہے۔

مَیں اِس سے پہلے بھی کئی کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ اگر آپ پولیس اور انتظامیہ کے نظام کو بہتر کئے بغیر ارکان اسمبلی کو بے بس کر کے ایک طرف بٹھا دیتے ہیں تو پھر عوام کے لئے نظام کے جبر سے بچنے کا کون سا روزن کھلا رہ جاتا ہے۔ رکن اسمبلی دو اڑھائی لاکھ افراد کا نمائندہ ہوتا ہے، لوگ اپنے مسائل لے کر اس کے پاس جاتے ہیں، اگر وہ خود بھی نظام کے سامنے عوام کی طرح خود کو بے بس اور لا چار محسوس کرے تو عوام کا جمہوریت پر سے اعتبار اُٹھ جائے،اِس لئے یہ سوچنا غلط ہے کہ عوامی نمائندے پولیس افسران سے رابطہ بھی نہیں کرسکتے، یہ بھی سیاسی مداخلت کے زمرے میں آئے گا۔عدم مداخلت یہ ہے کہ پولیس اگر میرٹ پر کام کر رہی ہے تو اس میں کوئی مداخلت نہ کی جائے، قانون پولیس کو جو اختیارات دیتا ہے ان میں کوئی دخل اندازی نہ کی جائے، البتہ جہاں پولیس اپنی حد اور قانون سے تجاوز کرتی ہے تو دادرسی کے لئے عوام عدالتوں کے ساتھ ساتھ اپنے نمائندوں کے پاس بھی جاسکتے ہیں،اسے سیاسی مداخلت ہر گز نہیں کہا جا سکتا۔

نئے آئی جی امجد جاوید سلیمی نے بڑی ذہانت سے اس تناؤ کی کیفیت کو ختم کردیا ہے،جو پہلے ڈی پی او کیس اور بعد ازاں سابق آئی جی محمد طاہر کی طرف سے حکومتی احکامات کی عدم تعمیل کے باعث پیدا ہوئی۔ آئی جی کا کیا کام ہے کہ وہ ایک ڈسپلن فورس کا سربراہ ہونے کے باوجود چین آف کمانڈ کی اہمیت کو نہ سمجھے۔ امجد جاوید سلیمی نے بڑی خوبصورتی سے ایک ایسا پیغام دیا ہے،جو ایک طرف پولیس فورس کے افسروں اور جوانوں کے ذہن میں پیدا ہونے والے ابہام کو دور کرگیا ہے اور دوسری طرف انہوں نے ارکان اسمبلی کو بھی یہ باور کرا دیا ہے کہ ان کی عزت و تکریم پولیس پر فرض ہے، تاہم وہ پولیس کے اچھے دوست کی حیثیت سے کوئی غلط کام کہہ کر انہیں مشکل میں نہ ڈالیں۔ پنجاب پولیس کے افسروں کو اس بات کا ادراک ہو گا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں پولیس پر وہ دباؤ نہیں ہو گا جو شہباز شریف کے ادوارِ حکومت میں رہا۔

یہ نہیں ہو گا کہ کسی ایم این اے یا ایم پی اے نے قانون شکنی کی ہو اور پولیس پر اتنا دباؤ ڈالا جائے کہ وہ پرچہ ہی درج نہ کرے، الٹا مظلوموں پر مقدمہ درج کر کے ان کی زندگی اجیرن بنا دے۔ وزیراعظم عمران خان اپنے کسی رکن اسمبلی کو ایسا کرنے کی صورت میں معاف نہیں کریں گے، سندھ میں ایک شہری کو تھپڑ مانے والے پی ٹی آئی کے ایم پی اے عمران شاہ کی مثال سب کے سامنے ہے۔اب پولیس والوں کے خلاف شکایت اِس بات پر نہیں ہو سکتی کہ انہوں نے کسی رکن اسمبلی کا ناجائز کام نہیں کیا،بلکہ شکایت کسی شہری کے ساتھ ظلم یا نا انصافی پر ہو گی،جو ارکان اسمبلی کا حق ہے،کیونکہ وہ عوام کو براہِ راست جوابدہ ہیں، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ان کے تھانے کی حدود میں پولیس مظالم کرتی رہے،یا امن و امان کے حوالے سے اس کی کارکردگی خراب ہو اور ارکان اسمبلی بے بسی کی تصویر بنے رہیں۔

سیاسی نمائندوں کو بھی یہ بات پلے باندھ لینی چاہئے کہ جب وہ اپنی مرضی کا ایس ایچ او اپنے علاقے میں تعینات کراتے ہیں تو گویا اُس کے ہر بُرے کام میں شریک ہو جاتے ہیں۔وہ اگر دو ناجائز کام اُن کے کہنے پر کرتا ہے تو دس اپنے بھی نکالتا ہے۔اگر تو یہی نظام پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی چلنا ہے تو پھر تبدیلی کے نعرے کو دفن کر دینا چاہئے۔ارکان اسمبلی اپنے حلقے میں پسند کا پولیس افسر لگوانے کی بجائے اچھا اور ایماندار افسر لگانے کا تقاضا کریں۔اگر بُرا افسر تعینات ہو گیا تو اُس کی برائیوں کے ثبوت دے کر افسران سے اُس کی شکایت کریں۔وہ نہ کریں جو پچھلے دور میں ہوتا رہا ہے۔

ارکان اسمبلی نے چُن چُن کر ایسے افسران لگوائے جو بُری شہرت کے حامل ہوتے۔ مقصد یہی ہوتا تھا کہ وہ تعینات ہوں گے تو جائز و ناجائز طریقے سے علاقے میں دھاک بٹھانا آسان ہو گا۔مَیں سمجھتا ہوں اگر پولیس میں لمبی چوڑی اصلاحات نہ بھی کی جائیں تو بھی ایک اچھی پولیسنگ دی جا سکتی ہے،جس طرح آئی جی امجد جاوید سلیمی یہ ٹاسک لے کر آئے ہیں کہ پنجاب میں پولیس کی کارکردگی اور امیج کو بہتر بنانا ہے،اُسی طرح سیاسی نمائندے بھی یہ تہیہ کر لیں کہ پولیس کو اپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کرنا،کسی بے گناہ کو پکڑنے کے لئے پولیس پر دباؤ نہیں ڈالنا اور کسی مجرم کو چھوڑنے کے لئے اثرو رسوخ کو بروئے کار نہیں لانا۔

یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی پولیس کی اصلاح میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں،مگر افسوس اِن پر توجہ نہیں دی جاتی۔نئے آئی جی صاحب پولیس والوں کو بہت سی سہولتیں دینا چاہتے ہیں،جو لوگ نجی محفلوں میں اُن کے خیالات سُن چکے ہیں ،انہیں علم ہے کہ وہ اپنی فورس کے بڑے اچھے وکیل ہیں اور اپنے افسروں اور جوانوں پر سخت ڈیوٹی اوقات کی وجہ سے پڑنے والے بوجھ سے آگاہ ہیں۔ امید کی جانی چاہئے کہ پنجاب میں پولیسنگ کا نظام تبدیل ہو گا اور تھانہ کلچر سے لے کر سی پی او آفس تک ایک واضح تبدیلی نظر آئے گی۔

مزید :

رائے -کالم -