کیس مینجمنٹ پالیسی پر کام کر رہے ہیں، وکلاء سب سے ذہین طبقہ، مذاکرات سے تمام مسائل حل کرینگے ، نامزد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

کیس مینجمنٹ پالیسی پر کام کر رہے ہیں، وکلاء سب سے ذہین طبقہ، مذاکرات سے تمام ...

  

 لا

ہور(نامہ نگارخصوصی)نامزد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس انوارالحق نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے وکلاء کے بارے میں ہمارے معاشرے کا تاثردرست نہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وکلاء معاشرے کا سب سے زیادہ ذہین اورپڑھا لکھا طبقہ ہے ،یہ تمام اداروں میں سب سے زیادہ اچھا کام کررہے ہیں ۔وہ گزشتہ روز پنجاب بارکونسل کے زیراہتمام بین الصوبائی بارکونسلز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔نامزد چیف جسٹس انوارالحق نے کہا کہ مذاکرات تمام مسائل کا حل ہیں ،اس اصول کے تحت وکلاء کے تمام مسائل کو حل کریں گے۔وکلاء کے مسائل کو سمجھتا ہوں، وکلاء کو سائلین کو انصاف کی فراہمی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بلوچی ،سندھی یا پنجابی، یا کوئی اورنہیں ہماری سوچ کا محور صرف پاکستان ہے۔تمام صوبوں کے وکلاء کوایک دوسرے کے ساتھ باہمی رابطوں کو بڑھانا ہوگا، آپس میں میل جول سے دوریاں کم ہوتی ہیں۔پنجاب بار کونسل کے زیراہتمام بین الصوبائی بارکانفرنس میں چاروں صوبائی بار کونسل ،آزاد کشمیر بار اور اسلام آباد بار کونسلز کے نمائندے شریک ہوئے، پنجاب بار کونسل کے نمائندوں میں جام یونس ، بشریٰ قمر ، رانا انتظار حسین ، چودھری داؤد وینس ، ممبر پنجاب بار غلام مصطفی جونی، فرح اعجاز بیگ ، شیخ عبدالغفار سمیت دیگر شریک ہوئے۔ وکلاء نمائندوں نے پاکستان بھر کی صوبائی بار کونسل کے درمیان بہتر رابطے اور یکساں بار کونسل پالیسی ، عدالتی اور ملکی صورت حال کے حوالے سے اظہار خیال کیا گیا، تقریب کے آخر میں نامزد چیف جسٹس محمد انوارالحق نے کانفرنس میں شریک وکلاء نمائندوں میں شیلڈز تقسیم کیں۔

نامز د چیف جسٹس

لاہور (نامہ نگار خصوصی)نامزد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد انواالحق نے کہا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں اہم فیصلے کریں گے،بار کے ساتھ ہم آہنگی جسٹس سسٹم کی مضبوطی ہے،بار کے مضبوط تعاون سے لوگوں کو جلد انصاف ملے گا،لاہور ہائی کورٹ بار کے صدرانوار الحق پنوں کو جسٹس ہائیکورٹ کیلئے نامزد کیا گیا ہے،پہلی بار کسی بار کے صدر کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹرمحمد یاور علی اوراپنے اعزاز میں دیئے گئے اعشائیہ کے موقع پر کیا۔نامزد چیف جسٹس مسٹر جسٹس انوارحق نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہمیں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد یاورعلی کو الوداع کرنا ہے،میں نے اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد یاور علی نے ایک ساتھ ہی حلف لیا تھا ،چیف جسٹس محمد یاور علی کے ساتھ 9 سال گزارے ہیں،نامزد چیف جسٹس نے مزید کہا کہ موجودہ مسائل کے حل کے لئے کام کریں گے،کیس مینجمنٹ پالیسی پر کام کرناضروری ہے،کیس مینجمنٹ کے حوالے سے بار کی شکایات بھی دور کریں گے ،آنے والے چند دنوں میں اہم فیصلے کریں گے،یہ بات سن کر افسوں ہوتا کہ قیدی کہتا ہے کاش مجھے عمر قید کی بجائے سزائے موت ہو جاتی ،ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ کے حوالے سے تبدیلی لائیں گے،ہائیکورٹ میں سینئر ججوں پر مشتمل فل 3بنچ قائم کئے جائیں گے،بار کے ساتھ مل کر کام کریں گے،نامزد چیف جسٹس نے کہا کہ صدر ہائیکورٹ بار انوار الحق پنوں کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس کے لئے نامزد کیا گیا ہے،پہلی بار کسی بار کے صدر کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا،بار کے ساتھ ہم آہنگی جسٹس سسٹم کی مضبوطی ہے،بار کے مضبوط تعاون سے لوگوں کو جلد انصاف ملے گا۔تقریب میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس امیر بھٹی ،جسٹس علی باقر نجفی ،جسٹس شاہد وحید، جسٹس شاہد بلال، جسٹس اطہر محمود، جسٹس چودھری شہرام سرور،جسٹس مامون رشیدشیخ، جسٹس ساجد محمود سیٹھی، جسٹس جواد حسن اورجسٹس امیر بھٹی سمیت دیگر جسٹس صاحبان کے علاوہ سیشن جج لاہورعابد حسین قریشی ، بار کے عہدیداران اور وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی جنہوں نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد یاور علی کی خدمات کو سراہا۔

مزید :

صفحہ آخر -