چین 2020 تک مصنوعی چاند بنائے گا

چین 2020 تک مصنوعی چاند بنائے گا

  

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے ایک شہر نے اگلے دو سال میں ایسا مصنوعی چاند بنانے کا اعلان کیا ہے جو راتوں میں چاند کی طرح دھیمی روشنی فراہم کرے گا۔چین کے جنوب مغربی شہر چینگ دو کی انتظامیہ نے سائنس فکشن جیسی فلموں کی طرح ایک اعلان کرکے دنیا کو حیران کردیا ہے جس کے تحت وہ مصنوعی چاند یا چمکنے والا سیٹلائٹ بنائے گی۔ سیٹلائٹ عام چاند کے مقابلے میں 8 گنا زائد روشنی خارج کرے گا جس کے بعد سڑکوں کی روشنیوں کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔ابتدائی اندازوں کے مطابق انسانی چاند 10 سے 80 کلومیٹر قطر کے علاقے کو روشن کرسکے گا۔ اسے چینگ دو ایئرواسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی مائیکروالیکٹرانکس سسٹم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے تیار کیا ہے۔ چینی ذرائع نے بتایا کہ دمکنے والا سیٹلائٹ کئی برس قبل تیار ہوا تھا اور اب وہ آزمائشی مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔چینی سائنسدانوں نے سولر پینل جیسے آئینوں پر خاص قسم کی کوٹنگ کی ہے جو سورج کی روشنی کو انتہائی درجے تک منعکس کرکے چینگ دو شہر کی جانب بھیجے گی۔ یہ سیٹلائٹ چین کے قریب رہتے ہوئے مدار میں گردش کرے گا اور خود چین کی سرزمین سے بھی آسمان پر دمکتا دکھائی دے گا۔ لیکن اس کے راکٹ اور خلائی منصوبے کی کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔

مصنوعی چاند

مزید :

صفحہ آخر -