قابض فوج کے ہاتھوں بارہ مولا ، بونیار میں5نوجوان شہید

قابض فوج کے ہاتھوں بارہ مولا ، بونیار میں5نوجوان شہید

  

سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) شمالی کشمیر کے بارہ مولا ضلع میں دو الگ الگ واقعات میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید نوجوانوں کی تعداد5 ہو گئی ہے ۔ پہلے واقعے میں اوڑی سیکٹر کے بونیار علاقے میں فوج نے تلاشی آپریشن کے دوران 4نوجوانوں کو درانداز قرار دے کر شہید کر دیا بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے میڈیا کو بتایا کہ اوڑی سیکٹر میں دراندازی کی کوشش میں 3نامعلوم عسکریت پسند مارے گئے ان سے گولہ بارود بھی ملا ہے۔ جمعہ کے روز دوسرے واقعے میںKralhaar علاقے میں مزید دو نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا۔ بارہ مولا سری نگر ہائی واے پر سی آر پی ایف نےKralhaar علاقے میں ایک گاڑی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں دو نوجوان مارے گئے۔ جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے علاقے ٹہاب میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں بھارتی فوج کی ایک گاڑی تباہ جبکہ 7اہلکار زخمی ہو گئے پلوامہ ٹہاب روڑ پر ترچھل پل کے قریب بھارتی فوج کی 55آر آر کی ایک کیسپر گاڑی بچھائی گئی بارودی سرنگ کی زد میں آگئی، جس کے نتیجے میں گاڑی کو شدید نقصان ہوا جبکہ 7اہلکار زخمی ہوئے۔زور دار دھماکہ سے پورا علاقہ دہل اٹھا۔ دھماکہ کے فورا بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا جو قریب 20منٹ تک جاری رہا۔اس کے بعد علاقہ کو سیل کیا گیا اور تلاشیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے بھارتی فوج کی طرف سے شہادتوں میں اضافے کیخلاف عوام کو احتجاج سے روکنے کیلئے سرینگر میں پابندیاں عائد رہیں کردی ہیں۔نوہٹہ ،خان یار، رینا واڑی، ایم آر گنج، سفاکدل اور محصومہ کے علاقوں میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں، بھارتی ریزو پولیس فورس اور پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔ قابض انتظامیہ نے طلبہ کے احتجاج کو روکنے کیلئے سکول اور کالج بھی بند کردئیے ہیں، کشمیر یونیورسٹی کی کلاسیں بھی بند کردی ہیں۔ نماز جمعہ کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جمعہ کے روز زبردست احتجاجی مظاہرے کیے گئے ۔ خانیار میں ناکہ بندی کے بیچ نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کیاجس کے دوران فورسز کے ساتھ آمنا سامنا ہونے کے ساتھ ہی سنگبازی کا سلسلہ شروع ہوا۔ فورسز نے مطاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس گولے داغے۔نوجوانوں نے فورسز پر ہر چہار سو سے حملہ کرتے ہوئے خشت باری کی جس کے جواب میں فورسز نے ٹیر گیس گولوں کی بارش کی۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ ٹیر گیس کا دھواں انکے گھروں میں بھی داخل ہوا جس کی وجہ سے مکینوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔خانیار میں وقفہ وقفہ سے شام دیر گئے تک طرفین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ادھر نور باغ میں بھی نوجوانوں نے فورسز کو نشانہ بناتے ہوئے سنگبازی کی جس کے جواب میں فورسز نے ٹیر گیس کے گولوں کا استعمال کیا۔علاقے میں بھی شام تک وقفہ وقفہ سے طرفین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔پائین شہر کے چھتہ بل،بمنہ، صفاکدل، ملک صاحب،ناؤ پورہ اور دیگر علاقوں میں بھی فورسز اور نوجوانوں کے درمیان سنگبازی و جوابی سنگبازی اور ٹیر گیس کا سلسلہ جاری رہا۔ادھر شہر خاص کے کئی علاقوں میں جمعرات شام کو جب دن بھر تعینات رہنے کے بعد فورسز کیمپوں کا واپسی کا راستہ لے رہے تھے تو نوجوانوں نے ان پر پتھراؤ کیاجس کے جواب میں فورسز نے ٹیر گیس کے گولے داغے اس موقع پر تعلیمی ادارے بند رہے ۔مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ہزاروں لوگوں نے کرفیوجیسی پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بھارتی ریاستی دہشت گردی کا تازہ شکار ہونے والے نوجوان شہید شوکت احمد بٹ کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔شوکت احمد بٹ کو جنہوں نے کشمیر یونیورسٹی سے فارمیسی میں گریجویشن کی تھی بھارتی فوجیوں نے پلوامہ کے علاقے کاکہ پورہ میں شہید کر دیا تھا۔بھارتی فورسز نے شہید نوجوان کی نماز جنازہ میں شرکت سے روکنے کیلئے انکے آبائی گاؤں پدگام پورہ کی طرف جانے والے تمام راستے سیل کررکھے تھے۔شہید نوجوان کو بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعروں کی گونج میں سپرد خاک کیاگیا۔ اس موقع پر پاکستان کے پرچم بھی لہرائے گئے۔نوجوان کی شہادت پر جامعہ کشمیر سرینگر میں طلبا نے زبردست مظاہرہ کیا۔ طلبا نے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے حضرت بل کے علاقے میں قائم یونیورسٹی کیمپس میں احتجاجی مارچ کیا ۔

کشمیرشہادتیں

مزید :

صفحہ اول -