پانی کی اہمیت سے انکار ناممکن : صدر مملکت ، اقدامات نہ کیے تو خشک سالی کا سامنا کرنا پڑیگا : چیف جسٹس

پانی کی اہمیت سے انکار ناممکن : صدر مملکت ، اقدامات نہ کیے تو خشک سالی کا ...

  

اسلام آباد (آن لائن) صدر مملکت عارف علوی نے سپریم کورٹ اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے اشتراک سے پانی کو محفوظ بنانے کے عنوان سے منعقدہ 2 روزہ سیمپوزیم کے افتتاحی سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کی اہمیت سے انکار ناممکن ہے۔ قدرت کی طرف سے ہر طرح کا سازگار ماحول فراہم کرنے کے باوجود اپنی ضروریات کے مطابق پانی کا محفوظ نہ بنا سکنے کا عمل ہماری نالائقی کے سواء کچھ نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آنیوالی نسلوں کو پانی کی اہمیت سے روشناس کرانے کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل اس مسئلے کو بطور مضمون نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ ہمیں مستقبل میں پانی کی کمی کے مسائل سے نمٹنے کیلئے صوبوں اور دیگر ممالک سے ہم آہنگی پیدا کرنا ہوگی۔ پارلیمان سے اپنے خطاب میں بھی اس معاملے کو اٹھا چکا ہوں اور اس انڈس بیسن واٹر ٹریٹری میں ذاتی طور پر چند خدشات رکھتا ہوں۔ نیشنل واٹر پالیسی بن چکی ہے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ دنیا کے مقابلے میں اپنے ماحول کو محفوظ بنانے کیلئے قانون سازی کریں۔ موجودہ حکومت نے گزشتہ دورانیہ میں ایک بلین ٹری سونامی کی کامیاب مہم کے بعد اب ملک بھر میں دس بلین ٹری سونامی مہم شروع کردی ہے جس سے وطن عزیز میں موجود ماحولیاتی آلودگی پر کافی حد تک قابو پالیا جائے گا۔ انہوں نے کہ اکہ دفتر خارجہ کو اس اہم معاملہ پر پڑوسی ممالک سے دو طرفہ بات چیت کا عمل آگے بڑھانا چاہیے۔ اور اس حوالے سے بہتر کام کررہا ہے۔ اس موقع پر کوئی مایوسی والی بات کرنے کی بجائے اپنی قوم کو یہ بتانے میں خوشی محسوس کروں گا کہ پاکستانی قوم متحد ہوکر کسی بھی بڑے سے بڑے مسئلے سے نبرددازما ہونے کی اہلیت رکھتی ہے۔

صدر مملکت

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) پانی جیسی عظیم نعمت کو محفوظ بنانے کیلئے سپریم کورٹ کے زیر اہتمام دو روزہ کانفرنس سے خطاب کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ مستقبل میں پاکستان آبی قلت کا شکار ہوسکتا ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی ہدایت پر پاکستان لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے زیر اہتمام ہونے والی اپنی نوعیت کی اس پہلی کانفرنس کا افتتاح صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کیا، جس کی سربراہی چیف جسٹس کر رہے ہیں۔ پانی بحران سے متعلق بین الاقوامی سمپوزیم سے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سمپوزیم میں شرکت پر صدر مملکت کے شکر گزار ہیں، صدر مملکت عمرہ ادائیگی کے لیے جا رہے تھے، ہماری درخواست پر انہوں نے اپنا شیڈول تبدیل کیا۔ کانفرنس سے خطاب میں جسٹس ثاقب نثار نے پانی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پانی کے بغیر زندگی کا وجود ناممکن ہے، انسان خوراک کے بغیر تو زندہ رہ سکتا ہے لیکن پانی کے بغیر نہیں۔چیف جسٹس نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ پاکستان کے آبی ذخائر خطرناک حد تک کم ہوچکے ہیں اور مستقبل میں ملک آبی قلت کا شکار ہوسکتا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آبی ذخائر میں اضافے کے لیے عدلیہ بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے، لیکن آبی پالیسی کے نفاذ میں انتظامیہ کا کلیدی کردار ہے۔انہوں نے پاکستان کو قلتِ آب سے نمٹنے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بڑے ڈیموں کی تعمیر کیلئے سرمایہ نہیں، اس لیے ڈیم فنڈ قائم کیا۔جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ماضی میں پانی کے ذخائر میں اضافے پر توجہ نہیں دی گئی، لیکن ہمیں اپنی قوم کو خشک اور قحط سالی سے بچانا ہوگا اور پانی کے استعمال میں بھرپور احتیاط اور کفایت شعاری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔آبی ذخائر کے حوالے سے اس کانفرنس میں غیر ملکی آبی ماہرین بھی شریک ہیں، جو کم مدت میں پانی کے ذخائر کی تعمیر کے حوالے سے اپنی تحقیقی خدمات کے بارے بتائیں گے۔اس کانفرنس کے مجموعی طور پر 5 سیشنز ہوں گے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار

مزید :

صفحہ اول -