خشوگی مر چکے ، سعودیہ ذمہ دار، صدر ٹرمپ

خشوگی مر چکے ، سعودیہ ذمہ دار، صدر ٹرمپ

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاپتہ سعودی صحافی کے معاملے پر شدید انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے اب انہیں یقین ہوگیا ہے جمال خشوگی مرچکے ہیں اور سعودی عرب کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافی کے سوال کہ کیا آپ کو یقین ہے 2 ہفتوں سے زائد سے لاپتہ سعودی صحافی اب زندہ نہیں ہیں؟ پر کہا ’ یقینی طور پر مجھے ایسا لگتا ہے اور یہ بہت افسوس کی بات ہے۔سعودی عرب کو ممکنہ طور پر امریکی جواب پر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت لہجے میں کہا ’ہمیں بہت شدید جواب دینا پڑے گا اور یہ بہت برا اور بدتر ہوگا۔ دوسری طرف امریکہ نے سعودی صحافی جمال خشوگی کی گمشدگی کے معاملے پر سعودی عرب میں ہونیوالی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد کانفرنس خطرے میں پڑ گئی امریکی وزیر خزانہ اسٹیفن میوچن نے سوشل میڈیا پر اپنے ٹوئٹ میں کہا امریکی صدر ٹرمپ اور وزیرخارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں فیصلہ کیا گیا میں سعودی عرب میں آئندہ ہفتے ہونیوالی کانفرنس میں شرکت نہیں کروں گا۔امریکی میڈیا کے مطابق آئی ایم ایف چیف اور فرانسیسی وزیر بھی سعودی عرب میں ہونیوالی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔دوسری جانب فرانسیسی وزیر اقتصادیات برونو لی میری نے بھی کانفرنس میں شرکت کیلئے سعودی عرب نہ جانے کا اعلان کیا ان کا کہنا تھا موجودہ حالات مجھے ریاض جانے کی اجازت نہیں دیتے‘ اس کیساتھ انہوں نے بھی صحافی کی گمشدگی کو انتہائی سنگین معاملہ قرار دیا۔قبل ازیں امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے امریکہ کے جواب سے متعلق کہا تھا انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو کہا ہے تحقیقات مکمل کرنے کیلئے سعودی عرب کو مزید کچھ دن دینے چاہئیں‘۔ جبکہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا جمال خشوگی کے معاملے پر امریکی حکمران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے قریبی انٹیلی جنس عہدیدار جنرل احمد الاسیری پر الزام لگا سکتے ہیں۔اس حوالے سے مائیک پومپیو نے گزشتہ روز اپنے بیان میں سعودی عرب کیساتھ واشنگٹن کے اسٹریٹجک تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا سعودی عرب انسداد دہشت گردی میں ہمارا اہم ساتھی ہے اور ہمیں یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس کے پاس دو مقدس مقامات کا کنٹرول بھی ہے‘۔ جمال خشاگی اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں کا مرکز بنے جب 2 اکتوبر کووہ ترکی میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل تو ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے بارے میں خیال کیا جانے لگا انہیں قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا ہے۔صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔تاہم ترک ذرائع نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خشوگی کو سفارت خانے کے اندر قتل کیا گیا۔سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔سعودی حکام نے ترک ذرائع کے دعوے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمال لاپتہ ہونے سے قبل سفارتخانے کی عمارت سے باہر جا چکے تھے۔تاہم 12 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے 5 شاہی خاندان کے افراد گزشتہ ہفتے سے غائب ہیں۔اس کے بعد جمالخشوگی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ خشوگی کی صحافت سعودی حکومت کے لیے بڑا خطرہ نہیں تھی، لیکن ان کے خفیہ ایجنسی کے ساتھ تعلقات تھے جس کی وجہ سے انہیں بعض اہم معاملات سے متعلق علم تھا۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2 اکتوبر کو جب صحافی جمال خشوگی استنبول کے سعودی قونصلیٹ میں داخل ہوا تو وہاں 15 سعودی ایجنٹ پہلے سے ہی اس کے منتظر تھے اور انہوں نے منٹوں کے اندر اسے ہلاک کر ڈالا۔ سفاک ایجنٹوں نے اس کا سر کاٹا اور جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کیے اور اپنا کام مکمل کرنے کے بعد وہ دو گھنٹوں کے اندر قونصلیٹ کی عمارت سے چلے گئے۔ایک سینئر ترک عہدے دار نے بدھ کے روز بتایا کہ قونصلیٹ کی آڈیو ریکارڑنگ سے کئی چیزوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ مثلاً یہ کہ ہلاک کرنے سے پہلے خشوگی پر شدیدد تشدد کیا گیا اور ان کی انگلیاں تک کاٹ دی گئیں۔ترک میڈیا کے مطابق سعودی ایجنٹ خشوگی سے سوال جواب کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر سفاکانہ تشدد بھی کر رہے تھے جس دوران اس کی انگلیاں کاٹ دی گئیں۔ایک ترک عہدے دار نے نیویارک ٹائمز کو تصدیق کی کہ آڈیو ریکارڑنگ میں قونصلیٹ کے عہدے دار کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ یہ کام باہر جا کر کرو۔ تم مجھے مصیبت میں ڈال دو گے۔آڈیو میں ایک ایجنٹ کا یہ جملہ بھی سنا جا سکتا ہے کہ اگر تم واپس سعودی عرب جا کر رہنا چاہتے ہو تو اپنا منہ بند رکھو۔آڈیو سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ خشوگی کو قونصلیٹ کے اندر ایک دوسرے کمرے کی جانب زبردستی دھکیلا گیا۔ اس دوران اس نے مزاحمت کی جس پر اسے کسی نامعلوم چیز کا انجکشن لگایا گیا۔خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ریاض سے استنبول آنے والی سعودی ایجنٹوں کی ٹیم کے ساتھ ایک ڈاکٹر بھی تھا۔ جس نے خشوگی کا سر کاٹ کر الگ کیا۔ اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کیے اور پھر سعودی ٹیم کو یہ ہدایت دی کہ وہ اپنا تناؤ کم کرنے کے لیے میوزک سنیں۔ ڈاکٹر نے خود ہیڈ فون لگایا ہوا تھا۔ایک صحافی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ڈاکٹر نے جب خشوگی کا جسم کاٹنا شروع کیا تو وہ اس وقت تک زندہ تھا۔ترک قدامت پسند اخبار ’ینی شفق‘ نے بھی اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے وائس ریکارڈنگ سنی ہے جس میں جمال کو تفتیش کے دوران تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے سنا گیا اور پہلے ان کی انگلی کاٹی گئی بعدازاں زندہ ہی ٹکڑوں میں تبدیل کردیا گیا۔رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ 7 منٹ کے اندر جمال خشوگی کی موت واقع ہوگئی، انہیں سعودی قونصلر کے آفس کے برابر میں موجود لائبریری میں لایا گیا اور اسٹڈی ٹیبل پر لٹا کر کوئی بے ہوشی کا انجیکشن لگایا گیا جس کے بعد ان کی آوازیں بند ہوگئیں۔ترک اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی جنرل سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ میں فرانزک شواہد کے ہیڈ صلاح محمد الطوبی نے مبینہ طور پر ان کے جسم کو ٹکڑوں میں تبدیل کرنا شروع کیا تھا۔بعد ازاں گزشتہ روز سعودی عرب کے جلاوطن شہزادے خالد بن فرحان السعود نے الزام لگایا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی مبینہ گمشدگی کے پیچھے ولی عہد محمد بن سلمان کا ہاتھ ہے اور سعودی حکمراں کسی نہ کسی پر الزام دھرنے کے لیے 'قربانی کا کوئی بکرا' ڈھونڈ ہی لیں گے۔دوسری طرف امریکہ نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر سعودی عرب میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد کانفرنس خطرے میں پڑ گئی امریکی وزیر خزانہ اسٹیفن میوچن نے سوشل میڈیا پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ اور وزیرخارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ میں سعودی عرب میں آئندہ ہفتے ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہیں کروں گا۔امریکی میڈیا کے مطابق آئی ایم ایف چیف اور فرانسیسی وزیر بھی سعودی عرب میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔دوسری جانب فرانسیسی وزیر اقتصادیات برونو لی میری نے بھی کانفرنس میں شرکت کے لیے سعودی عرب نہ جانے کا اعلان کیا ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات مجھے ریاض جانے کی اجازت نہیں دیتے‘ اس کے ساتھ انہوں نے بھی صحافی کی گمشدگی کو انتہائی سنگین معاملہ قرار دیا۔فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے نتائج آنا باقی ہیں چناچہ فرانس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اعلیٰ سطح پر کانفرنس میں اپنی نمائندگی کرے۔ادھر نید رلینڈ کے وزیر خزانہ ووپکے ہوکسٹرا نے بھی کانفرنس میں نہ جانے کا اعلان کیا جبکہ وہ سعودی عرب سے دسمبر میں طے شدہ تجارتی وفد کی ملاقات بھی منسوخ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ادھر ترکی نے ایک جنگل میں مبینہ طور پر قتل کیے گئے صحافی جمال خاشقجی کی لاش کی تلاش کا آغاز کردیا ہے۔عالمی میڈیا کے مطابق ترکی نے سعودی صحافی کے مبینہ قتل اور لاش کے ٹکڑے کر کے استنبول کے باہر گھنے جنگل یا کھیتوں میں چھپائے جانے کی اطلاعات کے بعد جنگل میں لاش کی تلاش کا آغاز کردیا ہے۔ترکی کی تحقیقاتی ٹیم کو لاپتہ صحافی کے مبینہ قتل سے متعلق اہم شواہد ملے تھے جبکہ تازہ شواہد میں جمال خاشقجی کی لاش کو گھنے جنگل یا کھیت میں ٹھکانے لگائے جانے کے اشارے ملتے ہیں جس پر تحقیقات کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔

ٹرمپ

مزید :

صفحہ اول -