خیبر پختونخوا کی ’’غیر سیاسی پولیس ‘‘ اور پنجاب کی ’’سیاسی پولیس کے‘‘ کردار میں یکسانیت

خیبر پختونخوا کی ’’غیر سیاسی پولیس ‘‘ اور پنجاب کی ’’سیاسی پولیس کے‘‘ ...
خیبر پختونخوا کی ’’غیر سیاسی پولیس ‘‘ اور پنجاب کی ’’سیاسی پولیس کے‘‘ کردار میں یکسانیت

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے، پنجاب میں ایک وزیراعلیٰ ہوتے تھے سردار عارف نکئی، ان کی وزارت علیا کا قصہ بڑا دلچسپ ہے، ان سے پہلے پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں منظور احمد وٹو تھے، جنہوں نے اپنی جماعت کے محض 18 ارکان کی حمایت سے یہ عہدہ حاصل کیا ہوا تھا، وجہ اس کی یہ تھی کہ پیپلز پارٹی اس ایوان کی سب سے بڑی پارٹی تھی لیکن سادہ اکثریت سے محروم تھی اور اپنی اکثریت کے بل بوتے پر وزارت نہیں بنا سکتی تھی، دوسری بڑی جماعت اس وقت مسلم لیگ (ن) تھی، جس کے ساتھ پیپلز پارٹی کی بنتی نہیں تھی۔ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ج) کے ساتھ مل کر صوبائی حکومت بنانے کا فیصلہ کیا، جس کے سربراہ اس وقت چودھری حامد ناصر چٹھہ تھے، جو وفاق میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت میں شریک تھے۔ پنجاب میں میاں منظور احمد وٹو کی شرط یہ تھی کہ مخلوط حکومت کی صورت میں وزیراعلیٰ وہ خود ہوں گے۔ پیپلز پارٹی کو مجبوراً یہ شرط قبول کرنا پڑی، کیونکہ ان 18 ارکان کی حمایت کے بغیر پنجاب میں پیپلز پارٹی کی حکومت نہیں بن سکتی تھی۔ میاں منظور احمد وٹو کی کابینہ میں سینئر وزیر ملک مشتاق احمد اعوان تھے، غالباً ان کا خیال تھا چونکہ ان کی پارٹی بڑی ہے، اس لئے چھوٹی پارٹی کے وزیراعلیٰ ان سے دب کر رہیں گے اور عملاً وہی سب کچھ ہوں گے، لیکن معاملہ برعکس تھا۔ کہنے کو تو مشتاق اعوان سینئر وزیر تھے لیکن انہیں اور پیپلز پارٹی کو شکایت رہتی کہ وزیراعلیٰ ان کی بات نہیں سنتے۔ وہ وقتاً فوقتاً اپنی شکایت لے کر اپنی پارٹی کی قائد (اور وزیراعظم) بینظیر بھٹو کے پاس جاتے، وہ حامد ناصر چٹھہ کو بلاتیں، معاملات زیر بحث آتے۔ میاں منظور احمد وٹو کو پیپلز پارٹی کا خیال رکھنے کے لئے کہا جاتا لیکن تھوڑے تھوڑے وقفے سے پھر شکایت پیدا ہوتی اور پھر یہ سارا عمل دہرایا جاتا، پیپلز پارٹی چاہتی تھی کہ وزیراعلیٰ ان کی جماعت سے ہو اور مسلم لیگ (ج) جونیئر پارٹنر بن کر رہے، لیکن میاں منظور احمد وٹو کی موجودگی میں ایسا نہ ہوسکا۔ بالآخر روز روز کی شکایتوں سے تنگ آکر فیصلہ ہوا کہ مسلم لیگ (ج) اپنے ارکان میں سے کسی بھی دوسرے رکن کو وزیراعلیٰ بنا لے لیکن میاں منظور احمد وٹو کو ہٹا دیا جائے۔ یوں میاں منظور احمد وٹو کی جگہ سردار عارف نکئی وزیراعلیٰ بنا دئیے گئے۔ چونکہ یہ ان کا وزارت علیا کا پہلا تجربہ تھا، اس لئے انہیں بعض مشکلات بھی پیش آئیں۔ ایک بار یوں ہوا کہ ان کے کسی دوست کو پولیس پکڑ کر تھانے لے گئی تو سردار صاحب اس پر اتنے غصے میں آئے کہ خود چل کر متعلقہ تھانے پہنچ گئے اور پولیس کو ڈانٹ ڈپٹ کر اپنے دوست کو اپنے ساتھ لے آئے۔ ویسے بہتر طریقہ تو یہ تھا کہ وہ آئی جی کو حکم دیتے اور وہ ان کے دوست کو چھڑا کر لے آتا لیکن انہوں نے ’’راست اقدام‘‘ کیا اور اپنا بندہ خود چھڑا کر لے آئے۔ یہی پنجاب پولیس ہے جس کے بارے میں پروپیگنڈہ کیا گیا ہے کہ وہ سیاسی اثرات کے تحت کام کرتی ہے۔ سردار عارف نکئی کی یاد ہمیں اس وقت بھی آئی تھی جب سردار عثمان بزدار نے ڈی پی او پاکپتن کو اپنے دفتر میں بلا کر ان کی اپنے دوست سے بات کرائی تھی اور ان کے دوست نے ڈی پی او کو براہ راست حکم دے دیا تھا کہ وہ پاک پتن میں فرید مانیکا سے جاکر معافی مانگیں ورنہ وہ پاکپتن میں نہیں رہیں گے۔ انہوں نے معذرت نہ کی، نتیجے کے طور پر انہیں رات ایک بجے تبدیل کر دیا گیا۔ یہ معاملہ اب نپٹ چکا ہے، لیکن ڈی پی او پاک پتن کو ابھی تک واپس پوسٹ نہیں کیا گیا، شاید کہیں اور کر دیا گیا ہو یا وہ ابھی تک پوسٹنگ کے منتظر ہوں۔ آج سردار عارف نکئی کی یاد ایک اور حوالے سے آگئی اور یہ واقعہ خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ محمود خان کے اپنے ضلع سوات میں ہوا ہے۔ کے پی کے پولیس کے بارے میں شنید ہے کہ وہ غیر سیاسی ہوچکی ہے، لیکن وہاں وزیراعلیٰ نے نہیں، ان کے بھائی نے جو سوات کے تحصیل ناظم ہیں، سردار عارف نکئی کا ریکارڈ برابر کر دیا۔ گویا یہ ثابت کر دیا کہ کم از کم اس معاملے میں پنجاب اور کے پی کے پولیس ایک ہی مقام پر کھڑی ہیں۔ تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ ایس ڈی پی او مٹہ کو ایک درخواست دی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایک شخص عرفان اللہ نے جعلی چیک دیا ہے، اس درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے اے ایس آئی نے عرفان اللہ کو تھانے بلایا، جہاں وزیراعلیٰ کے بھائی پہلے ہی پہنچ چکے تھے، وہ عرفان اللہ کو یہ کہتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے کہ روک سکتے ہو تو روک لو۔ واقعہ کے دوسرے روز ڈی آئی جی مالاکنڈ ڈویژن سعید وزیر نے اے ایس آئی کا تبادلہ اپر دیر کر دیا۔ ڈی آئی جی کا موقف ہے کہ اے ایس آئی امجد عرفان اللہ کے خلاف پارٹی بن گئے تھے، اس لئے انہیں تبدیل کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کے بھائی عبداللہ خان نے اس سارے معاملے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔ تاہم اے ایس آئی کا تبادلہ تو ہوا ہے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ کے بھائی تھانے میں پہلے ہی آگئے تھے اور وہ جعلی چیک کے ملزم کو اپنے ساتھ لے گئے۔ یہ واقعہ اگر پنجاب میں ہوتا تو کہا جاتا کہ پنجاب کی پولیس سیاست کے زیر اثر ہے، اس لئے یہ واقعہ ہوا، لیکن صوبہ خیبر پختونخوا کی ’’غیر سیاسی پولیس‘‘ کے ایسے اقدام کو کیا کہا جائے؟

مزید :

تجزیہ -