تور ڈھیر،گدون لیبر فیڈریشن کا تنخواہوں کی بندش کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

تور ڈھیر،گدون لیبر فیڈریشن کا تنخواہوں کی بندش کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

  

تورڈھیر(نمائندہ خصوصی)گدون لیبر فیڈریشن کے زیراہتمام چار مہینوں کی تنخواہوں سے محروم سینکڑوں محنت کشوں کا احتجاجی مظاہرہ گزشتہ روز گدون انڈسٹرئیل سٹیٹ میں ہوا ، مظاہرین نے روڈ نمبر 4 سے نکل کر خیبر سپننگ ملز کا ٹھیکدار محمد بلال مردہ باد، ہمیں جینے کا حق دو، ٹھیکداری نظام ختم کرو، ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے، معاشی قتل عام بند کرو،گدون انڈسٹرئیل سٹیٹ کے صنعتکار مردہ باد جیسے نعرے لگاتے ہوئے کیمپ مارکیٹ پہنچ کر دھرنا دیاجہاں پرلیبر فیڈریشن کے صدر نور محمد جدون ، لعل محمد بہار ،جنرل سیکرٹری شیر اعظم خان جدون ، احسان وکیل اور دیگرنے مظاہرین سے اپنے اپنے خطاب میں حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر سپننگ ٹیکسٹائل ملز کے ساڑھے چارسو مزدووں کو انکی چارماہ کی مجموعی تنخواہ70 لاکھ روپے سے زائدرقم فرارٹھیکدارمحمدبلال سے وصول کراکے دلایا جائے، فیبر ی ٹیکس ٹیکسٹائل ملز کے محنت کشوں کی خون پسینے کی ڈوبی ہوئی کمائی 25 لاکھ روپے بھی دلائے جائے،لیبر آفیسر سمیت 8 خالی آسامیاں فوری پُرکراکے اسسٹنٹ ڈائریکٹرکا آفس جلد گدون منتقل کیا جائے، ورکنگ فوکس گرائمر سکول کے انتظامیہ کا قبلہ درست کیا جائے جس کیلئے لیبرفیڈریشن کے رہنماؤں نے حکومت اورمتعلقہ حکام کو تین یوم کی مہلت دیتے ہوئے شنوائی نہ ہونے کی صورت میں صوابی کا مین چوک بند کراکے احتجاج کرنے اورپشاورپریس کلب کے سامنے جاکر مسئلہ حل ہونے تک دھرنا دینے کی دھمکی بھی دیدی انکامزید کہنا تھا کہ خیبرسپننگ ملزکا ظالم ٹھیکدار محمدبلال 450محنت کشوں کی چار ماہ کی تنخواہیں ہڑپ کرکے ساڑھے چار سوگھرانوں کے چولہے ٹھنڈے کرتے ہوئے فرار ہوچکا ہے جبکہ ملز مالکان نے محنت کشوں کے کوارٹرزپر پانی بجلی بند کراکے انہیں لیبرکوارٹرزسے بے دخل کرنے پر الگ تلے ہوئے ہیں مزدور رہنماؤں نے یہ بھی دھمکی دیدی کہ جب تک ہمارے بقایاجات ادانہیں کئے جاتے تب تک خیبر سپینگ ٹیکسٹائل ملز چالو نہیں ہونے دینگے انہوں نے اس اَمر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکو مت میں 450 محنت کش اپنے خون پسینے کی کمائی کی حصول کیلئے گزشتہ 4 ماہ سے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں گدون میں صنعتکاروں کے کارخانے محنت کشوں کیلئے عقوبت خانے بن چکے ہیں جبکہ متعلقہ محکمہ جات کیلئے گدون صنعتی قبرستان شکار گاہ بن چکا ہے وہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھودیتے ہوئے جنکی ملی بھگت سے محنت کشوں پر مظالم کے پہاڑ توڑڈالے جارہے ہیں جبکہ حکمرانوں کی کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -