قندہار واقعہ افغانستان کے انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی ساشز ہے :میان افتخار

قندہار واقعہ افغانستان کے انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی ساشز ہے :میان افتخار

  

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ قندہار میں دہشت گردی کا واقعہ در اصل الیکشن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے ، افغان طالبان موجودہ وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مذاکرات کے عمل میں شریک ہوں ، پاکستان اور افغانستان کو مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں قندہار سانحہ کے شہداء کیلئے غائبانہ نماز جنازہ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر افغان قونصل جنرل محمد ہاشم نیازی اور دیگر اہم ارکان بھی موجود تھے ،اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ افغان حکومت کی ہمت کو سلام پیش کرتے ہیں کہ اتنے بڑے نقصان کے باوجود انہوں نے الیکشن ملتوی نہیں کئے ، انہوں نے کہا کہ شہید کئے جانے والوں کو امن کے قیام کیلئے کوششیں کرنے پر راستے سے ہٹایا گیا، انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پرامن انتخابات کیلئے دعا گو ہیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم مذاکرات کے حق میں ہیں اور اپنے دور حکومت میں ہم نے مذاکرات کی راہ اختیار کی جس کے نتیجے میں ملاکنڈ میں امن قائم ہوا ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے نظریے کی وجہ سے صوبے میں امن کا قیام عمل میں آیا لہٰذا طالبان موجودہ وقت سے فائدہ اٹھائیں اور مذاکرات کی میز پر آئیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے ،اور دونوں ملک آپ کی غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے مذاکرات کی راہ اختیار کریں ، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سرحد کے دونوں جانب صرف پختونوں کو تارگٹ کیا جا تا رہا تاہم اب مزید خون نہیں بہنا چاہئے ،انہوں نے وفاقی حکومت ،دفتر خارجہ اور سیکوورٹی اداروں کی جانب سے قندہار واقعے کی مذمت اور افغانستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے جذبے کو سراہا اور اسے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک ہوں تو اعتماد کی فضا بحال ہو سکتی ہے،انہوں نے قندہار کے شہداء کیلئے مغفرت کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ دکھ اور غم کی اس گھڑی میں افغان بھائیوں کے ساتھ ہیں ، انہوں نے لواحقین کے صبر جمیل کیلئے بھی دعا کی

مزید :

پشاورصفحہ آخر -