آپریشن ضرب ، عضب ، ردالفساد سے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے میں کامیابی حاصل ہوئی : محمود خان

آپریشن ضرب ، عضب ، ردالفساد سے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے میں کامیابی حاصل ...

  

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب، ردالفساد اور بارڈر فنسنگ کی وجہ سے جرائم میں کمی واقع ہوئی اور دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے خیبر پختونخوا نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے سب سے آگے ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے صوبے میں شفاف اور بہتر حکمرانی کا ماڈل متعارف کرایا ہے ۔سرکاری اداروں میں اصلاحات ، شفاف طرز حکمرانی، یکساں ترقیاتی حکمت عملی اور امن و سلامتی کیلئے کی گئی جدوجہد کے نتیجے میں عوام تبدیلی محسوس کر رہے ہیں۔نئے اضلاع کو ترقی کے دھارے میں لانے اور صوبائی شعبوں کی نئے اضلاع تک توسیع کی منصوبہ بندی جاری ہے۔ سی پیک کی سیکورٹی اور تحفظ کیلئے سپیشل یونٹ تشکیل دیا جا چکا ہے۔تحریک انصاف کی حکومت نے صوبے میں متعدد ایسے اقدامات شروع کئے اور اصلاحات عمل میں لائیں جو اس صوبے کے شاندار اور خوشحال مستقبل کے ضامن ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے " قومی سلامتی و حرب کورس 2019 ء "کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریباً 250 ارکان پر مشتمل نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے وفد میں قومی سلامتی و حرب کورس کے چیف انسٹرکٹر میجر جنرل ایمن بلال، کورس کے شرکاء، فیکلٹی ممبران ، پاکستان کی مسلح افواج کے افسران کے علاوہ مختلف دوست ممالک کے شرکاء شامل تھے۔ صوبائی وزراء محمد عاطف خان،شہرام ترکئی، تیمور سلیم خان جھگڑا، صوبائی محکموں کے انتظامی سیکرٹریز ، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات شہاب علی شاہ نے وفد کو خیبرپختونخوا کی پروفائل، صوبے کی جغرافیائی اہمیت ، قدرتی وسائل اور سیاحت کی استعداد سمیت صوبائی شعبوں تعلیم ، صحت ، توانائی، ماحولیاتی تبدیلی، مواصلات ، زراعت، ای گورننس اور دیگر شعبوں میں صوبائی حکومت کی ترجیحات اور اہم اقدامات اور انکے نتائج سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے بجٹ 2018-19 کے خدوخال اور ترقیاتی حکمت عملی پر بھی روشنی ڈالی اس موقع پر ڈی آئی جی پولیس سمیت دیگر صوبائی محکموں کے انتظامی سیکرٹریز نے بھی اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی اور اصلاحات کے حوالے سے وفد کو تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ نے وفد کے شرکاء سے خصوصی خطاب میں ان کو صوبے میں خوش آمدیدکہا انہوں نے اس ملاقات کو نہایت اہم اور مفید قرار دیتے ہوئے صوبے میں امن عامہ کی بہتر صورتحال ، ہر سطح پر شفافیت اور بہتر حکمرانی کیلئے صوبائی حکومت کی کاوشوں کامختصر خاکہ شرکاء کے سامنے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے میں امن عامہ کی بہتری کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مستعد کیا ہے۔تاہم آپریشن ضرب عضب ، رد الفساد اور بارڈر فینسنگ کی وجہ سے نہ صرف جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی بلکہ دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑنے اور اس کی کمانڈ کو توڑنے میں بھی کامیابی حاصل ہوئی ۔ یہی وجہ ہے کہ اس صوبے میں لوگ امن کیلئے جدوجہد کے ثمرات سے مستفید ہو رہے ہیں اورامن عامہ کی صورتحال میں خاطر خواہ تبدیلی محسوس کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے انکشاف کیا کہ ہم نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے ایڈوانس مرحلے میں ہیں۔ صوبے میں نیشنل ایکشن پلان کے نفاذکے مجموعی عمل میں مسلح افواج ، نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی اور وزارت داخلہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں ۔ انہوں نے صوبے میں شامل نئے سات اضلاع کی ترقی کے حوالے سے حکمت عملی کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ آئینی ترمیم کے بعد سابق فاٹا کے سات نئے اضلاع اس صوبے کا حصہ بن چکے ہیں ۔ سابق فاٹا کا صوبے کے ساتھ انضمام ہو چکا ہے اور اب ہم صوبے کے سرکاری اداروں اور سماجی خدمات کے شعبوں کی نئے اضلاع تک توسیع کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ سات نئے اضلاع کے عوام کو ترقی کے دہارے میں لانے پر کام ہو رہا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کی دیرپا ترقی اور صنعت کے تیز رفتار فروغ کیلئے شروع دن سے پرعزم ہے اس سلسلے میں سی پیک کے تناظر میں قابل عمل منصوبہ بندی کر چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)کے روٹ ، تنصیبات اور غیر ملکی ماہرین اور کارکنوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ صوبے میں سی پیک کی سکیورٹی اور تحفظ کیلئے پہلے سے ایک سپیشل یونٹ تشکیل دیا جا چکا ہے ۔محمود خان نے امن عامہ کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ہماری حکومت نے محرم الحرام 2018 کے دوران امن قائم رکھنے کیلئے تمام تر سکیورٹی اقدامات یقینی بنائے ہیں۔ بلاشبہ اس کا کریڈٹ صوبے کے عوام ، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جاتا ہے ۔ اسی طرح ہماری حکومت نے ضمنی انتخابات کے غیر جانبدار ، آزاد اور شفاف انعقاد کو یقینی بنایا ہے اور انتخابات کیلئے پرامن ماحول فراہم کیا ہے ۔ اس موقع پر کورس کے شرکاء نے صوبائی حکومت کی اصلاحات اور تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ خیبرپختونخوا کے گورننس سسٹم اور خدمات کی فراہمی کے نظام میں بہتری قابل تحسین ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ حکومت صوبے کے عوام کی ترقی اور خوشحالی اور نظام کی بہتری کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی۔

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے کے ہسپتالوں میں طبی عملے کی غیرحاضری اور نظام الاوقات کی عدم پابندی کے حوالے سے عوامی شکایات کی خبر پر نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے معاملے کی فوری رپورٹ طلب کی ہے ۔ محمود خان نے ہدایت کی کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کو اوقات کار کا پابند بنایا جائے اور اس سلسلے عوامی شکایات موصول ہوں تو ان کا فوری ازالہ ہونا چاہئے۔دریں اثنا وزیراعلیٰ نے پاپولیشن ویلفیئر کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے حوالے سے خبرکا بھی نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو معاملے کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔علاوہ ازیں وزیراعلیٰ نے کوہاٹی کے قرب و جوار کے مکینوں کی طرف سے تعمیراتی مٹیریل اور گندگی سرکلر روڈ پر پھینکنے کے حوالے سے خبر کا بھی نوٹس لیا اور انتظامیہ کو ہدایت کی کہ روڈ پر گندگی اور دیگر تعمیراتی مواد پھینکنے کے عمل کا فوری انسداد کیا جائے اور روڈ کی صفائی یقینی بنائی جائے۔

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے میڈیکل کالجز کے داخلہ ٹیسٹ میں بدعنوانیوں کے معاملے کا نوٹس لیا ہے اور اس سلسلے میں قائم تحقیقاتی کمیٹی کو جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ایٹا ٹیسٹ کے نتائج میں غلطیوں کے معاملے پر برہمی کا اظہار کیا اور تحقیقاتی کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ معاملے کی حقیقت پسندانہ رپورٹ پیش کرے جس میں ذمہ داروں کا واضح تعین ہونا چاہئے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ حق دار کو حق کی فراہمی یقینی ہونی چاہئے ۔ ایٹا کے تحت ٹیسٹ سے متعلق والدین اور بچوں کی شکایات قابل توجہ اور نہایت تشویش کا باعث ہیں حکومت شفافیت اور حق دار کو حق کی فراہمی پر سمجھوتہ نہیں کریگی۔ غلطیوں اور غفلت کے مرتکب عناصر کی نشاندہی ہونی چاہئے اور آئندہ کیلئے کمزوریوں سے پاک اور شفاف طریق کار کے تحت امتحانات کا انعقاد اور نتائج کا اجراء یقینی بنایا جائے۔ اس سلسلے میں کوئی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -