سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کو محکمہ تعلیم کی سرپرستی سے نکالاجائے،اصغرزیدی

سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کو محکمہ تعلیم کی سرپرستی سے نکالاجائے،اصغرزیدی

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) ویلکم بک پورٹ کے کے سربراہ اصغر زیدی نے کہا ہے کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کو محکمہ تعلیم کے سرپرستی میں نہیں ہونا چاہئے، ہر سال کلاس ایک سے بارہ تک کی کتابیں چھپتی ہیں جس میں کروڑوں روپے کی کرپشن کی جاتی ہے،کراچی پریس کلب میں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ میں میگا کرپشن کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اصغر زیدی نے کہا کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کو محکمہ تعلیم کے سرپرستی میں نہیں ہونا چاہیے، بی او جی میں موجود سفارشی لوگوں کو خارج کیا جائے، کچھ اساتذہ اور دوستوں پر دباو ڈالا گیا لہذا وہ لوگ آ نہیں سکے، ہر سال کلاس ایک سے بارہ تک کی کتابیں چھپتی ہیں، جو اوپن ٹینڈر ہوتا ہے، اس سال ٹینڈر کیلئے عجیب طریقے کا اپنایا، اوپن ٹینڈر میں کرپشن کی چانسز کم ہوجائے ہیں، صرف نو لوگوں کو ٹینڈر میں شامل کیا گیا، اس سال کے ٹینڈر کو منسوخ کیا جائے، پچھلے سال کے ٹینڈر سے متعلق انکوائری کی جائے، ٹینڈر کے شرائط انتہائی مشکل ہیں،مخصوص لوگوں کو نوازا جارہا ہے، چئیر مین کی تعیناتی غیر قانونی ہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -