پولیس کے جوان فرائض کو جہاد سمجھ کر سر انجام دے رہے ہیں:ڈاکٹر امیر شیخ

پولیس کے جوان فرائض کو جہاد سمجھ کر سر انجام دے رہے ہیں:ڈاکٹر امیر شیخ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ نے کہا ہے کہ پولیس کے جوان شہر میں امن و امان میں بہتری کیلئے جرائم کے خلاف اپنے فرائض جہاد سمجھ کر سر انجام دے رہے ہیں، جرائم اور لاقانونیت کے خاتمے کیلئے پوری طرح مستعد اور پُرعزم ہیں، مجرم جس قدر بھی مضبوط ہو قانون کی حکمرانی کیلئے آخری حد تک جائینگے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج اپنے دفتر میں آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر سے کی گئی ایک اہم ملاقات میں کیا انھوں نے کہا کہ تھانوں کی کارکردگی میں بہتری اور اصلاحات کیلئے تاجر نمائیندگان کی تجاویز کا خیرمقدم کرینگے، جرائم کے خاتمے کیلئے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین روابط ضروری ہیں، ثابت کرینگے کہ قانون شکنی کا دائرہ کتنا بھی بڑھ جائے مثبت کوششوں سے اسکی روک تھام ممکن ہے، اسٹریٹ کرائم اور ٹریفک کی خلاف ورزیوں کے خلاف شروع کیئے گئے اقدامات کے حوصلہ افزاء نتائج سا منے آرہے ہیں، انھوں نے کہا کہ میڈیا،عوام اور تاجروں کا شکرگذار ہوں کہ جن کی حوصلہ افزائی سے تقویت مل رہی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پولیس عوام کی خادم اور خدمتگار ہے، پولیس کے غلط رویئے اور عدمِ تعاون کی شکایت ان کے واٹس اپ پر براہِ راست کی جائے، انھوں نے اعلان کیا کہ آرام باغ پولیس اسٹیشن کو تاجروں کی مدد سے رول ماڈل بنائینگے، منفی سرگرمیوں میں ملوث اور خراب کارکردگی کے حامل تھانہ انچارج اور عملے کی معطلی، تنزلی اور برطرفی کی جائیگی، انھوں نے کہا کہ محکمہ پولیس کو انتہائی باصلاحیت افسران کی خدمات میّسر ہیں جس کے باعث شہر میں امن و امان کے شاندار مستقبل کیلئے پوری طرح پُرامید ہوں،انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت سندھ اور اپنے اعلیٰ افسران کی جانب سے کیئے گئے اعتماد اور بھروسے پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کروں گا، عوام اور تاجر برادری کی حوصلہ افزائی سے ہمارے عزم اور استقامت میں اضافہ ہوا ہے، اس موقع پر تاجر رہنما عتیق میر نے پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹریفک اصلاحات اور پولیس کی کارکردگی میں بہتری کے تحت شروع کیئے گئے منفرد اور مؤثر اقدامات قابلِ تحسین ہیں جس کے نتیجے میں ٹریفک کی خلاف ورزیوں میں کسی حد تک کمی خوش آئیند ہے، اصلاحات کی کوششیں جاری رہیں تو مستقبل میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں، انھوں نے کہا کہ پولیس چیف کے روایت شکن اصلاحی اقدامات کو اسی طرح درست سمت میں جاری رہنا چاہیئے، عتیق میر نے عوام اور پولیس کے درمیان پیدا ہونے والی وسیع خلیج کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک پولیس میں موجود کالی بھیڑوں اور جرائم پیشہ افراد کے مابین تعلق اور دوستی قائم رہیگی عوام اور پولیس کے مابین فاصلہ برقرار رہیگا اور پولیس کی کارکردگی میں بہتری لانا ممکن نہیں ہوگا، تھانہ ایس ایچ او کی کارکردگی ہی اسکی تعیناتی کی بنیاد ہونی چاہیئے جس کی سند اور تصدیق تھانوں میں آوایزاں جرائم کی شرح کے چارٹ کے بجائے عوام اور تاجروں کے اطمینان کا سرٹیفیکیٹ ہونا چاہیئے، انھوں نے پولیس چیف کو مشورہ دیا کہ تھانوں میں اسنیپ چیکنگ کے علاوہ علاقے کے تاجروں اور عوامی نمائیندوں سے بھی رابطہ مہم کے زریعے تھانوں کی کارکردگی سے متعلق معلومات حاصل کریں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -