جب شام کے شعلے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیں گے

جب شام کے شعلے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیں گے
جب شام کے شعلے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیں گے

  

سرزمینِ شام پر شبِ ظلمت کے اندھیرے گہرے اور خون مسلم کی ارزانی بڑھتی چلی جارہی ہے ۔ اسکی بنیادی وجہ دنیا کی مختلف قوتوں کے شام سے وابستہ مفادات ہیں۔ 18 دسمبر 2010 کو تیونس سے شروع ہونے والی انقلابی لہر نے عرب خطے کے کئی ممالک کو اب اپنی لپیٹ میں لے لیاہے اور یہ اسی انقلاب کے شعلے ہیں جنہوں نے مصر، یمن ،لیبیا، عراق اور شام میں خانہ جنگی کی آگ کو بڑھکا رکھا ہے۔ تیونس ،مصر ،لیبیا اور یمن میں حکمرانوں کیخلاف احتجاجی تحریکیں کامیاب ہوگئیں تو اسے " عرب بہار " قرار دیا گیا کہ عوام کو موروثی بادشاہوں اور فوجی آمروں کے تسلط سے آزادی مل رہی تھی لیکن بدقسمتی سے ان عوامی تحریکوں کو ناکام بنانے اور مسلم دنیا میں خانہ جنگی شروع کرانے کی خواہشمند طاقتیں اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوگیءں اور ملک شام اس خوں ریزی کا سب سے بڑھ کر نشانہ بنا ۔

2011 کے اوائل میں بشارالاسد کے خلاف مسلح بغاوت ہوئی جس میں باغیوں کو بڑی برق رفتاری سے کامیابیاں ملیں ، دمشق پر باغی حملہ آورہوا ہی چاہتے تھے کہ شام کو ایران کی مدد حاصل ہوگئی ۔ باغیوں کے قدم رک گئے تو دنیا میں وحشت و بربریت کی علامت داعش اس قضیے میں کود پڑی ۔شام کے ساتھ روس ، چین ، ترکی اور امریکہ سمیت بہت سے ممالک کے مفادات و تحفظات وابستہ تھے۔ یوں ان سب ممالک کی لڑائی کا میدان سرزمین شام بن گئی جس میں ایک اندازے کے مطابق پچھلے سات برس میں ایک تہائی شامی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ بشارالاسد کے حامیوں کو خدشہ ہے کہ باغیوں کی کامیابی انکے صنعتی و تجارتی مفادات کیلیے خطرہ ہے چنانچہ وہ خم ٹھونک کر اسکی حمایت میں کھڑے ہیں۔ کاش اس خانہ جنگی کے آغاز میں ہی یہ معاملہ اندرون ملک ہی مذاکرات سے طے کرلیا جاتا ، بیرونی مداخلت کی راہیں مسدود کردی جاتیں تو یہ قیامت شام پر نازل نہ ہوتی لیکن افسوس ایسا نہ ہوسکا جسکی ذمہ داری بشارالاسد پر ہے تو باغی بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں۔ اس المناکی پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بڑی عالمی طاقتیں اور خطے کے ممالک جنگ بندی میں کردار ادا کرتے لیکن وہ خود اس جنگ کا حصہ بن کر شامیوں کے قتل عام میں شریک ہوگئے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ شامیوں کی آزمائش کے دن ختم ہونے میں کیوں نہیں آرہے ؟ اسکاجواب ہے کہ بڑی طاقتیں فی الحقیقت اس ملک میں اپنی جنگ لڑ رہی ہیں ۔ایسا ہے تو پھر یہ اقوام متحدہ اور عرب لیگ اور او۔ آئی۔سی۔کس مرض کی دوا ہیں ؟ کیا یہ محض کاغذی تنظیمیں یاادارے ہیں ؟ عرب لیگ اور او آئی سی جیسے مردہ گھوڑوں سے تو خیر کوئی توقع ہی عبث ہے، کیا وجہ ہے کہ اقوام متحدہ جیسے ادارے کو اکیسویں صدی کا سب سے بڑا المیہ دکھائی نہیں دے رہا ؟ کیا اسلیے کہ اس میں امریکہ بھی ایک فریق ہے ؟ اگرایسا ہے تو دنیا میں جنگوں کوروکنا ممکن نہ ہوگا ۔عالمی برادری ، برطانیہ اور یورپی یونین اس جنگ میں شریک ممالک کی بجائے اقوام متحدہ کو شام کا مسئلہ فوری طور پرحل کرنے پر قائل کریں تو زیادہ بہتر ہوگا،ورنہ یہاں سے اٹھنے والے شعلے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -