ریڈ کارپٹ کی دیوار کون گرائے گا؟

ریڈ کارپٹ کی دیوار کون گرائے گا؟
ریڈ کارپٹ کی دیوار کون گرائے گا؟

  

عمران اسماعیل صاحب گورنر بننے سے پہلے بھی معروف شخصیت تھے مگر عہدہ سنبھالنے کے بعد تو انکا شہرہ چار سو پھیل گیا ہے کبھی بلاول ہاؤس کی دیوار گرانے کی باتیں ،تو کبھی گورنر ہاؤس کی حیثیت ختم کرنے کی باتیں ان حوالوں سے انکے بیانات میڈیا کی زینت بنتے رہتے ھیں ۔گزشتہ دنوں انہوں نے صحرائے تھر کا دورہ کیا جہاں انکے ساتھ پینتیس گاڑیوں کا شاہانہ پروٹوکول ساتھ ساتھ تھا۔

اس دورے کی تصویری جھلکیاں دیکھنے کا اتفاق ہوا کہ صحرا کی ریت پر کیسے ریڈ کارپٹ ویلکم کا انتظام کیا گیا ہے ۔مسئلہ یہ ہے خان صاحب جتنا آگے جانے کی کوشش کرتے ہیں اتنی ہی تیزی سے ریورس گئیر لگ جاتا ھے۔ تھر میں کارپٹ بچھا ہوگا، رنگ بکھر گئے ہونگے، پھر بھوک سے بلکتے سسکتے غذائی قلت کے کمزور اجسام کون دیکھتا ہے۔

گورنر صاحب نے بلاول ہاؤس کی دیوار کیا گرانی تھی تھر کے مظلوم اور غریب عوام کے لئے ایک رنگین کارپٹ کی دیوار کھڑی کر آئے ہیں۔ صحرا کی ریت میں پیر بھی نہیں رکھا کہیں جل نہ جائے۔اگر عوامی لیڈر ہونے کے دعویدار عوام سے اتنی غیریت برتیں گے اتنے فاصلے رکھیں گے تو انکے دکھوں کا مداوا کون کرے گا۔

تحریک انصاف کی حکومت تو قائم ہوگئی ہے مگر انصاف کو نافذ کرنے میں عدل ضروری ہے ۔جو باتیں دوسرے حکمرانوں کی اپوزیشن میں بیٹھ کر غلط لگتی تھیں اب اسی طرح کے معاملات کو درست ثابت کرنے کے لئیے لاجکس ڈھونڈی جاتی ہیں۔یہ بھی درست ہے کہ یہ سارے مسائل خان صاحب کی حکومت کو ورثے میں ملے ہیں اور انکو حل کرنے میں ٹائم لگے گا مگر کم از کم حکومتی ذمہ داروں کے رویے تو تبدیل کئے جا سکتے ہیں۔ مہنگائی کا جنّ قابو سے باہر ہوتا جارہا ہے اور ناقدین راگ آلاپ رہے ہیں۔ کیا یہی ہے وہ تبدیلی۔ عوام کو ریلیف دینے کی بجائے آپکے وزراء گیس بم مار کر کہتے ہیں عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ دوسرے دن سیمنٹ کی بوری اسّی روپے مہنگی ہوگئی، سی این جی فی کلوگرام پر 22 روپے بڑھ گئے، جو چائے کا کپ پچیس روپے کا تھا اب وہ تیس روپے کا ہے ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھ گئے ۔ مگر خیر ان سب معاملات کا عام آدمی سے کیا واسطہ؟ اس پر کونسا اثر پڑنا ہے، کوئی دانشور ہمیں یہی سمجھا دے عام آدمی کسے کہتے ہیں؟ اسکی علامات کیا ہوتی ہیں؟ شاید سمجھنے میں آسانی ہوجائے۔

ضمنی انتخابات میں شکست پر بھی حکومتی جماعت میں شادیانے بجائے جارہے ہیں کہ ہم نے منصفانہ الیکشن کروائے ہیں تو جس الیکشن کو آپ جیت کر آئے ہیں وہ کیا غیر منصفانہ تھے۔کہاجاتا ہے کہ وھی درخت پھلدار ہوتے ہیں جنکی جڑیں گہرائی تک ہوتی ہیں ۔کاسمیٹک اقدامات سے عوام وقت طور پر مطمئن ہو سکتے ہیں مگر جب تک انکے بنیادی مسائل کا دیر پا حل نہیں نکالا جائے گا تو انکا سفر ریڈ کارپٹ وال تک محدود رہے گا جسکے نیچے صحرا کی گرم ریتے جھلساتی رہے گی۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -