شاہ سلمان بالآخر حرکت میں آگئے، ولی عہد کے خلاف بڑا قدم اُٹھالیا، بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی خبر نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

شاہ سلمان بالآخر حرکت میں آگئے، ولی عہد کے خلاف بڑا قدم اُٹھالیا، بین ...
شاہ سلمان بالآخر حرکت میں آگئے، ولی عہد کے خلاف بڑا قدم اُٹھالیا، بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی خبر نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

  

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی صحافی جمال خاشقجی کی ترکی میں واقع سعودی سفارتخانے میں ہلاکت کے معاملے پر بالآخر فرماں روا شاہ سلمان بھی حرکت میں آ گئے ہیں اور تہلکہ خیز اقدام اٹھا لیا ہے۔ عالمی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق شاہ سلمان نے 11اکتوبر کو اپنے انتہائی قابل اعتماد ساتھی اور مکہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل کو استنبول روانہ کیا اور کہا کہ وہ جا کر جمال خاشقجی کے معاملے پر پیدا ہونے والے بحران کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ان کے دورے کے دوران ترکی اور سعودی عرب جمال خاشقجی کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے پر متفق ہو گئے، جس کے بعد شاہ سلمان نے ایک اور انتہائی اہم قدم اٹھاتے ہوئے سعودی پبلک پراسیکیوٹر کو حکم دیا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کرے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ شہزادہ خالد شاہی خاندان کے سینئر فرد ہیں اور شاہ سلمان کے انتہائی قریبی ساتھی ہیں، بلکہ ان کے دست راست سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا ترک صدر رجب طیب اردگان کے ساتھ بھی بہت قریبی اور دوستانہ تعلق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ سلمان نے استنبول بھیجنے کے لیے ان کا انتخاب کیا۔ ذرائع کے مطابق شاہ سلمان کے اس اقدام کا یہ مطلب بھی ہے کہ وہ اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے چکے ہیں کیونکہ اس واقعے میں ان کے بیٹے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ جمال خاشقجی شہزادہ محمد پر کڑی تنقید کرتے تھے چنانچہ انہوں نے اسے قتل کروادیا۔ ترک پولیس بھی کچھ ایسے ہی الزامات عائد کر چکی ہے۔

شاہی خاندان کے ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ ابتداءمیں شاہ سلمان اس معاملے کی سنجیدہ نوعیت سے آگاہ نہیں تھے کیونکہ شہزادہ محمد بن سلمان کے قریبی لوگ شاہ سلمان کی توجہ سعودی ٹی وی چینلز پر چلنے والی ان خبروں پر مرکوز کیے رکھتے ہیں جن میں دکھایا جاتا ہے کہ شہزادہ محمدبن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ تاہم جیسے جیسے بحران سنگین تر ہوتا گیاتو شہزادہ محمد کے لیے اس بحران کو شاہ سلمان سے چھپا کر رکھنا ممکن نہ رہا کیونکہ تمام سعودی ٹی وی چینلز بھی اس حوالے سے خبریں نشر کر رہے تھے۔ چنانچہ بالآخر شاہ سلمان کو اس معاملے کی سنگینی کو بھانپ گئے اور اسے خود اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

مزید :

عرب دنیا -