’میں نے 21 دن تک گوشت کھانا چھوڑ دیا اور اس سے میرے جسم میں یہ تبدیلی آئی کہ۔۔۔‘ نوجوان پاکستانی لڑکی نے ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے

’میں نے 21 دن تک گوشت کھانا چھوڑ دیا اور اس سے میرے جسم میں یہ تبدیلی آئی ...
’میں نے 21 دن تک گوشت کھانا چھوڑ دیا اور اس سے میرے جسم میں یہ تبدیلی آئی کہ۔۔۔‘ نوجوان پاکستانی لڑکی نے ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے

  

کراچی(نیوز ڈیسک)ہمارے ہاں گوشت کھانے کا شوق بہت عام پایا جاتا ہے، بلکہ یوں کہیے کہ بہت سے لوگوں کے لئے تو یہ شوق نہیں بلکہ جنون ہے۔ مرغی اور مچھلی کی حد تک تو ٹھیک ہے مگر بڑے گوشت کے بارے میں ماہرین صحت کی رائے کچھ اچھی نہیں۔ تھوڑا بہت اور کبھی کبھار تو پھر بھی ٹھیک ہے مگر زیادہ نہیں کھانا چاہیے، لیکن اگر آپ بھی بڑے گوشت کے بے حد شوقین ہیں تو اس پاکستانی لڑکی کی بات ضرور سنئے، شاید آپ کے بھی دل کو لگے۔

ویب سائٹ ’مینگو باز‘ پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں ماحولیاتی رپورٹر رابعہ جعفری کہتی ہیں کہ وہ پانی کی بچت کے متعلق غوروخوض کررہی تھیں اور اس بارے میں انہوں نے کچھ ماہرین سے بھی پوچھا کہ اس سلسلے میں ہم انفرادی طور پر کیا کر سکتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اکثر لوگوں نے اُن سے کہا کہ بڑے گوشت کا استعمال ترک کر دیں، جس پر انہیں حیرانی تو ہوئی مگر جب تحقیق کی تو پتہ چلا کہ بڑے گوشت کی صنعت نہ صرف ماحولیاتی تبدیلی میں بڑی حصہ دار ہے بلکہ یہ شعبہ پانی کا استعمال بھی بے دریغ کر رہا ہے۔ یہ سب جاننے کے بعد انہوں نے 21 دن کے لئے گوشت سے مکمل پرہیز کا فیصلہ کیا، لیکن چند دنوں میں ہی انہیں اپنی زندگی میں کچھ حیرت انگیز تبدیلیاں محسوس ہونے لگیں۔

اس بارے میں میں وہ لکھتی ہیں کہ ” بڑے گوشت کا استعمال ترک کرنے کے بعد اب میں خود کو زیادہ چاق و چوبند محسوس کرتی تھی اور مجھے اپنے جسم میں پہلے کی نسبت زیادہ توانائی محسوس ہونے لگی تھی۔ مجھے اپنے وزن میں بھی کمی ہوتی محسو س ہورہی تھی جبکہ میری جلد پہلے کی نسبت زیادہ تروتازہ اور صاف ہوگئی تھی اور میں کافی رقم بھی بچارہی تھی کیونکہ آپ کو معلوم ہے کہ گوشت بہت مہنگا ہے۔“

رابعہ مزید لکھتی ہیں کہ ” اگر بڑے گوشت اور پانی و ماحولیات کے درمیان تعلق کی بات کی جائے تو معاملہ کچھ یوں ہے کہ دنیا بھر میں پائے جانے والے جانور جتنی میتھین گیس چھوڑتے ہیں وہ ہمارے ماحول میں بڑی تبدیلیاں لانے کے لئے کافی ہے۔ یہ دنیا کی کل میتھین کا ایک تہائی حصہ ہے اور یہ گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ سے 20 گنا زیادہ نقصان دہ ثابت ہورہی ہے ۔ دنیا کے جنگلوں کی ایک بہت بڑی تعداد مویشی پالنے کے لئے کاٹ دی گئی ہے اور جانوروں کو زندہ رہنے کے لئے پانی کی بہت بڑی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے، جو وہ پیتے بھی ہیں اور ان کے لئے چارہ اگانے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ایک کلوگرام بڑا گوشت پیدا کرنے کے لئے تقریباً 14000 لٹر پانی چاہیے ہوتا ہے اور 7 سے 10کلوگرام چارہ درکار ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مرغی کے گوشت کی بات کی جائے تو اس کے ایک کلوگرام کے لئے تقریباً 1000 لٹر پانی اور تقریباً دو کلوگرام خوراک استعمال ہوتی ہے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -تعلیم و صحت -