اسمبلی سے مچھلی منڈی تک

اسمبلی سے مچھلی منڈی تک
اسمبلی سے مچھلی منڈی تک

  

قومی اسمبلی کے فلورپر جب سپیکر اپوزیشن کو بات کرنے کی اجازت دے رہے تھے تو حکومتی وزراء4 کے لیے یہ بات ہضم کرنا کافی مشکل تھا۔آٹھویں مرتبہ پارلیمنٹ کے رکن بننے والے سید خورشید شاہ نے ایوان کو بتایا کہ یہ 1988ء4 کے بعد پہلا واقع ہے جب اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کرلیا گیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے خود رات گئے ایک پروگرام میں اعتراف کیا کہ انہیں شہباز شریف کی گرفتاری کے وقت اطلاع ملی کہ اپوزیشن لیڈر کوگرفتار کیا جارہا ہے۔ اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے والوں کے طعنے ہوں یا حکومتی بنچز کے لوگوں کے چور چور کے نعرے سچ پوچھیں تو مجھے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں کوئی فرق نظر نہیں آیا۔ ہاں فرق تھا تو صرف ایک وہ یہ کہ انہی دنوں میں صوبہ پنجاب کے باقی مہینوں کا بجٹ جب پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جارہا تھا تو میں پریس گیلری میں بیٹھے صحافیوں کی طرف اور وہ میری طرف حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔ اپوزیشن کے لوگ پنجاب اسمبلی کے بنچز پر کھڑے ہوکر نعرے لگارہے تھے،بجٹ کاپیاں پھاڑکر انہیں ہوا میں لہرا رہے تھے۔ ایک لمحے کے لیے مجھے لگا یہ ایوان نہیں کوئی مچھلی منڈی ہے لیکن پھر یاد آیا وہاں لوگ دست وگریباں نہیں ہوتے۔اسمبلی میں ایک دوسرے پر چیختے چلاتے اراکین بجٹ پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھے مگر اس سارے شور شرابے میں صوبائی وزیرخزانہ بجٹ تقریر کرتے رہے جسے سننے میں دونوں اطراف سے کوئی تیار نہیں تھا۔ مجھے دھچکا لگا جب ایک پولیس آفیسر نے رکن اسمبلی کو روکنے کی کوشش کی تو سابق صوبائی وزیراطلاعات مجتبی شجاع الرحمن نے پولیس آفیسر کو گلے سے دبوچ لیا،نہیں معلوم پولیس آفیسر کی غلطی تھی یا اپوزیشن کے اراکین کی مگر میں یہ جانتا ہوں قانون بنانے والوں کا ہاتھ قانون نافذ کرنے والے کے گلے تک پہنچنا کسی طور پر مناسب نہیں تھا۔ ایسا نہیں ہے کہ اسمبلی میں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا اس مرتبہ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ بجٹ سیشن کے دوسرے اجلاس سے اپوزیشن کے بائیکاٹ پر بھی کسی حکومتی رکن کے کان پر جوں تک نہیں رینگی کسی نے اپوزیشن کو منانے کی کوشش نہیں کی۔یاد رہے پاکستان کی سب سے بڑی صوبائی اسمبلی کے حکومتی بنچز پہ بیٹھنے والوں کی تعداد اپوزیشن کے اراکین سے کچھ زیادہ ہے اگر یہ معاملہ یہاں تک نہ رکا تو سب سے بڑے صوبے میں قانون سازی کا عمل ٹھیک سے نہیں چل پائے گا۔محنتی صحافی راجہ اکرام نے اس صوبائی بجٹ کا ایک طائرانہ جائزہ لیا ہے جس سے پتا چلتا ہے حکومتی پالیسیوں کا فوکس کس جانب ہے۔

تحریک انصاف حکومت کے بجٹ کا کل حجم 2026 ارب 53 کروڑ رکھا گیا ہے جبکہ شہباز شریف حکومت کا آخری بجٹ 1970 ارب 70 کروڑ کا تھا۔اسی طرح موجودہ حکومت نے جاری ترقیاتی اخراجات کیلئے 1264 ارب روپے کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ شہباز شریف حکومت کے آخری بجٹ میں اس مد میں 1017 ارب روپے رکھے گئے تھے۔

موجودہ حکومت نے سب سے زیادہ کمی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں کی ہے.پچھلی حکومت نے 2017 میں اس مد میں 635 ارب روپے رکھے تھے جبکہ موجودہ حکومت نے اس مد میں محض 238 ارب رکھے ہیں۔شہبازشریف حکومت کو قومی مالیاتی کمیشن سے 1154 ارب روپے جاری کئے گئے جبکہ موجودہ حکومت کو وفاق سے 1276 ارب روپے ملیں گے۔موجودہ حکومت کو صوبائی ریونیو کی مد میں 376 ارب روپے ملنے کا امکان ہے جبکہ گزشتہ بجٹ میں یہ تخمینہ 348 ارب رکھا گیا تھا۔اسی طرح پی ٹی آئی کے موجودہ بجٹ میں ٹیکس ریونیو کی مد میں 276 ارب شامل ہیں جبکہ پچھلی حکومت کے آخری بجب میں ٹیکس مد میں 231 ارب کا ہدف رکھا گیا تھا۔

تحریک انصاف نے اپنے پہلے بجٹ میں شعبہ تعلیم کیلئے مجموعی طور پر 373 ارب کی رقم مختص کی ہے جبکہ 2017 میں شہباز شریف حکومت نے اس مد میں 345 ارب روپے رکھے تھے۔صحت عامہ کیلئے موجودہ حکومت نے 284 ارب رکھے ہیں جبکہ پچھلے بجٹ میں یہ رقم 263 ارب روپے تھی۔صاف پانی کیلئے شہبازشریف دور کے آخری بجٹ میں 25 ارب رکھے گئے جبکہ موجودہ حکومت نے اس مد میں 20 ارب مختص کئے ہیں۔ بجٹ پر بحث ابھی اگلے اجلاس میں ہوگی یہ اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر ہوا۔ مجھے حکومتی نمائندوں کی بے اعتنائی اور اپوزیشن کے ممبرز کا مقدس ایوان میں بجٹ کی ان کاپیوں کوجن پر قوم کا مستقبل لکھا تھا ہوا میں اڑا دینا بالکل اچھا نہیں لگا۔کاش آئندہ ایسا نہ ہو۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -