ٹوبہ ٹیک سنگھ کے افسران یا سہولت کار؟

ٹوبہ ٹیک سنگھ کے افسران یا سہولت کار؟
ٹوبہ ٹیک سنگھ کے افسران یا سہولت کار؟

  



ٹوبہ ٹیک سنگھ کے وکلاء اور بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں پر تو کوئی حیرت نہیں ہوئی،البتہ یہ دیکھ کر افسوس اور حیرت ضرور ہوئی کہ ضلع کا ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او ان کا سہولت کار بن گیا۔ابھی تک اگر یہ دونوں افسران ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اپنے عہدوں پر موجود ہیں تو پھر جان لینا چاہئے کہ پنجاب میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی حکمرانی نے صوبے کا واقعی بیڑہ غرق کر دیا ہے۔دو ڈاکٹروں کو حوالات سے ہتھکڑیوں سمیت بار روم میں پیش کرنے والے یہ دونوں افسران اس قابل نہیں کہ اپنے ضلع میں انصاف کر سکیں،مظلوموں اور کمزوروں کو انصاف دے سکیں۔یہ اپنی کرسیاں بچانے والے وہ ”دولے شاہ کے چوہے“ ہیں جو نہ تو کسی بحران کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ ریاست کے کسی ذمہ دار عہدے کی ساکھ پر پورا اُتر سکتے ہیں۔

پورے ملک میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کے واقعہ کی ویڈیو نے سرشرم سے جھکا دیئے ہیں۔ وکلاء کے نمائندوں کو تو فرعونیت کی عادت پڑ گئی ہے،حالانکہ وہ اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو انہیں فرعون یا یزید کی کوئی عزت دکھائی نہیں دے گی،بلکہ رفعتیں اور عزتیں قانون پسندوں،انسان کی قدر کرنے والوں اور نرم خُو لوگوں کے حصے میں آتی ہیں۔اس ویڈیو میں فرعون کا لہجہ صاف بولتا نظر آتا ہے۔کیا کوئی تھانیدار والی عزت کرا کے یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ لوگ اُس کی عزت کرتے ہیں۔ عزت تو وہ ہوتی ہے جو لوگ دِل سے کریں، ڈر اور خوف سے نہیں۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ کا یہ واقعہ تو اب سب کو معلوم ہے،کس طرح ایک بار کے عہدیدار کی عزیزہ کا میڈیکل سرٹیفکیٹ نہ بنانے پر ڈی ایچ کیو ہسپتال کے دو افسروں کو نشانِ عبرت بنایا گیا،اُن کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کر کے12دن تک اُن کی ضمانت نہ ہونے دی اور جب انہوں نے کراس ورشن پرچہ درج کرانا چاہا تھا تو پولیس بھیگی بلی بن کر لیٹ گئی،جب کسی عدالت نے نہ سُنی اور پولیس نے بھی بے بسی کی انتہا کر دی تو ایک ڈاکٹر کے بھائی نے معافی مانگنے کی درخواست دی۔چلو معافی مانگنا بھی ایک اچھا عمل ہے،خاص طور پر جب کوئی مظلوم معافی مانگے تو اس کی آہ عرش تک سنائی دیتی ہے،لیکن جس انداز سے ڈی پی او اور ڈی سی نے معافی منگوائی،وہ ان دونوں افسروں کے چہروں پر کلنک کا ٹیکہ بن کر ہمیشہ چپکی رہے گی۔

انہیں ہتھکڑی سمیت پولیس والوں کے ہمراہ دہشت گردوں کی طرح بار روم میں لایا گیا،جہاں قانون کے علمبرداروں کا ایک جتھا موجود تھا،جس نے اپنی عدالت لگا رکھی تھی،پھر اس سارے عمل کی ویڈیو بنائی گئی اور یہ تاثر دیا گیا کہ اس ملک میں قانون نہیں ”جس کی لاٹھی اُس کی بھینس“ کا نظریہ نافذ ہے۔اس ملک میں، جہاں عدالتوں میں ملزموں کو ہتھکڑی لگا کر پیش کرنا ممنوع ہے اور پڑھے لکھوں کو ہتھکڑی لگانے کی ممانعت کر دی گئی ہے، وہاں دو اعلیٰ تعلیم یافتہ ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کو وکلاء کی ”عدالت“ میں پیش کیاگیا۔پیش کرنے والے ڈی سی او ڈی پی او تھے،جنہیں ذرا بھر شرم نہیں آئی کہ وہ کیا کر رہے ہیں،کس قانون، ضابطے، اخلاقیات، روایات اور اختیار کے تحت وہ ایسا کر سکتے ہیں؟ مجھے ثاقب نثار رہ رہ کر یاد آ رہے ہیں،وہ ہوتے تو ان دونوں افسروں کو اب تک پرچہ درج کروا کے جیل بھجوا چکے ہوتے،جنہوں نے قانون کی دھجیاں اڑائیں اور بار کے نمائندوں کے لائسنس منسوخ کر کے انہیں ڈاکٹروں سے معافی مانگنے کا حکم دیتے،مگر صاحب اب تو کچھ بھی نہیں ہوتا،بس عوام خون کے آنسو رو کر خاموش ہو جاتے ہیں۔

مَیں تسلیم کرتا ہوں کہ وکلاء سے اب سب ڈرتے ہیں، اِس بات پر اگر وکلاء فخر کا اظہار کرتے ہیں تو اُن کی مرضی ہے،لیکن بطور انسان، قانون پسند شہری اور اخلاقی اقدار پر کار بند کوئی فرد اس پر فخر کا اظہارنہیں کر سکتا۔ہمارے لئے تو فخر کا مقام وہ عاجزی،انکساری، محبت اور اعلیٰ اخلاق ہے،جو ہمارے لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اُسوہئ حسنہ میں چھوڑا ہے۔ مجھے اچھی طرح علم ہے کہ وکلاء میں سینئر وکیلوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس رویے کو سخت ناپسند کرتی ہے،وہ ایسی عزت نہیں چاہتے جو لوگ خوف کی وجہ سے کریں، وہ محبت اور پیار والی عزت کے قائل ہیں اور اُن سے مل کر واقعی یہ احساس ہوتا ہے کہ بلند اخلاق ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بلند کردار بھی ہیں، مگر جو طوفانِ بدتمیزی لوگ اس کالے کوٹ کی آڑ میں دیکھ رہے ہیں،اُس نے اِن شریف النفس اور نرم خُو وکلاء کو پس ِ پردہ دھکیل دیا ہے۔اب فخر کا باعث قانون شکنی اور غنڈہ گردی ہے۔

پھر وکلاء سیاست کی وجہ سے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ کسی وکیل کو ناراض کرے۔اُس کے غلط عمل کی بھی تائید و حمایت کی جاتی ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا یہ حالیہ واقعہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔کہنے کو وکیل صاحبان فتح کا ایک اور سنگ ِ میل عبور کر گئے ہیں،مگر درحقیقت وہ ایک اور شکست کھا گئے ہیں۔پورے ملک میں کوئی ایک بندہ بھی ان کی اس فتح کا جشن منانے کو تیار نہیں، البتہ اُن پر تبرا کرنے والے لاکھوں ہیں۔کاش اس سود و زیاں کے کھیل کو وہ سمجھ سکیں،کاش وہ یہ جان سکیں کہ قانون پر حاوی ہو کر وہ کتنی بڑی قیمت چکا رہے ہیں۔کاش انہیں علم ہو کہ ان باتوں کا اثر اُن کے بچوں پر کیا ہوتا ہے۔ کاش وہ دوسروں کے ہمدرد بنیں،انہیں سربازار اور کچہریوں میں تشدد اور ظلم کا نشانہ بنانے کی بُری روایت چھوڑ دیں۔

ایک زمانے میں ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی کے عہدے بیورو کریسی کی شان ہوا کرتے تھے، خاص طور پر ڈپٹی کمشنر تو حکومت کے وقار اور دبدبے کی علامت ہوتا تھا۔جب سے سیاسی آشیرباد سے ڈپٹی کمشنر بننے کی روایت چلی ہے، اس عہدے پر بونے کردار کے حامل افسر تعینات ہونے لگے ہیں۔ جن کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی گئی ہے کہ ڈپٹی کمشنری کیرئیر میں ایک بار ملتی ہے، اسے زیادہ سے زیادہ اپنے پاس رکھو اور مال بناؤ، پھر اس کے لئے ہر جائز ناجائز کام کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ مقصد صرف ایک ہی ہوتا ہے کہ کِسی طرح کرسی بچی رہے،چاہے عزت گندے نالے میں بہہ جائے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اس کی بدترین مثال قائم کی گئی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ڈپٹی کشنر اور ڈی پی او انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتے، اگر زیادتی ان افسروں کی تھی تو قانون کے مطابق ان کے کیس کی سماعت ہوتی۔

یہ ملازمین اگر اپنا مقدمہ درج کرانا چاہتے تھے تو ان کی ایف آئی آر بھی درج کی جاتی۔ پولیس کس طرح انہیں اتنے دن تک اپنے پاس رکھ کر بیٹھی رہی، ان کی درخواست ضمانت پر کارروائی کیوں نہیں ہونے دی۔ یقینا دوسری طرف وکلاء تھے اور ان کا عدالت پر بھرپور دباؤ ہو گا، مگر ڈی پی او کس مرض کی دوا تھا، اس نے مدد کرنے کی بجائے اس بات پر کیوں زو ر دیا کہ معافی مانگ لو، جان چھوٹ جائے گی۔ کیا ہر معاملے میں ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ یہی طریقہ اختیار کرتا ہے۔ کیا اس نے معافی نامے کی چھابڑی لگا رکھی ہے۔ کیا اسے علم نہیں کہ کسی کی رضا مندی کے بغیر اس سے معافی منگوانا بھی ایک جرم ہے، جو بداخلاقی اور دوسرے کی عزت نفس پامال کرنے کی انتہائی کریہہ شکل ہے۔ عدالتی نظام کو بے بس کرکے اپنی عدالتیں لگانے کا رجحان معاشرے کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔

ایک خاص طبقہ اگر خود کو قانون سے ماورا سمجھ لے اور ریاست کے طاقتور ادارے اس کے سامنے نہ صرف لیٹ جائیں، بلکہ اس کی سہولت کاری کا فریضہ سرانجام دینے لگیں تو اس تباہی کی شدت زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ سارا میڈیا اورمعاشرے کا ہر طبقہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں نظامِ انصا ف کی اس نئی جہت پر لعنت ملامت کر رہا ہے، اس کا اگر سنجیدہ نوٹس نہیں لیا جاتا اور ہم کڑوی گولی سمجھ کر اسے نگل لیتے ہیں تو پھر آگے بھی فوری انصاف کی ایسی عدالتوں کے لئے تیار رہنا چاہیے کہ ”ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات……“۔

مزید : رائے /کالم