ہندوستان میں مذہبی شدّت پسندی کا آغاز

ہندوستان میں مذہبی شدّت پسندی کا آغاز
ہندوستان میں مذہبی شدّت پسندی کا آغاز

  



ہندوستان کا آئین 1949ء میں بن گیا تھا، جو مکمل طور پر سیکولر تھا اور 1950ء میں نافذ کر دیا گیا تھا۔ ہندوستان کی خوش قسمتی یہ رہی کہ اس کے قومی سطح کے لیڈر جنہوں نے اِنڈین کانگرس کی جد و جہد میں حصہ لیا تھا،وہ تقسم ِ ہند کے بہت بعد تک زندہ رہے اور ہندوستانی سیاست میں فعال بھی رہے۔ کانگریس تو پہلے دِن سے (1885ء) ہی لامذہبیت پر یقین رکھتی تھی، لیکن آزادی کے بعد جو دوسری سیاسی پارٹیاں معرضِ وجود میں آئیں مثلاً جنتا دَل پارٹی، بہو جن سماج پارٹی، سماج وادھی پارٹی، جن مورچہ اور کئی علاقائی سیاسی پارٹیاں بھی سیکولر ہی تھیں۔

صرف BJP ایسی پارٹی تھی جو مذہبی ایجنڈا رکھتی تھی، لیکن 1983ء تک اس پارٹی کا وجود بھارتی پارلیمنٹ میں صفر تھا۔ 1984ء میں اس کو صرف دو سیٹیں لوک سبھا میں مل سکی تھیں۔ آئین سیکولر اور کانگریسی لیڈروں کے ظاہرہ لادینی موقف کے باوجود 50ء کی دہائی سے ہی ہندوستان کی سرکاری مشینری میں مسلم مخالف طرزِ فکر نظر آنا شروع ہو گیا تھا۔ میرے والد صاحب نے تقسیم کے بعدہندوستان کی IAS ملازمت میں ہی رہنا پسند کیا تھا۔ انہوں نے 1951ء میں ہی بھانپ لیا تھا کہ پڑھے لکھے مسلمان نوجوانوں کا مستقبل ہندوستان میں اِتنا روشن نہیں ہو گا۔اِسی لئے انہوں نے مجھے ہائر سکنڈری تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان بھیج دیا۔ وہ 1964ء میں اپنی مدتِ ملازمت پوری کر کے نقل ِ مکانی کر کے پاکستان آگئے تھے۔

1966ء تک کانگرس کی حکومت لگاتاررہی۔ ہندوستان کی خوش قسمتی یہ رہی کہ 1995ء تک،آزادی کی جد و جہد میں حصہ لینے والی سینئر لیڈر شپ کا کافی بڑا حصہ زندہ رہا۔ہندو مہا سبھااور جَن سَنگھ اپنا وجود 19 ویں صدی سے ہی رکھتی تھیں، لیکن حکومتی پالیسیوں پر ابھی اثر انداز ہونے کے قابل نہ تھیں۔ یہاں تک کہ جب BJP کی مخلوط حکومت اٹل بہاری باجپائی کی سربراہی میں 1998ء میں قائم ہوئی تو ہندوتا کا ذِکر اِتنے زور و شور سے نہ تھا۔ ابھی نرندر مودی کی شیطانیت کا بھی ذکر نہ آیا تھا۔

RSS جو 1925ء میں وجود پذیر ہوئی اُس کا ایجنڈا علیٰ الاعلان مسلم مخالف تھا۔ اس پارٹی کی شروعات کاٹھیا وار/گجرات کے مرہٹوں نے کی تھی۔ اس علاقے کو اَب مہاراشٹر کہتے ہیں۔ آج بھی RSS کے بڑے لیڈر مہاراشٹر کے ہی ہیں۔ 2004ء تک RSS کا اثر و رسوخ علاقائی ہی تھا اور ابھی یہ Main stream سیاست میں عمل دخل نہیں رکھتی تھی۔ RSS ایک نیم فوجی قسم کی پارٹی تھی،جو ہٹلر کی نازی پارٹی سے متاثر ہو کر ہندو قومیت اور ہندو تا کی برتری کا نعرہ لگاتی ہے۔ 1939ء میں RSS کے لیڈر گوالکر (جو مرہٹہ تھا)نے اپنی کتاب میں مسلم مخالف نظریہ پیش کیا۔ اُس کا دعویٰ تھا کہ ہندوستان ہندوؤں کا ہے۔مسلمان غیر ہیں۔اگر وہ ہندوستان میں رہیں گے تو اُنہیں ہندو بننا پڑے گا ورنہ مسلمانوں کو بھارت ماتا سے نکال دیا جائے گا۔ 1939ء میں انگریز کا زمانہ تھا۔ گوروجی کے خیالات کو کوئی پزیرائی نہ ملی، لیکن RSS کا تارگیٹ مسلمان دشمنی ظاہر ہو گیا۔ RSS کے رُکن ناتھورام گوڈسے نے گاندھی کو اس لئے قتل کیاتھا کیونکہ وہ ہندو مسلم فسادات جو تقسیم ِ ہند کے بعد رونما ہوئے تھے، ختم کرانا چاہتے تھے۔

گو BJP راشٹریہ سیوک سَنگھ (RSS) کی سیاسی بازو تھی اور ابھی BJP میں شدّت کا عنصر نہیں آیا تھا،لیکن 1992ء میں بابری مسجد کی شہادت کے واقعے نے ہندو قومیت پرستوں کے حوصلے بڑھا دیئے تھے۔ RSS کے ساتھ اور شرپسند ہندو گروپ بھی پیدا ہوگئے۔ بجرنگ دَل، شِو سینا اور گن پتی مورچہ جیسے خالص دنگے فساد والے گروپ RSS اور BJP کے لیڈروں کے ساتھ مل کر بابری مسجد پر حملہ آور ہوئے۔ فسادیوں نے پولیس کوبھی مارا پیٹا اور 65 سے زیادہ مسلمان شہید کر دئیے گئے۔ قانون نہائت بھونڈی شکل میں حرکت میں آیا اور آج تک کچھ فیصلہ نہیں ہو سکا۔

بابری مسجد کے واقعے سے ہندو دہشت گردوں کی ہمت بڑھ گئی۔ نریندر مودی جو RSS کا لائف ممبر تھا، اس نے صوبہ گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے مسلمانوں کے قتل ِ عام کی سر پرستی کر کے دیکھ لیا تھا کہ مسلمان مخالف جذبات کو بھڑکا کر ہندو جارحیت کو حرکت میں لایا جا سکتا ہے۔ نرندرمودی کے وزیراعظم بننے سے پہلے بھی ہندو مسلم فسادات گاہے گاہے شمالی ہندوستان کے صوبوں میں (سوائے پنجاب کے) ہوتے رہتے تھے، لیکن اُن کو جلد ہی کنٹرول کر لیا جاتا تھا، کیونکہ حکومتیں سیکولر پارٹیوں کے پاس تھیں۔ دراصل 19ویں صدی سے ہی مسلمانوں کے خلاف تعصبات کی اِبتدا ہو چکی تھی، لیکن اِن تعصبات کی نوعیت کتابی حد تک تھی۔ عملی شدت پسندی ابھی نمودار نہیں ہوئی تھی۔ اگر دیکھا جائے تو دوقومی نظرئیے کی داغ بیل ہندو قوم پرستوں نے 1866ء میں ڈال دی تھی۔ بھائی پرمانند جو ہندو مہا سبھا کا بڑا لیڈر تھا (1876ء - 1847ء)، راج نارائن باسو، لالہ لاجپت رائے اور آریہ سماج کے Founder دیانند کا یہ کہنا تھا کہ ہندو بھارت کے اصل باشندے ہیں، جبکہ مسلمان ہندوؤں سے الگ قوم ہیں۔

آریہ سماج اور برہموسماج ہندو نشاۃ ثانیہ کی تحریکیں تھیں جس کا مرکزی خیال مسلمانوں کے بنیادی اعتقاد کہ معبود ایک ہے اور اُ سکا کوئی شریک نہیں ہے اور یہ کہ بُت پرستی حرام ہے، سے لیا گیا تھا۔ آریہ سماجیوں کا خیال تھا کہ اُن کا مرکزی خیال جو پرماتما کی وحدت پر یقین رکھتا ہے، مسلمانوں کے لئے پُر کشش ہو گا۔آریہ سماجی تحریک پنجاب میں زیادہ زور و شور سے پھیلی لیکن یہ مسلمانوں کو ہندو مذہب کی طرف راغب نہ کر سکی۔ برہمو سماج بنگال میں زیادہ پھیلی۔ یہ سب بتانے کا مقصد یہ تھا کہ مسلم لیگ کا دو قومی نظریہ قریباً 90 سال بعد معرضِ وجود میں آیا ورنہ تو ہندو ہم مسلمانوں کو 19ویں صدی سے ہی الگ قوم سمجھتے تھے۔ وہ تو کانگریس کی سیاسی پلاننگ تھی جس کے تحت اُس نے اپنے آپ کو سیکولر جماعت کے زمرے میں شمار کیا تاکہ گانگریس میں دوسرے مذاہب اور ہندوؤں کی نچلی ذاتیں بھی شامل ہو سکیں۔

دراصل ہندو شدّت پسندی کی شروعات تو بابری مسجد کے واقعے سے 1992ء میں ہو چکی تھی لیکن اِسے عروج ملنا شروع ہوا جب RSS کا ایک فعال ممبر نرندر مودی، صوبہ گجرات کا 2001ء میں وزیر اعلیٰ بنا اور 2014ء تک اِس شیطان نے مسلمان دشمنی کا عملی مظاہرہ اپنے ہی صوبے میں کیا۔ سب سے پہلے تو ہر طالب ِ علم جو بورڈ کا امتحان دینا چاہتا تھا اُس سے مذہب کا خانہ پُر کرنے کے لئے کہا گیا۔ 2001ء سے پہلے داخلہ فارم میں مذہب کا خانہ نہیں تھا۔ یہ منصوبہ مودی کی صوبائی حکومت نے مسلمان نوجوانوں کی صوبہ گجرات میں کل تعداد جاننے کے لئے شروع کیا تھا۔ گجرات میں مسلمانوں کی آبادی 10فیصد سے زیادہ ہے۔ 2002ء میں مودی نے گجرات کے مسلمانوں کا قتل ِ عام پولیس کی نگرانی میں کروایا۔ اُن ہی دِنوں اس نے اپنی ایک تقریر میں اعلان کیا کہ جس طرح پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے اسی طرح بھارت صرف ہندو کا ملک ہے۔

ہندو مہا سبھا کا 19 ویں صدی کا ایجنڈا جو RSS نے 1925ء میں اِختیار کیا اُس کو مودی نے اپنی وزارت اعلیٰ کے دوران عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا۔ 2004ء سے 2014ء تک ہندوستان کی مرکزی حکومت سیکولر ہی رہی، لیکن نرندر مودی کا مسلم مخالف زہر صوبہ گجرات کے علاوہ راجستھان، اُترپردیش، مدھیہ پردیش اور بہار میں بھی پھیلنے لگا۔ ہندو قومیت کا پرچار زیادہ ہونے لگا۔ ہندو فسادی گروہ جیسے کہ بجرنگ دَل، بال ٹھاکرے کی شِو سہنا، گؤ رکشا دَل، گن پتی مورچہ اور وشِوا ہندو پریشد، صوبوں میں زیادہ فعال ہوگئے۔ اِن کا جھو ٹا اور بے بنیاد دعویٰ تھا کہ جس طرح پاکستان میں شدّت پسند گروہ ہیں اور اَقلیتوں کو ختم کرنے کے لئے ہیں اِسی طرح ہم بھی غیر ہندوؤں کو ختم کریں گے یا ہندو بنا کر یا ملک سے باہر نکال کر یا اُنہیں سِرے سے ختم کر کے۔

اِن گروہوں کے لیڈروں اور آریہ سماجیوں کا خیال ہے کہ ہندوستان کا مسلمان آدھا مُشرک تو ہو چکا ہے۔ ہندو مسلمانوں کی مزار پرستی کو اپنی بُت پرستی کی مانند سمجھتے ہیں۔ 95 فیصد نوجوان صرف برائے نام مسلمان رہ گئے ہیں۔ اُنہیں اِسلام کی مبادیات کا کوئی علم نہیں ہے۔ ہندوستان میں جو اسلامی پارٹیاں ہیں وہ حکومت کی وظیفہ خوار ہیں اس لئے اگر مسلمانوں کی شُدھی کی تحریک شروع کی جائے تو 15-20 سال میں مسلمانوں کی نوجوان نسل ہندو دھرم میں شامل ہو جائے گی۔ ہندو قوم پرستوں کو یقین ہے کہ اگر ہندوستان کے مسلمانوں کی شُدھی ہوئی یا اُن کا دیس نکالا کیا گیا تو کوئی مسلمان ملک شور نہیں مچائے گا۔دائیں بازو کے ہندؤ دانشوروں کا خیال ہے کہ جس طرح 15ویں اور 16 ویں صدی میں سپین سے مسلمانوں کو نکالا گیا تھا یا اُن کو مسیحی بنایا گیا تھا اور اُس وقت کی طاقتور مسلمان بادشاتیں، ایران، ترکی اور ہندوستان کے مغل بادشاہ، خاموشی اِختیار کئے رہے، اِسی طرح ہندوستان کے مسلمانوں کی ہمدردی میں آج بھی کوئی مسلمان حکمران آواز تک نہیں نکالے گا۔

یہ تو عمران خان کا واحد کیس ہے کہ اُس نے UNO میں مسلمانوں کے لئے آواز اُٹھائی خاص طور پر کشمیر کے مسلمانوں کے لئے۔ لیکن عمران خان کی تقریر سے کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا۔ ہندوستان کشمیر بھی ہڑپ کر جائے گا اور مسلمانوں پر ظلم بھی روا رکھے گا۔ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرنے کی مہم تو 1992ء سے ہی ہندو قوم پر ستوں نے بابری مسجد کے حوالے سے شروع کر دی تھی لیکن 1999ء میں ہندوتا کا پر چار Loud & clear ہونا شروع ہو گیا۔ مسلمانوں کے خلاف تشدد گردی کی اِبتدا زیادہ زور و شور سے ہو گئی۔ آریہ سماجیوں اور بال ٹھاکرے کی تنظیم نے مسلمانوں کے خلاف تحریری مہم شروع کردی۔ 2014ء کے بعد جب سے نریندر مودی ہندوستان کا وزیراعظم بنا ہے، وہاں کے مسلمانوں کے جان و مال کو ہر وقت خطرہ ہے۔ مسلمان گھُٹ کرزندہ رہ رہے ہیں۔ جمعیت اسلام ہند کے مولوی خوفزدگی کے عالم میں کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ کہنے پر مجبور ہیں۔ ہندوستان میں دائیں بازو کی سیاست عروج پر ہے۔ گؤ ماتا کی رکشا کے لئے مسلمانوں کے قتل میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ سب حکومت کی سرسپرستی میں ہو رہا ہے اور وہاں کے مسلمان سہمے ہوئے ہیں خاموش ہیں۔

مزید : رائے /کالم