گنے کی فصل کو کپاس پر ترجیح دینا ملکی سلامتی کیلئے خطرہ اکانومی واچ

گنے کی فصل کو کپاس پر ترجیح دینا ملکی سلامتی کیلئے خطرہ اکانومی واچ

  



لاہور(لیڈی رپورٹر)پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ گنے کی فصل کو کپاس کی فصل پر ترجیح دینے کی پالیسی ملکی سلامتی کے لئے خطرہ بن رہی ہے۔عوام کو دنیا میں سب سے مہنگی چینی خریدنے پر مجبور کرنے کے باوجود با اثر شوگر مافیامطمئن نہیں اور اپنے منافع میں اضافہ کے لئے معیشت کی قبر کھودنے میں مصروف ہے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ ملک میں شوگر ملز کی تعداد ضرورت سے زیادہ ہونے کے باوجودہ بہت سے مل مالکان اپنی پیداواری صلاحیت میں خاموشی سے توسیع کر رہے ہیں جس کا ملبہ عوام پر گرتا ہے کیونکہ ہر سال اضافی چینی کو برامد کرنے کے لئے قدمی خزانے سے اربوں روپے کی سبسڈی دی جاتی ہے۔یہ جانتے ہوئے کہ ٹیکسٹائل ملیں ایک کروڑ افراد کو روزگار اورساٹھ فیصد برامدات کے زریعے سوا تیرہ ارب ڈالر تک زرمبادلہ کماتی ہیں جس سے ملک چلتا ہے چینی کے لاڈلے شعبہ کی ترقی کے لئے کپاس کے اہم شعبہ کو کمزور کیا جا رہا ہے۔کبھی بھارت سے زیادہ کپاس پیدا کرنے والا ملک امسال ڈیڑھ ارب ڈالر سے زیادہ کی کپاس درامد پر مجبور ہے کیونکہ اسکی فی ایکڑ پیداوار اور زیر کاشت رقبہ میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔گزشتہ چند سال میں کپاس کے زیر کاشت رقبہ میں 29 فیصد کمی آئی ہے کیونکہ کپاس کے کاشتکاروں کو گنے کی فصل کے طرف دھکیلا جا رہا ہے جس کی وجہ سے گزشتہ نو سال میں گنے کے زیر کاشت رقبہ میں پینتالیس فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے بعض دیگر فصلیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔گنے کی پیداوار بڑھنانا عوام پر بوجھ ہے جبکہ اگر کپاس کی پیداوار بڑھائی جائے تو ملک کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل کی صنعت روزگار اور زرمبادلہ میں اضافہ کا سبب بنے گی۔ڈاکٹر مغل نے کہا کہ چینی کی درامد پر بھی چالیس فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کی گئی ہے ورنہ عوام کو یہ نصف قیمت میں دستیاب ہو سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ آڑھتیوں کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے جو کاشتکاروں سے کپاس کوڑیوں کے مول لے کر ملوں کو سونے کے بھاؤ بیچ رہے ہیں جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ اور برامدات مشکل ہو جاتی ہیں جبکہ ملک کسی بھی صورت میں ٹیکسٹائل کی صنعت کی آمدنی میں کمی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

مزید : کامرس /رائے /اداریہ