جے یو آئی کی ملیشیا فورس انصار الاسلام پر پابندی کا فیصلہ،آزادی مارچ روکنے کی حکمت عملی تیار،450کنٹینرز منگوالئے گئے،فوج طلب کرنے کا آپشن بھی موجود

جے یو آئی کی ملیشیا فورس انصار الاسلام پر پابندی کا فیصلہ،آزادی مارچ روکنے ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ذیلی تنظیم انصارالاسلام کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  جے یو آئی ف کی ذیلی تنظیم لٹھ بردار ہے اور قانون اس کی اجازت نہیں دیتا، جے یو آئی میں شامل تنظیم پارٹی منشور کی شق نمبر 26 کے تحت الیکشن کمیشن میں بھی رجسٹرڈ ہے۔ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے جمعیت علمائے اسلام ف کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کو کالعدم قرار دینے کے لیے سمری وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کو ارسال کر دی ہے۔سمری میں کہا گیا ہے کہ جے یو آئی ف کی ذیلی تنظیم لٹھ بردار ہے اور قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔وزارت قانون کو بھیجی گئی سمری میں کہا گیا ہے کہ قانون میں کسی قسم کی مسلح ملیشیا کی اجازت نہیں۔ وزارت داخلہ نے کارروائی کیلئے وفاقی کابینہ سے منظوری لے لی۔ آرٹیکل 256 اور 1974 کے سیکشن 2 کے تحت انصار الاسلام پر پابندی عائد کی جائے گی، وفاقی حکومت نے ا?رٹیکل 146 کے تحت وزارت داخلہ کو صوبوں سے مشاورت کا اختیار دے دیا۔سمری میں کہا گیا ہے کہ حکومت مشاورت سے وزارت داخلہ کے ذریعے صوبوں کو انصارالاسلام کیخلاف کارروائی کا اختیارسونپے گی، وفاقی حکومت کی ہدایت پر مکمل عملدرآمد کے لیے صوبوں کو ہر قسم کی کارروائی کا اختیار ہوگا، حساس اداروں کی رپورٹس کے مطابق جے یو آئی نے ایک مسلح تنظیم تشکیل دی ہے، باوردی فورس نے خاردار تاروں سے لیس لاٹھیاں اٹھا کر پشاور میں مارچ کیا۔سمری میں مزید کہا گیا کہ باوردی فورس بظاہر حکومت کی رٹ چیلنج کرنا چاہتی ہے، مسلح فورس قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ٹکرانے کی تیاری کرتی نظر آئی، 80 ہزار سے زائد افراد پر مشتمل مسلح فورس کے آزادی مارچ کے موقع پر امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہے، مسلح فورس کے طور پر انصار الاسلام کا قیام آئین کے آرٹیکل 256 کی خلاف ورزی ہے، انصار الاسلام کے فورس کا اسلحے سے لیس ہونا بھی خارج از امکان نہیں۔انصار الاسلام کی سرگرمیوں اسلام آباد اور چاروں صوبوں کے امن کے لیے خطرہ ہیں، آئین کا آرٹیکل 256 مسلح تنظیم بنانے سے روکتا ہے، نیشنل ایکشن پلان کے مطابق کسی مسلح تنظیم کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، پرائیویٹ ملٹری آرگنائزیشن ایکٹ 1974 کے تحت وفاقی حکومت مسلح تنظیم کو ختم کرنے کی ہدایت کر سکتی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ جے یو آئی میں شامل تنظیم پارٹی منشور کی شق نمبر 26 کے تحت الیکشن کمیشن میں بھی رجسٹرڈ ہے
پابندی فیصلہ


 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن،این این آئی)مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے نمٹنے کے لیے حکومت نے منصوبہ بندی شروع کردی۔ ذرائع کے مطابق آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج طلب کی جا سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق امن و امان کی صورتحال کے پیش نظرسرکاری عمارتوں اور اہم تنصیبات پر فوج تعینات کرنے پر غوربھی کیا جارہا ہے جب کہ فوج طلبی کا حتمی فیصلہ وزارت داخلہ کرے گی۔دوسری طرف آزادی مارچ کو روکنے کیلئے پولیس نے حکمت عملی تیار کرلی دنیا نیوز کے مطابق جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ کے حوالے سے اسلام آباد پولیس نے بڑا فیصلہ کیا ہے، قیام امن کے لئے مشترکہ لائحہ عمل تیار کر لیا گیا ہے، کسی بھی جتھے، لشکر یا جلوس کے جڑواں شہروں میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔آئی جی اسلام آباد نے واضح کیا کہ کسی شخص یا گروہ کو کوئی سڑک بند کرنے یا شہریوں کی آزادی سلب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ احتجاج کے نام پر قانون کو ہاتھ میں لینے والے فوری گرفتار ہوں گے۔ لاقانونیت کرنے والے جھتوں کو جڑواں شہروں میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔انسپکٹر جنرل پولیس عامر ذوالفقار خان کا کہنا ہے کہ محکمہ داخلہ نے امن و امان یقینی بنانے کے لیے جو ایس او پیز جاری کئے ہیں ان پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا اور جڑواں شہروں کے چپیچپے پر قانون کی حکمرانی بر قرار رہے گیذرائع کے مطابق سیکڑوں کنٹینرز منگوالیے میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس افسران نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس نے 550 سے زائد شپنگ کنٹینرز کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک دیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ سٹی، صدر، انڈسٹریل ایریا اور رورل پولیس کے زونل سپرنٹنڈنٹس کی جانب سے پولیس کے لاجسٹک ڈویژن سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے۔سٹی زون کی جانب سے 250 کنٹینرز کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دیگر 3 زونز نے 100، 100 کنٹینر مانگے ہیں جس کے بعد محکمہ لاجسٹکس نے وینڈرز کو 450 کنٹینرز کا انتظام کرنے کا کہہ دیا ہے، ساتھ ہی یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ مزید ضروریات کے لیے بھی وہ تیار رہیں۔افسران کے مطابق ہر کنٹینر کے یومیہ کرائے کی مالیت 5 ہزار روپے سے زائد ہے۔اسلام آباد میں تقریباً 100 کنٹینرز ریڈ زون کے اندر اور اطراف میں 10 مقامات کیلئے درکار ہوں گے، ان مقامات میں پی ٹی وی چوک، ایوب چوک، آغا خان روڈ، شاہراہ دستور پرسیکریٹریٹ چوک اور فرانس چوک، شاہراہ جمہوریت پر ریڈیو پاکستان چوک، خیابان سہروردی پر سرینا چوک، مری روڈ اور مارگلہ روڈ پر کنوینشن سینٹر شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے ایکسپریس وے کی فیض آباد سے کورل فلائی اوور تک دونوں طرف سے جڑنے والی ہر سڑک کو بلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ یہ علاقہ مظاہروں اور امن و امان کے دیگر مسائل کے دوران ان کے لیے واٹرلوو بن گیا ہے۔افسران نے بتایا کہ روالپنڈی سے آئی۔جی پرنسل روڈ کے لیے جڑنے والی تمام سڑکوں کو بھی سیل کیے جانے کا امکان ہے اور یہ اقدام مارچ میں شریک ہونے والے یا دارالحکومت میں جمع ہونے والے لوگوں کو روکنے کے لیے کیا جائیگا۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ لاجسٹک کے اسلحہ خانے میں ایک ہزار گیس ماسک، 200 آنسو گیس کے لانچر اور 13 ہزار شیل موجود ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اگر ضرورت ہوئی تو کافی لاٹھیاں، پلاسٹک ہیل میٹس، جیکٹس، شیلڈ، شن گارڈز اور اسلحہ موجود ہے۔دوسری جانب افسران کے مطابق پولیس کی جانب سے مقامی تاجروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے آزادی مارچ کے منتظمین یا شرکا کے ساتھ کوئی کاروبار کیا تو قانون کارروائی کی جائیگی۔ان تاجروں میں کھانا پکانے والی سروسز، ٹینٹ سروس، ہوٹلز، موٹلز، گیسٹ ہاؤسز اور سرائے خانے، جنریٹرز، ورکشاپس، ہارڈویئر اسٹورز، ویلڈنگ ورکشاپس، ساؤنڈ سسٹم سروسز، کھدائی کرنے والے اور کرین مالکان شامل ہیں۔
دھرنا حکمت عملی


 لاہور(جاوید اقبال) حکومت پنجاب نے آزادی مارچ کو ناکام بنانے کے لیے پنجاب پولیس کو حکومت مخالف سیاسی رہنماؤں کی خفیہ نگرانی  کی ہدایہت کردی۔ بڑے پیمانے پر کارکنوں کو گرفتارکر کے تھانوں میں بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن اور مذہبی جماعتوں کے اہم رہنماؤں اور فعال کارکنوں کی نگرانی شروع کرد ی گئی ہے اس سلسلے میں سپیشل برانچ کو بھی اہم ٹاسک دیا گیا ہے تھانے کی سطح پر ایسے کارکنوں کے ناموں کی فہرستیں مرتب کرنے کا کام شروع ہو گیا ہے۔آزادی مارچ سے دو روز قبل اسلام آباد کی طرف جانے والے راستوں کی نگرانی  شروع کر دی جائے گی۔اس سلسلے میں ٹرانسپوٹرز سے بھی رابطہ کیا جارہا ہے کہ وہ اپنی ٹرانسپورٹ اپوزیشن کو نہ دیں۔تمام کمشنرز اور ڈی سی اوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے ڈسٹرکٹ میں اپنے اپنے اضلاع کی ٹرانسپورٹ کو اپنی کسٹڈی میں لینے کے انتظامات کریں اور اسلام آباد مارچ کے لیئے ٹرانسپوٹ کی بکنگ نہ کرنے دیں اس سلسلے میں ہر ضلع کے ڈی پی او کو بھی ٹاسک دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی محکمہ داخلہ کی طرف سے کے پی کے اور پنجاب حکومتوں کو اس سلسلے میں سخت ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔جس میں کہا گیا ہے کہ امن امان قائم رکھنے کے لیئے  اگر کسی ڈپٹی کمشنر کو رینجرز کی خدمات حاصل کرنا پڑیں تو وہ آزاد ہوں گے۔اس حوالے سے وزیر قانون بشارت راجہ سے بات کی گئی تو انھوں نے کہا کہ امن امان قائم رکھنا حکومت کی پہلی ذمہ داری ہے کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اور نہ ہی اس کی اجازت دی جا سکتی ہے۔حکومت نے مولانا کو مذاکرات کی دعوت دے رکھی ہے مولانا آئیں اور مزاکراتی میز پر بیٹھ جائیں۔
پنجاب تیاریاں 

مزید :

صفحہ اول -