سیاسی مخالفین سے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے،مولانا حامد الحق حقانی

  سیاسی مخالفین سے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے،مولانا حامد الحق حقانی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


نوشہرہ کینٹ(آن لائن)سربراہ جمعیت علمائے اسلام (س)اورچیئرمین دفاع پاکستان کونسل مولانا حامد الحق حقانی نے علماء و مشائخ کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان سے ہونیوالی ملاقات کے بارے میں کہا انہوں نے وزیراعظم سے اپنی تقریر میں پرزور مطالبہ کیا کہ ریاست مدینہ کی تشکیل اور اس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے فوری اسلامی نظام کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے، جس سے پاکستان معاشی ومعاشرتی بحران سے نکل سکے گا۔آپ سب سے پہلے کام اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عملدرآمدکروا کر اسلامائزیشن کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں، مو لا نا حقانی نے کہاکشمیر کاز میں ہم ملک و ملت اور پاک آرمی کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ کشمیر کی آزادی کیلئے دنیا کے ہر فورم اور خاص طور پر ملک میں سیاسی جدوجہد اور سفارتی مہم بھی قابل تحسین ہیں مگر مودی کی جارحیت انتہائی بھیانک شکل اختیار کرگئی ہے جس کیلئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔ مولانا سمیع الحق شہید ہوتے ہوتے کشمیر کی آزادی کا حل جہاد کے ذریعے بتا گئے، انہوں نے شہادت سے بیس دن قبل آپ سے ملاقات میں یہ بھی کہا ختم نبوت اور اسلامی دفعات آئین سے نکالنے پر ملک انتشار کا شکار،قومی یکجہتی ختم ہوگی تو آپ اسی پر قائم دائم اگر رہیں گے اور اللہ ورسول ؐکے راستے کو ملک و قوم و ملت کیلئے پسند کریں گے تو پاکستان تمام خارجی اور داخلی بحرانوں سے نکل کر دنیا میں اپنا تشخص بنا سکے گا۔ مولانا حقانی نے کہاکچھ وزراء علمااور مدارس سے متعلق بیان بازی کے دوران سخت لب و لہجہ رکھتے ہیں، خواہش ہے سیاسی مخالفین سے بات چیت اور مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے،تو شاید ''سیز فائر'' ممکن ہوسکے گا،مذاکرات اور افہام و تفہیم کی فضا اور حالیہ حکومت کی جانب سے قائم کی جانیوالی مصالحتی مذاکراتی کمیٹی بھی علماء کی ملاقات کا نتیجہ ہے۔مدارس کی اصلاحات میں سوچ وبچار او ر ممتاز علما کرام،دانشوروں اورمہتممین حضرات کی مشاورت سے اچھی نیت کیساتھ اقدامات اٹھانے چاہیے،تاکہ مسئلے کا حل نکلے نہ کہ بے چینی بڑھ جائے اوران پرائیویٹ اداروں کا اختیار بھی بڑے بڑے خانوادوں اور بزرگان دین کے خاندانوں کے اختیار میں نہ رہے،ان مدارس کے قیام کی بنیاد پاکستان بننے سے پہلے علماء ومشائخ نے کی،یہی پاکستان کی بقاء،دفاع کے اصل نظریاتی چوکیدار اور قلعے ہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی،مولانا نور الحق قادری وزیرمذہبی امور نے مولانا حقانی کی تائید کرتے ہوئے کہاہم پہلے سے زیادہ ملک بھر کے تمام مسالک کے علماکیساتھ رابطہ میں رہیں گے۔مدارس اور خانقاہوں سے دینی تعلیم و روحانی تعلیم وتربیت ہی سے پاکستان اور قوم یکجا رہ سکتے ہیں۔
حامد الحق حقانی

مزید :

صفحہ اول -