آزادی مارچ،حکومتی ٹیم کی جے یو آئی سے آج ملاقات،صادق سنجرانی کا عبدالغفور حیدری سے رابطہ،وزیر اعظم کا استعفا نا ممکن،پرویز خٹک،مذاکرات سے پہلے عمران خان اپنے دھرنے پر قوم سے معافی مانگیں:(ن) لیگ

آزادی مارچ،حکومتی ٹیم کی جے یو آئی سے آج ملاقات،صادق سنجرانی کا عبدالغفور ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد مانیٹرنگ ڈیسک) جے یو آئی کے آزادی مارچ کو روکنے اور اپوزیشن رہنماؤں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی غرض سے قائم کی گئی کمیٹی نے جے یو آئی سے پہلا باضابطہ رابطہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق 7 رکنی حکومتی کمیٹی کے رکن و چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے جے یو آئی ف کے جنرل سیکریٹری عبدالغفور حیدری سے رابطہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق عبدالغفور حیدری نے بتایا کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ملاقات کرکے آزادی مارچ کے حوالے سے بات کرنا چاہتے ہیں۔عبدالغفور حیدری نے بتایا کہ انہوں نے چیئرمین سینیٹ کو واضح کردیا ہے کہ ہمارا مؤقف صاف ہے اور وہ یہ کہ وزیراعظم کے استعفے کے بعد ہی باضابطہ مذاکرات ہوں گے۔عبدالغفور حیدری کے مطابق ان کے واضح مؤقف کے باوجود چیئرمین سینیٹ ملاقات کے خواہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب دیکھتے ہیں چیئرمین سینیٹ کیا تجاویز اور سفارشات سامنے لاتے ہیں، ہماری کل شام کی ملاقات طے ہوگئی ہے۔خیال رہے کہ آج ہی مولانا عبدالغفور حیدری نے جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے لیکن حکومت کی باتوں سے تو ایسا لگ رہا ہے کہ وہ مذاکرات کرنا چاہتی ہی نہیں ہے۔سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کے استعفیٰ کے بغیر مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔جمعیت علمائے اسلام (ف) نے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کررکھا ہے جس کی جماعت اسلامی کے سوا تمام اپوزیشن کی جماعتوں نے حمایت کی ہے جبکہ آزادی مارچ کے اعلان کے بعد سے ہی ملک میں سیاسی گرما گرمی میں اضافہ ہوگیا ہے۔حکومت کی جانب سے وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں 7 رکنی مذاکراتی کمیٹی بنائی گئی ہے جس نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے تاہم اب مسلم لیگ (ن) نے اس پیشکش کو مسترد کردیا ہے۔ 
رابطہ


  اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،این این آئی)وزیر دفاع اور اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کیلئے بنائی گئی حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے واضح کیا  ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا استعفیٰ ناممکن سی بات ہے،  مولانا فضل الرحمن چڑھائی کرنا چاہتے ہیں جو درست نہیں،تمام اپوزیشن جماعتوں سے درخواست کررہے ہیں آکر بات کریں،جب میز پر بیٹھیں گے تو بات ہوگی، اگر اپنے مطالبات سامنے نہیں لائیں گے تو پھر افراتفری ہوگی اور ملک کو نقصان پہنچے گااس کی تمام ذمہ داری اپوزیشن پر ہوگی،مذاکرات نہیں کرینگے تو حکومت نے آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہیں، پھر سب کو برداشت کرنا پڑے گا،جو معاملہ پاکستان کے حق میں ہوگا ہم اس کیلئے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں،کوئی سمجھتا ہے ہم نے گھبرا کر کمیٹی بنائی تو وہ غلط فہمی میں نہ رہے،اپوزیشن سے رابطے کیے ہیں، ہمیں مثبت رسپانس ملا ہے،اب حکومت کی جانب سے کوئی بیان بازی نہیں ہو گی۔ ہفتہ کو یہاں حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ارکان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  وزیردفاع پرویز خٹک نے کہا کہ جب ہم نے اسلام آباد کی طرف مارچ کیا تھا تو ہمارے پاس ایک موقف تھا ایسے ہی ہم نے مارچ نہیں کردیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت صرف زبانی بات نہیں کررہے تھے بلکہ پاناما کا معاملہ اس وقت سامنے آیا تھاجس پر ہم نے سب سے درخواست کی کہ اس پر تحقیقات کی جائے لیکن کسی نے ہماری بات نہیں سنی، تاہم جب پاناما کا معاملہ ہوا تو بھی ہم چھپے نہیں ہم نے حکومتی لوگوں سے بات کی۔حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نے کہا کہ ہم تمام اپوزیشن جماعتوں سے درخواست کر رہے ہیں کہ آکر بات کریں کیونکہ اگر آپ کے پاس کوئی مسئلہ، کوئی مطالبہ ہے تو بات کریں، ملک میں جمہوریت ہے جب میز پر بیٹھیں گے تو بات ہوگی تاہم اگر اپنے مطالبات سامنے نہیں لائیں گے تو پھر افراتفری ہوگی۔پرویز خٹک نے کہا کہ ہماری جانب سے بار بار بات کرنے کا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی مسئلہ ہے تو اسے بات چیت سے حل کریں، تاہم اگر آپ بیٹھ کر بات نہیں کریں گے تو پھر جو افراتفری پھیلے گی، ملک کو نقصان پہنچے گا تو پھر ذمہ داری اْن پر ہے، پھر ہم سے کوئی گلا نہ کرے کیونکہ اس کے بعد حکومت نے آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہیں اور پھر سب کو برداشت کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہاکہ اگر کوئی بات ہی نہیں کرتا تو اس کا مطلب ایجنڈا کچھ اور ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ دیکھا جائے کہ ملک کے حالات کیسے ہیں، کشمیر کا معاملہ سب کے سامنے ہے لیکن اس وجہ سے کشمیر کا معاملہ پیچھے چلا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کشمیر کے معاملے کو دبانے کے لیے یہ ایجنڈا بنایا گیا ہے، ہم نے پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنماؤں سے بات کی اور انہیں اپنا پیغام پہنچایا کہ آکر بات کریں اور مجھے امید ہے کہ جو بھی معاملہ ہوگا بیٹھ کر بات کی جائے گی۔حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نے کہا کہ  ہمیں پاکستان کی فکر ہے، اگر کسی کی زندگی کو نقصان پہنچا، کاروبار خراب ہوا تو اس کا ازالہ کون کرے گا؟، ہم نے اپنے تمام کارڈز کھول دئیے ہیں، اگر کل کو کچھ ہوا تو پھر کہا جائے گا کہ حکومت یہ کر رہی لیکن حکومت نے وہی کرنا ہے جو قانون کے مطابق ہوگا، حکومت نے وہی فیصلے کرنے ہیں جس سے ڈیڈلاک نہ آئے اور کسی کی جان و مال کو نقصان نہ پہنچے، اگر یہ لوگ نہیں رکیں گے تو پھر حکومت اپنی رٹ قائم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت صرف عمران خان نہیں بلکہ ایک ریاست ہے اور اگر کوئی اس نظام کو توڑنا چاہتا ہے تو پھر جواب ملے گا،۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارتی ٹی وی چینلز دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے ایجنڈے پر کام ہورہا ہے اور پاکستان میں افراتفری پھیل گئی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ مولانا کے مارچ کی خبروں کے بعد کشمیر کا ایجنڈا میڈیا سے ہٹ گیا ہے،اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کس کا ایجنڈا ہو سکتا ہے؟اگر مولانا صاحب کا کوئی ایشو ہے تو ہم سے بات کریں،انکی ہر بات سنیں گے،اگر وہ بات نہیں کرتے تو اسکا واضح مطلب ہو گا کہ انکا ایجنڈا کچھ اور ہے۔ انہوں نے کہاکہ سب پاکستانی ہیں، مجھے یقین ہے مولانا کسی کے ایجنڈے پر نہیں چلیں گے۔ وزیراعظم کے بیان پر پرویز خٹک نے کہاکہ کسی نے کسی کو گالی نہیں دی، اپوزیشن خود اپنی باتوں پر توجہ دے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ چیئرمین سینٹ اس کمیٹی کا حصہ ہیں،پہلے ہماری کوشش تھی کہ  وزیر اعلیٰ بلوچستان شامل ہوں،اگر  وزیر اعلیٰ بلوچستان شامل ہوے تو سنجرانی صاحب شامل نہیں ہوں گے،اسپیکر پنجاب  اسمبلی پرویز الٰہی کمیٹی کا حصہ ہیں۔ شفقت محمود نے کہاکہ میں تنبیہ کرتا ہوں کہ مولانا مدارس کے بچوں کو مارچ یا دھرنے کے لیے استعمال نہ کریں۔ پرویز خٹک نے کہاکہ اپوزیشن سے رابطے کیے ہیں، ہمیں مثبت رسپانس ملا ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ہماری کمیٹی صرف مذاکرات کے لیے ہے، اگر مذاکرات ناکام ہوے تو حکومت اور وزارت داخلہ فیصلہ کریں گے کہ کیسے نمٹنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ہم اپوزیشن کے پاس چل کر جانے کے لیے بھی تیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی سرحدوں پر حالات بہت خراب ہیں،اگر اپوزیشن مذاکرات کے لیے نہ مانی تو اسکا مطلب ہو گا کہ وہ مودی اور بھارت کو خوش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاست مسلح جتھوں کی اجازت کسی حال میں بھی نہیں دے سکتی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ اب حکومت کی جانب سے کوئی بیان بازی نہیں ہو گی،اگر اپوزیشن کو پاکستان اور کشمیریوں سے محبت ہے توبات چیت کریں گے۔
پرویز خٹک


 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کہا ہے کہ مذاکرات سے پہلے عمران خان 2014 کے دھرنے پہ قوم اور نواز شریف سے معافی مانگیں، احتجاج عوام کا آئینی، قانونی اور جمہوری حق ہے، خود دھرنے دینے والے کیسے اعتراض کر سکتے ہیں؟، پی ٹی وی، سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ پر چڑھائی کرنے والے کس منہ سے آج درس دے رہے ہیں؟۔ہفتہ کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے حکومتی مذاکراتی ٹیم کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم گالیاں نکالے اور وزراء مذاکرات کا جھانسہ دیں، ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ نااہل اور نالائق حکومت قومی، دفاعی، خارجی سلامتی و بقاء کا مسئلہ بن چکی ہے، اسے جانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ احتجاج عوام کا آئینی، قانونی اور جمہوری حق ہے، خود دھرنے دینے والے کیسے اعتراض کر سکتے ہیں؟۔انہوں نے کہا کہ مفتی یو ٹرن فضائل دھرنہ اور استعفیٰ پر اپنے فتاوی کا مطالعہ کریں۔انہوں نے کہا کہ حکومتی مذاکرات کی پیشکش بغل میں چھری، منہ پہ رام رام کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ126 دن کے دھرنے میں سکول بند رہے، چینی صدر کا دورہ نہ ہوسکا، اب بچوں کی تعلیم کا خیال آ رہا ہے؟۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے پہلے عمران خان 2014 کے دھرنے پہ قوم اور نواز شریف سے معافی مانگیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی، سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ پر چڑھائی کرنے والے کس منہ سے آج درس دے رہے ہیں؟،سول نافرمانی، ہنڈی، منتخب وزیراعظم کو گلے سے گھسیٹ لاو کے نعرے آج بھی لوگوں کے ذہن میں محفوظ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف نالائق وزیراعظم مذاکراتی ٹیم کا دھوکہ دیتا ہے، تودوسری جانب سیاسی مخالفین کو گالیاں دیتا اور تضحیک کرتا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پاس اپنی نالائقی اور نااہلی پر مبنی کارکردگی کے لئے کوئی بیانیہ موجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ شہبازشریف اور مولانا فضل الرحمن ہی نہیں پورا پاکستان آپ کو نااہل اور ناکام کہہ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان کو تالا، اپوزیشن کو انتقامی کاروائی کا نشانہ، ہر مخالف آواز بند، ایسی فسطائیت کیخلاف کھڑے ہونا عین جمہوریت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور خان کی حماقتوں سے نجات چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام، اپوزیشن، تاجر، مزدور، طلبہ اور میڈیا سب باہر نکلیں گے
 احسن اقبال

مزید :

صفحہ اول -