سینیٹ کمیٹی نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈمیں بد انتظامی کا نوٹس لے لیا

سینیٹ کمیٹی نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈمیں بد انتظامی کا نوٹس لے لیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


  اسلام آباد (صباح نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس و ٹیکسٹائل کے چئیرمین سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ (ای ڈی ایف) میں بے ضابطگیوں کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت تجارت کے اعلیٰ حکام کو وضاحت کے لئے بائیس اکتوبر کو طلب کر لیا ہے۔انھوں نے وزارت خزانہ کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ برامدات بڑھانے کے نام پرکاروباری تنظیموں کو قومی خزانے سے ادائیگیاں بند کی جائیں اور گزشتہ پانچ سال کی تمام ادائیگیوں کا ریکارڈ آڈٹ کے لئے پیش کیا جائے۔واضع رہے کہ حکومت نے تقریباًبیس برس قبل کاروباری برادری کی مرضی کے خلاف برامدات پر ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج عائد کیا تھا جس کا مقصدسرچارج کی آمدن کے استعمال کے زریعے برامدات بڑھانا تھا جو حاصل نہیں کیا جا سکا تاہم رقم کے ضیاں اور بندر بانٹ کے الزمامات تواتر سے سامنے آتے رہے۔وزارت تجارت کے بعض افسران اس فنڈ کے تحت جمع ہونے والی رقم کو تفریحی دوروں پر بھی لٹاتے رہے جس کی حوصلہ شکنی بھی نہیں کی جا سکی۔ اسی وجہ سے وزارت خزانہ کے اصرار کے باوجود وزارت تجارت نے ای ڈی ایف کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی اجازت نہیں دی۔اس وقت بھی برامدات پر ایک فیصد کٹوتی کی وجہ سے ای ڈی ایف کی مد میں حکومت کو سالانہ بائیس ارب روپے سے زیادہ آمدنی ہو رہی ہے جس کا پچپن فیصد ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ادا کر رہے ہیں جبکہ جواب میں انھیں کچھ نہیں مل رہا۔ واضع رہے کہ برامدات میں اضافہ کے نام پر ٹڈاپ میں بھی بتیس ارب روپے کے گھپلے کئے گئے تھے جس میں سابق وزیر اعظم، سابق وزیر خزانہ، ٹڈاپ کے سابق سربراہ اور بہت سے دیگر لوگ ملوث رہے ہیں اور ہائی پروفائل مقدمات کے باوجود ای ڈی ایف معاملات میں شفافیت نہیں لائی جا سکی ہے۔سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ انھیں تمام معاملہ پر تفصیلی بریفنگ بھی دی جائے۔ 
سینیٹ کمیٹی 

مزید :

صفحہ آخر -