عاصمہ جہانگیر کی یاد میں عالمی کانفرنس ،مقررین کا مرحومہ کو خراج عقیدت

عاصمہ جہانگیر کی یاد میں عالمی کانفرنس ،مقررین کا مرحومہ کو خراج عقیدت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(نامہ نگارخصوصی/نامہ نگار)انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر مرحومہ کی یاد میں عالمی کانفرنس کا انعقاد، کانفرنس کے شرکاءکی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش، عاصمہ جہانگیر کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔مقررین نے خطے میں افغانستان کی صورتحال پر بھی اظہار خیال کیا۔لاہورکے مقامی ہوٹل میں ہونے والی اس کانفرنس میں قومی اور بین الاقوامی وفود نے شرکت کی۔ کانفرنس سے سپریم کورٹ کے سینئر(بقیہ نمبر38صفحہ7پر )


 ترین جج مسٹرجسٹس گلزار احمدنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی بحالی،عدلیہ کی آزادی، اور معاشرے کے محکوم طبقوں کےلئے عاصمہ جہانگیر کی بہت خدمات ہیں،ہمارے معاشرے کے ہردور میں ایک عاصمہ جہانگیر کی ضرورت ہے،سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج قاضی فائز عیسیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ,1973 میں پاکستان کا متفقہ آئین بنا جسے ہم سب مانتے ہیں،یہ آئین کہتا ہے کہ ملک کو لوگوں کے منتخب کئے ہوئے نمائندے چلائیں گے، اس دستور میں عدلیہ کی آزادی بھی ہے،ضیا الحق نے بھی وعدہ کیا کہ وہ لوگوں کے نمائندوں کو اقتدار سونپیںگے لیکن وعدہ پورا نہ کیاپھر ریفرنڈم کے ذریعے خود کو صدر بنا دیاپھر جنرل مشرف کا مارش لاءلگا،انہوںنے پولیٹیکل ری سٹرکچرنگ کا کہا، پھر انہوںنے بھی پچھلے جرنیل کی طرح ریفرنڈم کرایا ،آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت ریاست سے تنخواہ لینے والے آئین پرعمل کے پابند ہیں،یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم آئین کے پابند رہیں، قائد اعظم بھی چاہتے تھے ملک میں جمہوریت رہے،جب بھی ڈکٹیٹرشپ آئی،اس کا نتیجہ ملک کےلئے اچھا نہیں نکلا،آئین سے وفاداری ہر شہری کا فرض ہے جو لوگ آئین کے تحت حلف لیتے ہیں ،ان پر عام لوگوں سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے ،ہمیںاپنے اسلاف کی قربانیوں کی قدر کرنی چاہیے،ہمیں ماضی کو یاد رکھنا چاہیے جس سے سبق حاصل کرتے ہیں ،ڈکٹیٹروں نے لامتناہی طاقت کے حصول کی خواہش کے پیش نظر قرارداد مقاصد کی خلاف ورزی کی،انہوںنے انسانی حقوق اورآئین وقانون کی بالادستی کےلئے عاصمہ جہانگیر کے کردارکو خراج تحسین پیش کیا۔لاہور ہائیکورٹ کے سینئرترین جج جسٹس مامون رشید شیخ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکشمیر اور فلسطین میں بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں،اقوام متحدہ کوکشمیریوں اور فلسطینیوں کے لئے اپنا کردار ادا کرناہوگا،عاصمہ جہانگیر نے ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا اور بنیادی حقوق کے لئے اہم کردار ادا کرتی رہیں،انہوںنے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والا ملک ہے،گلوبل وارمنگ سے نہ نمٹا گیا تو بڑے پیمانے پر اس خطے میں انسانی حقوق متاثر ہوں گے۔اقوام متحدہ کی ا نسانی حقوق کی پاکستان کےلئے کوآرڈی نیٹرکنوٹ اوٹسبے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کو تشویش ہے،کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بندہونی چاہئیں،عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق کی علمبردار تھیں،انہیں اقوام متحدہ میں یاد کیا جاتا ہے،یورپی یونین کی سفیر اینڈرولا کمینارا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور پاکستان کشمیر کے معاملے کا پرامن حل نکالیں ۔سماجی انصاف اورانسانی حقوق کےلئے عاصمہ جہانگیر کی جدوجہد ناقابل فراموش ہے،برطانوی ہاﺅس آف لارڈ کی ممبر بارونیز کینیڈے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی حکمرانی مستحکم معاشرے کےلئے ضروری ہے،قانون کی حکمرانی قانون کے ذریعے ہونی چاہیے،قانون کو حکمرانی کےلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے،آزاد عدلیہ اور فری میڈیا جمہوریت کےلئے لازم ہے،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ پاکستان کے لوگ یہ نہ سمجھیںکہ انڈیا صرف ہم کشمیریوں کوتنگ کر رہا ہے ، آپ بھی محفوظ نہیں رہیں گے،آپ کاروبار کررہے ہیں ،روزانہ ڈالر گنتے ہیں ،کمائیاں کررہے ہیں۔مظفر آباد لائن آف کنٹرول سے 40کلومیٹر دور اور آپ تو صرف 17کلومیٹر دور ہیں،مودی ایک ایک قدم کرکے آگے بڑھ رہا ہے،حکومت پاکستان کا موقف احمقانہ ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھا لے تو پھر کیا ہوگا،حالات کے مطابق تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، ہمارے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں،ہم کشمیری تقسیم شدہ ہیں، باتیں اور بیان بازی میں بھی بہتر انداز میں کرسکتاہوں،مقبوضہ کشمیر میں نوجوان طلباءاور بچوں کو اغواءکیا گیا،کشمیر اب نہ انڈیا کا حصہ ہے اور نہ پاکستان کا حصہ ہے،کشمیر اب 1947 ءکی پوزیشن پر دوبارہ آگیا ہے،کشمیری جس کرب سے گزر رہا ہے اس کا اندازہ کون کر سکتا ہے ،30 ہزار سے زائد دس سے سولہ سال عمرکے بچے غائب ہوئے ہیں،کشمیر سے کرفیو اٹھانے کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہو گا، ہمیں حقائق کے مطابق کشمیر پالیسی میں تبدیلی کرنی ہو گی ، بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اقوام متحدہ کی قرارداد کی نفی کی ،دس سال بعد مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل ہو چکی ہو گی، بھارتی فوج کشمیریوں کی تذلیل کر رہی ہے ،کشمیریوں کی جان و مال اور آبرو محفوظ نہیں،عاصمہ جہانگیر مرحومہ کی انسانی حقوق کےلئے جدو جہد قابل قدر ہے،سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی آواز کو دبا نہیں سکتا،مودی کے کشمیر میں اتحادی محبوبہ مفتی اور فاروق عبداللہ بھی آواز اٹھا رہے ہیں،ورلڈ آرڈر کا کہہ کر بتایا گیا کہ خطے میں امن ہوگا لیکن ایسا نہیں ہوا،ہمارا مذہب ہمیں امن کا درس دیتا ہے، مسلمان امن سے رہنا چاہتے ہیں لیکن انڈیا میں اکثریت امن سے رہنے نہیں دیتی،پاکستان کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے،ان چیلنجز کے باوجود پاکستان کشمیری بھائیوں کیلئے آواز اٹھا رہا ہے،دنیا کشمیر کے معاملے پر کوئی توجہ نہیں دے رہی،ہمیں اپنی توانائی عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر پر اٹھانے کیلئے صرف کرنا ہوگی، بھارت مودی کی قیادت میں روگ سٹیٹ بن چکا ہے ، دنیا کا بھارت پر کوئی کنٹرول نظر نہیں آرہا،مودی کا بیانیہ درست نہیں یہ دنیا کو ماننا ہو گا، پاکستان کو کشمیریوں کی سیاسی و اخلاقی حمایت جاری رکھنا ہو گی ،اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی تنظمیوںکو اس ایشو ہر ساتھ ملانا ہے ،انہوںنے کہا کہ پریس کو آزادی دیئے بغیر حقیقی آزادی ممکن نہیں خواہ کشمیر ہو یا ریجن کا کوئی ملک خالی تقریروں سے کچھ حاصل نہیں ہو گا،سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر کا عاصمہ جہانگیر کی یاد میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی اور افغان مذہبی، جغرافیائی اور علاقائی لحاظ سے ایک ساتھ جڑے ہوئے ہیں،طالبان کے دور میں خواتین کو تعلیم و تدریس کے شعبے میں پیچھے رکھا گیا،ہمیں گزشتہ چالیس سال کے حقائق کو سامنے رکھ کر آگے بڑھنا ہے،افغانستان میں کئی نسلی اور مذہبی مسالک کے گروپ ہیں،افغانستان میں کئی وار لارڈز کی بھی حقیقت سامنے رکھنا چاہیے،افغانستان میں ایسے ہیروز بھی ہیں جنہوں نے خواتین کے حقوق کے لئے آواز اٹھائی،پاکستان کو اپنے وسائل کے مطابق افغانستان کی بھرپور حمایت اور مدد کرنی چاہیے ،خصوصاً صحت کے شعبے میں،پاکستان کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اگر افغان بھائی کہیں تب پاکستان کو اپنا کردار اداکرنا چاہیے ۔محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ افغانستان کا مسئلہ ایک تنازع نہیں بلکہ افغانیوں کی نسل کشی ہے جو چالیس سال سے جاری ہے،افغانستان اس خطے کی ایک چھوٹی سپرپاور تھا، انگریزوں کی اس خطے میں آمد سے قبل افغانستان واحد ملک تھا جس نے انگریزوں سے ٹکرلی،افغانستان کے علاوہ جتنی بھی قومیں تھی انہوں نا صرف انگریزوں کے اگے ہتھیار ڈالے بلکہ اس کے آلہ کار بھی بن گئے،وطن سے محبت کا اگر نوبل پرائز ہوتا تو وہ افغانیوں کو ملتا،تقریب میں میزبانی کے فرائض ممبر پاکستان بار کونسل اعظم نذیر تارڑ نے انجام دیئے ،مرحومہ عاصمہ جہانگیر کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کےلئے کانفرنس کے شرکاءکو عاصمہ جہانگیر کی جدوجہد پر مبنی مختصر فلم بھی دکھائی گئی،سینئر تجزیہ کار حامد میراورنسیم زہرا سمیت دیگر مقررین نے بھی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور عاصمہ جہانگیر کی شخصیت کے حوالے سے اظہار خیال کیا،تقریب میں سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس عمر عطاءبندیال ،لاہورہائیکورٹ کے مسٹرجسٹس جواد حسن،مسٹرجسٹس شہرام سرور چودھری ،سپریم کورٹ بار سابق صدر سینئر وکیل عابد حسن منٹو اور پاکستان بارکونسل کے رکن احسن بھون اورلاہورہائی کورٹ بار کے صدر حفیظ الرحمن چودھری سمیت دنیا بھرسے وفود نے شرکت کی ۔کانفرنس کاآج 20اکتوبر کوآخری سیشن ہوگا۔
عاصمہ جہانگیر کانفرنس