"انصار الاسلام پر پابندی لگائی گئی تو ۔ ۔ ۔ " جمعیت علمائے اسلام جوابی قدم کیا اٹھائے گی ؟ لائحہ عمل واضح کردیا

"انصار الاسلام پر پابندی لگائی گئی تو ۔ ۔ ۔ " جمعیت علمائے اسلام جوابی قدم کیا ...

  



اسلام آباد(ویب ڈیسک)  جمعیت علماء اسلام(ف) کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ اگر انصار الاسلام پر پابندی لگائی گئی تو حکومت کے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

حکومت نے جمعیت علماء اسلام (ف) کی ملیشیا فورس انصارالاسلام کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت داخلہ نے انصار الاسلام کو کالعدم قرار دینے کی سمری الیکشن کمیشن اور وزارت قانون کو بھجوائی تھی جس میں کہا گیا کہ باوردی فورس نے خاردار تاروں سے لیس لاٹھیاں اٹھاکر پشاور میں مارچ کیا اور باوردی فورس بظاہر حکومتی رٹ چیلنج کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کی جانب سے انصارالاسلام پر پابندی لگانے کے فیصلے پر جے یو آئی (ف) کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں انصارالاسلام پر پابندی کا پتہ میڈیا سے چل رہا ہے اگر پابندی لگی تو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

حافظ حسین احمد کا کہنا ہے کہ انصار الاسلام جے یو آئی کی رضاکار تنظیم کے طورپر الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہےیہ تنظیم آج پہلی بار منظر عام پر نہیں آئی ،پہلے سے جلسے جلوسوں میں سیکیورٹی انتظامات سرانجام دے رہی ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد