حکومت کا جے یو آئی کی تنظیم انصار الاسلام کیخلاف کارروائی کا فیصلہ لیکن یہ کب وجود میں آئی اور اس کا کام کیا ہے؟ تفصیلات منظرعام پر

حکومت کا جے یو آئی کی تنظیم انصار الاسلام کیخلاف کارروائی کا فیصلہ لیکن یہ ...
حکومت کا جے یو آئی کی تنظیم انصار الاسلام کیخلاف کارروائی کا فیصلہ لیکن یہ کب وجود میں آئی اور اس کا کام کیا ہے؟ تفصیلات منظرعام پر

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام ف نے حکومت کیخلاف مارچ کرنے کا اعلان کررکھا ہے اور اس کی طرف سے دھرنا بھی متوقع ہے لیکن خیبرپختونخوا میں جے یوآئی کی تنظیم "انصار الاسلامٗ کی پریڈ اور مولانا فضل الرحمان کو سلامی دیئے جانے کے بعد حکومت نے اس کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس سلسلے میں وزارت قانون سے رائے بھی مانگ لی گئی ہے لیکن یہ تنظیم کب وجود میں آئی اور اس کو کونسی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، اس سلسلے میں برطانوی میڈیا تفصیلی رپورٹ سامنے لے آیا۔

بی بی سی اردو کے مطابق  جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ انصار الاسلام کا قیام اسی وقت عمل میں آیا تھا جب جمعیت علمائے اسلام معرض وجود میں آئی،جے یو آئی (ف) کے آئین میں انصار الاسلام کے نام سے باقاعدہ ایک شعبہ ہے جس کا کام فقط انتظام و انصرام قائم رکھنا ہے۔ یہ جمعیت کے ماتحت اور اس کی نگرانی میں کام کرتا ہے،ان کا کہنا تھا کہ انصار الاسلام کا کام جمعیت کی جانب سے منعقد کیے جانے والے جلسے، جلسوں اور کانفرنسز میں سکیورٹی کے فرائض سرانجام دینا ہے۔ ’جلسہ بڑا ہو گا تو انصار الاسلام کے رضاکار بھی زیادہ ہوں گے اور اگر چھوٹا تو کم۔

عبدالغفور حیدری نے مزید بتایا کہ رضاکاروں کے بنیادی کاموں میں سے ایک شرپسندوں پر نظر رکھنا بھی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جمعیت کے ہزاروں اور لاکھوں کے اجتماعات ہوئے مگر آج تک کسی دکان یا مکان کا شیشہ تک نہیں ٹوٹا، ضلعی سطح پر ہونے والے جلسوں میں 100 سے زائد رضاکار نہیں ہوتے، صوبائی سطح پر ہونے والے جلسے میں پانچ سو سے ایک ہزار اور ملک گیر سطح پر ہونے والے جلسوں میں رضاکاروں کی تعداد دس ہزار تک ہو سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی قریب میں ہونے والی جمعیت کی تمام بڑی کانفرنسوں اور جلسے جلوسوں کی سکیورٹی اور انتظام کی ذمہ داری انصار الاسلام کی ہی تھی۔ 

رپورٹ کے مطابق ان کا کہناتھاکہ  وفاقی وزارتِ داخلہ کی جانب سے بھیجی گئی سمری حکومت کی غیر ضروری گھبراہٹ کی غماز ہے اور اگر انصار الاسلام کے خلاف قدم اٹھایا گیا تو وفاقی حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی، جمعیت کا آئین الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہے اور اس کے تحت انصار الاسلام ایک قانونی تنظیم ہے۔

یادرہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے لکھی گئی سمری میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انصار الاسلام میں شامل افراد کی تعداد ملک بھر میں 80 ہزار کے لگ بھگ ہے اور اس میں شامل افراد نے قانون نافد کرنے والے اداروں کا مقابلہ کرنے کے لیے پشاور میں مشقیں بھی کی ہیں تاہم عبدالغفور حیدری کے مطابق انصار الاسلام کے باقاعدہ رجسٹرڈ ممبرز نہیں ہوتے’مرکزی سالار، صوبائی سالار، ضلعی اور تحصیل کی سطح پر سالار ہوتے ہیں جو کسی بھی تنظیمی جلسے کے حجم کو دیکھتے ہوئے جمعیت ہی کے کارکنان کو انتظام و انصرام کی ڈیوٹی دینے کا کہتے ہیں،کوئی باقاعدہ تعداد نہیں مگر اگر صوبائی تنظیموں کو کسی جلسے کے لیے دس ہزار رضاکاروں کا بھی کہا جائے تو وہ بندوبست کر کے دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر سیاسی و مذہبی جماعت میں انتظام انصرام کے لیے اس نوعیت کی ذیلی تنظیمیں لازماً موجود ہوتی ہیں،انھوں نے بتایا کہ جمعیت کے ذمہ داران کسی بھی رضاکار کا نام فائنل کرنے سے قبل اس کی مکمل چھان بین کرتی ہے تاکہ کوئی شر پسند انتظامی کاموں میں شامل نہ ہو پائے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے آئین کی دفعہ نمبر 26 کے مطابق ہر مسلمان پابند صوم و صلوۃ، مستعد اور باہمت نوجوان جو جمعیت علمائے اسلام کا رکن ہو وہ انصار الاسلام کا کارکن بن سکتا ہے۔رضاکاروں کی وردی کا رنگ خاکی ہوتا ہے جس کی قمیض پر دو جیبیں لگی ہوتی ہیں، گرم کپڑے کی خاکی ٹوپی جس پر دھاری دار بیج ہوتا ہے جبکہ پیر میں سیاہ رنگ کا بند جوتا، بیج پر کسی بھی رضاکار کا عہدہ اور حلقہ درج ہوتا ہے۔اجتماعات میں فرائض سے غفلت برتنے پر سالار کسی بھی رضاکار کو معطل کر سکتا ہے۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد