ہندو برادری برتن اور سونے چاندی کے زیورات خریدنے کی بجائے تلواریں خریدے کیونکہ ۔۔۔۔بھارتی حکمران جماعت کے انتہا پسند رہنما نے ایسا بیان جاری کر دیا کہ مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی

ہندو برادری برتن اور سونے چاندی کے زیورات خریدنے کی بجائے تلواریں خریدے ...
ہندو برادری برتن اور سونے چاندی کے زیورات خریدنے کی بجائے تلواریں خریدے کیونکہ ۔۔۔۔بھارتی حکمران جماعت کے انتہا پسند رہنما نے ایسا بیان جاری کر دیا کہ مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی

  



لکھنئو(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارت میں جنونی ہندوؤں نے بابری مسجد کے متنازعہ فیصلے سے پہلے ہی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں،ریاست اتر پردیش کے اہم ترین شہر ’’دیو بند ‘‘ میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر گجراج رانا نے ہندو قوم سے کہا ہے کہ انڈین سپریم کورٹ ایودھیا کیس کا فیصلہ جلد سنانے والی ہے لہذا برتنوں اور زیورات کی بجائے لوہے کی تلواریں خریدنا شروع کر دیں۔واضح رہے کہ ہر سال دیوالی کے تہوار سے قبل بھارت  میں ہندو ’’دھن تیرس‘‘ مناتے ہیں اور اس موقع پر ہندو بڑی تعداد میں برتن یا قیمتی دھات سے بنی چیزیں خریدتے ہیں،رواں سال ’دھن تیرس‘ 25 اکتوبر (جمعہ کے روز)منایا جائے گا۔

بھارتی نجی ٹی وی کے مطابق ہندوستان کی انتہا پسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی  دیو بند کے متنازعہ بیانات کے حوالے سے مشہور صدر گجراج رانا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایودھیا معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ سنائے جانے کی توقع کی جارہی ہے،ہمیں یقین ہے کہ  یہ فیصلہ رام مندر کے حق میں ہوگا تاہم اس  فیصلے کے بعد  ملک کا ماحول خراب ہوسکتا ہے، لہذا سونے کے زیورات اور چاندی کے برتنوں کی بجائے لوہے کی تلواریں جمع کرنا مناسب ہے،یہ تلواریں ضرورت کے وقت ہماری حفاظت میں کام آئیں گی۔گجراج رانا کا کہنا تھا کہ میرا یہ بیان کسی اقلیت کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی انہوں نےکسی برادری یامذہب کے خلاف ’ایک لفظ‘ بھی نہیں کہا،ہم اپنی مذہبی رسومات کے مطابق ہتھیاروں کی پوجا کرتے ہیں اور ہمارے دیوی دیوتاوں نے بھی ضرورت پڑنے پر ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے،میرا بیان موجودہ بدلتے ماحول اور میری برادری کے لوگوں کے مشورے کے طور پر دیکھا جائے،اس کا کوئی اور مطلب نہیں نکالا جانا چاہئے۔

مزید : بین الاقوامی