نظام کو کیا خطرہ ہے؟

نظام کو کیا خطرہ ہے؟

  

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اپوزیشن جو کھیل کھیل رہی ہے اس سے نظام تو رخصت ہو سکتا ہے لیکن کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا، عوام اپوزیشن کی سازش ناکام بنا دیں گے پی ڈی ایم غیر وقتی، غیر فطری اور غیر نظریاتی اتحاد ہے، گوجرانوالہ کے جلسے میں افواج پاکستان کے خلاف اپنایا جانے والا ایجنڈا کسی پاکستانی کا نہیں ہو سکتا۔ بلاول بھٹو بھارتی بیانیئے کا حصہ نہ بنیں، بلاول مودی کے موقف کو توسیع دے رہے ہیں آج وہ پرانے کھلاڑی پی ڈی ایم کے سٹیج پر نظر آتے ہیں جنہیں عمران نے کلین بولڈ کیا تھا۔ پنجاب کے گورنر چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ اپوزیشن کا بیانیہ مکمل طور پر فلاپ ہو چکا ان کی جلسوں کے ذریعے خود کو سیاسی میدان میں زندہ رکھنے کی کوشش ناکام ہے۔ ملکی سلامتی، استحکام اور معیشت کے خلاف سازشیں کرنے والے عوام دشمن ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں نے ابھی صرف دو جلسے کئے ہیں اور حالت یہ ہو گئی ہے کہ وزیر خارجہ کو نظام کی رخصتی بھی نظر آنے لگی ہے حالانکہ آج بھی پوری حکومت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ جلسوں سے حکومتیں نہیں جاتیں، خود  وزیراعظم عمران خان نے ایک سے زیادہ مرتبہ برملا کہا کہ انہیں جلسوں سے کوئی مسئلہ نہیں، اپوزیشن روز جلسہ کرے، ہماری حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام کرپٹ لوگوں کی بات نہیں سنیں گے ایسے میں شاہ محمود قریشی کو اگر نظام خطرے میں نظر آتا ہے تو ممکن ہے ان کے علم میں کوئی ایسی باتیں ہوں جو وزیراعظم سے بھی پوشیدہ ہیں اور وزیر ریلوے شیخ رشید احمد تو ڈنکے کی چوٹ کہہ رہے ہیں کہ فروری تک جھاڑو پھرنے والی ہے۔ نون میں سے شین نکل آئے گی پندرہ بیس ارکان پارٹی چھوڑ دیں گے، سینیٹ کے الیکشن کے بعد حکومت ایوانِ بالا میں بھی اکثریت حاصل کرلے گی، بلکہ اب تو انہوں نے یہ خوش خبری بھی سنا دی ہے کہ مسلم لیگ (ن) پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔ایسے میں یہ فیصلہ کرنا مشکل نظر آتا ہے شاہ محمود قریشی کو جو نظام خطرے میں نظر آتا ہے وہ کہاں تک درست ہے اور شیخ رشید احمد کو جو ہرا ہی ہرا نظر آ رہا ہے اس میں کہاں تک صداقت ہے۔ اور حکومت کے دو اہم وزیروں میں سے کس کی بات کو وزن دیا جائے اور کسے جھٹلایا جائے؟خود پنجاب کے گورنر کا بھی خیال ہے کہ اپوزیشن کا بیانیہ فلاپ ہو چکا ہے۔  حیرت ہے کہ ساری حکومت اس فلاپ بیانئے کی تشریحات میں مصروف ہے، حالانکہ عقل مند لوگ سرابوں اور سایوں کا تعاقب نہیں کرتے، اگر بیانیہ فلاپ ہو چکا تو کیا ضرورت ہے کہ کئی کئی گھنٹے تک مسلسل اس کا تذکرہ کیا جائے اور فلاپ تقریروں کے حوالے دے دے کر اپوزیشن کی مہم جوئی کو ناکام قرار دیا جائے۔ جس تقریر کا ایک لفظ کسی چینل نے نشر نہیں کیا اس پر نکتہ چینی کے پورے پورے باب باندھے جا رہے ہیں اور ان بیانات کو سن پڑھ کر ہی پتہ چلتا ہے کہ کوئی بہت ہی خطرناک تقریر کر دی گئی ہے۔

شاہ محمود قریشی کو جو نظام خطرے میں نظر آیا ہے کیا اس کی بنیادیں اتنی ہی کمزور ہیں جو دو جلسوں اور ایک تقریر سے ڈھے جائیں گی۔ لگتا ہے محترم وزیرخارجہ نے یہ بات روا روی میں کہہ دی ہے ورنہ جو نظام وزیراعظم کو خطرے میں نظر نہیں آتا اور وہ قوم کو باور کرا رہے ہیں کہ وہ نئے عمران خان ہیں اب اتنے پُرعزم لیڈر کی موجودگی میں نظام کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے یہ تو شاہ محمود قریشی ہی بہتر جانتے ہوں گے۔ انہیں چاہیے کہ اگر ان کے پاس کوئی ایسی معلومات ہیں تو وہ وزیراعظم کے علم میں بھی لائیں جو نہ صرف نظام کے لئے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے بلکہ نوازشریف کو لندن سے لا کر عام لوگوں کے ساتھ جیل میں رکھنا چاہتے ہیں،ویسے انہیں یہ بھی بتا دینا چاہیے کہ کیا پاکستان میں خاص لوگوں کی بھی کوئی جیل ہے؟ مخدوم جاوید ہاشمی نے تو اپنی جو جیل کہانی ”زندہ تاریخ“ میں لکھی ہے اس میں تو خاص لوگوں کی جیل بھی کوئی زیادہ بہتر نظر نہیں آتی، انہیں بھی کوٹھڑی میں بند کرکے باہر سے تالا لگا دیا جاتا تھا جیسے عام قیدیوں کو بارکوں میں بند کیا جاتا ہے البتہ جیل قواعد کے مطابق ایک بی (بیٹر Better)کلاس ضرور ہوتی ہے جو استحقاق کے مطابق بعض قیدیوں کو دی جاتی ہے، معلوم نہیں دوبار وزیراعلیٰ اور تین بار وزیراعظم رہنے والا اس کلاس کا استحقاق بھی رکھتا ہے یا نہیں۔

پاکستان میں اس وقت جو بُرا بھلا پارلیمانی نظام نافذ ہے حکومت اور اپوزیشن دونوں کے مفاد میں ہے کہ وہ اسے جاری رکھنے پر متفق ہو جائیں کیونکہ اس نظام ہی کی برکت ہے کہ تحریک انصاف حکومت کر رہی ہے اور جن جماعتوں کے سہارے اس کی حکومت کھڑی ہے اس کی قیادت کے بارے میں بھی اس کے خیالات کبھی اچھے نہیں رہے وقت وقت کی بات ہے کہ وزیراعظم جس شخص کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ اسے اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھیں اس نے اپنے آپ کو اپنی صلاحیتوں کی بدولت ایسا وزیر ثابت کر دیا ہے جس کے متعلق اب وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اس کی کارکردگی پوری کابینہ میں سب سے بہتر ہے۔جب یہ بہترین وزیر آنے والے دنوں میں حکومت کے لئے چین ہی چین لکھتا ہے اور اس کی کامیابیوں کی ایک طویل فہرست گنواتا ہے تو پھر حکومت کو فکر کس بات کی ہے؟اس کے باوجود پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے حکومت اور اپوزیشن کو اتفاق رائے کر لینا چاہیے اگر پارلیمنٹ کو بھی بائی پاس کیا جائے گا اور جلسوں میں یہ اعلان کیا جائے گا کہ اب کسی کو پروڈکشن آرڈر نہیں ملے گا تو اسے پارلیمنٹ کے کام میں مداخلت ہی سمجھا جائے گا۔ ایسی صورت میں جب اپوزیشن یہ محسوس کرے گی کہ اسے پارلیمنٹ کے اندر بھی برداشت نہیں کیا جاتا اور جلسوں میں بھی رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں تو یہ واقعتا نظام کے لئے خطرے والی بات ہو گی جس میں حکومت بھی سب کچھ کھو دے گی۔ کارکردگی کے لحاظ سے حکومت کا خانہ تو پہلے ہی خالی ہے دعوؤں اور اعلانات کے باوجود اس میں بہتری نہیں آئی، ایسے میں دو ”فلاپ شوز“ کے بعد ہی اگر نظام خطرے میں نظر آ رہا ہے تو آگے کیا ہو گا، بہتر ہے حکومت سوچ بچار کے بعد کوئی لائحہ عمل طے کر لے اور تمام وزیروں کو ہدایت کرے کہ وہ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے کے بجائے حکومت کے کسی طے شدہ موقف ہی کو آگے بڑھائیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -