حفیظ سنٹر کی آتشزدگی اور تحقیقات!

حفیظ سنٹر کی آتشزدگی اور تحقیقات!

  

گلبرگ لاہور میں الیکٹرانک کی بڑی مارکیٹ حفیظ سنٹر میں آتشزدگی کے باعث اربوں روپے کا نقصان ہو گیا، یہ آگ دوسری منزل پر شارٹ سرکٹ کے باعث لگی اور پورے پلازہ کو لپیٹ میں لے لیا، گیارہ گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا گیا، تاہم اس دوران اندر پڑا الیکٹرونکس کا قیمتی سامان راکھ بن گیا اور کئی تاجر کنگال ہو گئے، کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ وزیراعلیٰ نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو تحقیقات کا حکم دیا اور چوبیس گھنٹوں میں رپورٹ طلب کی ہے۔اس علاقے میں آتشزدگی کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے، چند سال قبل حفیظ سنٹر کے قریب پیس (PACE) میں لگنے والی آگ سے بھی تاجر کنگال ہو گئے تھے اور ان میں سے کئی تو اب تک سنبھل نہیں پائے اس آتشزدگی میں تین افراد کی جان بھی گئی تھی، تاجر حضرات کا الزام ہے کہ انشورنس کی رقم میں سے ان کا نقصان پورا نہیں کیا جا سکا کہ دکانیں الگ سے انشورڈ نہیں تھیں۔ ایسی ہی صورت حال اب حفیظ سنٹر کی بھی ہے کہ جل جانے والی دکانوں کی الگ سے انشورنس نہیں ہے۔حفیظ سنٹر کی آتشزدگی نے ایک بار پھر انتظامی حالات کے بارے میں سوالات پیدا کئے ہیں کہ بلڈنگ میں آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے اور پیس والا فائر ہائیڈرنٹ کام نہیں کر رہا تھا اس سے پانی کے حصول میں بھی دقت ہوئی۔ دنیا بھر میں یہ اصول ہے کہ ایسی عمارتوں میں ہر منزل پر آگ بجھانے کے لئے آلات ہوتے ہیں اور کسی حادثے کی صورت میں وہاں کے مکین ان کی مدد سے آگ پر قابو پا لیتے یا اسے اس حد تک کنٹرول کر لیتے ہیں کہ فائر بریگیڈ کی کوشش جلد کامیاب ہو جاتی ہے، لیکن یہاں ایسا نہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ فائر بریگیڈ والے حضرات بھی سامان کی قلت کا شکار تھے اور ایسی آگ پر قابو پانے کے لئے ”فوم“یا مطلوبہ کیمیکلز سے بھی محروم تھے اور صرف پانی سے کام لیا گیا۔تاجر حضرات کا بہت زیادہ نقصان ہوا۔کئی ایک کا تو کچھ بھی نہیں بچا، پہلی منزل والے اپنا کچھ سامان نکال سکے، اب ان تاجروں کا مطالبہ ہے کہ ان کو فاقہ کشی سے بچایا جائے اور نقد امداد سے ان کو پھر سے کاروبار کی سہولت دی جائے۔ حکومت کو اس پر ہمدردانہ غور کرنا چاہیے، جبکہ تحقیقات کرنے والی ٹیم کو نہ صرف آگ کی وجوہات کا پتہ لگانا چاہیے، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو والوں کے پاس ضروری آلات کی صورت حال کیا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -