زندگی کے چند انمٹ نقوش!

زندگی کے چند انمٹ نقوش!
زندگی کے چند انمٹ نقوش!

  

میرے زمانے کا پاک پتن برصغیر کے ان درجنوں شہروں میں سے ایک تھا جو ’شریف‘ کہلاتے تھے…… اجمیر شریف، کلیر شریف، ہانسی شریف، ملتان شریف، اُچ شریف، گولڑہ شریف، تونسہ شریف اور نجانے کون کون سے گاؤں، قصبے اور شہر تھے جن کے ساتھ ’شریف‘ کا لاحقہ لگایا جاتا تھا۔ عام خیال یہ تھا کہ جن مقامات پر کوئی بزرگ یا اہلِ دل محوِ خواب ہوتا تھا، اس کو از راہِ عقیدت شریف سمجھ لیا جاتا تھا۔1947ء سے پہلے انگریزوں کے زمانے میں بھی یہ باقاعدہ ’رجسٹرشدہ شریف‘ شہر ہوتے تھے۔ ریلوے پلیٹ فارم کے دونوں سروں پر ان کے نام انگریزی اور اردو میں لکھے ہوتے تھے اور اس حوالے سے ان قصبات اور شہروں کی ’شرافت‘،سرکارِ برطانیہ سے باقاعدہ ”منظور شدہ“ ہوتی تھی۔

ہمارے گھر میں جو پوسٹل ڈاک آتی تھی اس کی زیادہ تعداد ننگے پوسٹ کارڈوں پر مشتمل ہوتی تھی جن کا طول و عرض 5"x3" ہوتا تھا۔ لفافوں کا رواج بھی تھا لیکن بہت کم تھا۔ آدھا کارڈ خیر خیریت سے شروع ہو کر آخر میں دعاؤں اور سلاموں پر ختم ہو جاتا تھا۔ سکولوں میں جب خطوط نویسی کا درس دیا جاتا تو ابتدایئے کی درستگی میں لفظ ”چاہتا ہوں“کی جگہ صرف ”ہے“ لکھوایا جاتا تھا۔ وہ فقرہ یہ تھا: ”یہاں پر خیرت ہے اور آپ کی خیریت خداوند کریم سے نیک مطلوب ”چاہتا ہوں“۔……

اردو میڈیم سکولوں میں روائتی خطوط نویسی کی یہ پریکٹس کلاس ہشتم تک جاری رہتی تھی۔ کلاس نہم اور دہم تک جاتے جاتے خطوطِ غالب کی سادہ بیانی اور فصاحت پر زور دیا جاتا۔ اردو کے پرچے میں باقاعدہ ایک سوال یہ بھی ہوتا کہ اپنے دوست کو خط لکھو جس میں موسمِ گرما کی تعطیلات گزارنے کا احوال درج ہو……میں نے اس سوال کے جواب میں ہمیشہ دس بٹا دس نمبر حاصل کئے کیونکہ ہمیشہ تعطیلات کا احوال بالکل مختلف انداز میں بیان کیا کرتا تھا۔ اپنے اساتذہ کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے کے ساتھ ساتھ اردو کے استادِ محترم کا اسمِ گرمی اور ان کی ہم پر ’کرم فرمائی‘ کا ذکر ضرور کرتا جس میں کان پکڑائی سے شروع کرتا تو جسم کے مختلف حصوں پر ’بید زنی‘ کے فوائد پر کھل کر بحث کرتا اور عرض کیا کرتا کہ یہ بید اور چابک نہ ہوں تو اشہبِ خیال کبھی تیز نہیں دوڑ سکتا۔ اردو اور انگریزی کے اساتذہ (شاید) اس وجہ ہی سے مجھ پر شفقت فرماتے اور (شاید) اسی سبب کلاس ہفتم سے لے کر کلاس دہم تک میں مسلسل کلاس مانیٹری کے فرائض انجام دیتا رہا۔ بیدزنی کو دوسروں پر آزمانے کے مواقع تو بار بار ملے لیکن خود پر آزمانے کا ایک موقع فراموش نہیں کر سکتا۔

کلاس ہشتم میں اردو کا پیریڈ تھا اور ماسٹر مولوی عزیز صاحب میرے ہر دلعزیز اساتذہ میں شامل تھے۔ ایک روز میں نے ان سے پوچھا: ”سر ہم پاک پتن کو پاک پتن شریف کیوں کہتے ہیں؟“…… جواب ملا کہ:”یہاں ہندوستان کے ایک بڑے ولی اللہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ مدفون ہیں اس لئے یہ شہر ’شریف‘ کہلاتا ہے“…… پھر انہوں نے یکے بعد دیگرے برصغیر کے مختلف شہروں کے نام گنوائے جو ’شریف‘ کہلاتے تھے اور جن کا ذکر سطورِ بالا میں کر آیا ہوں …… نجانے مجھے کیا سوجھی کہ میں نے یہ سوال بھی کر دیا:؎

”سر، لاہور کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا وہاں حضرت داتا گنج بخش مدفون نہیں؟ کیا وہ بابا فرید شکر گنج سے چھوٹے بزرگ ہیں؟…… اگر نہیں تو پھر لاہور کو ’لاہور شریف‘ کیوں نہیں لکھا اور بولا جاتا؟“

یہ سن کر عزیز صاحب نے تامل فرمایا۔ ساری کلاس خاموش تھی اور جاننا چاہتی تھی کہ لاہور کو شریف کیوں نہیں کہا جاتا۔ انہی دنوں ہماری کلاس میں لاہور سے ایک لڑکا آکر داخل ہوا۔ (قیوم نام تھا لیکن قد چونکہ چھوٹا تھا اس لئے ہم اسے ’قوما‘ یعنی ’کچھوقوما‘ کہتے تھے) وہ ہم سے زیادہ ذہین تھا لیکن اس کی ذہانت کے جوہر بعد میں کھلے…… لیکن یہ کہانی پھر سہی۔

قومے نے ہاتھ کھڑا کیا۔ عزیز صاحب نے بولنے کی اجازت دی تو وہ کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: ”سر لاہور پر نصف صدی تک سکھوں کا قبضہ رہا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کا پایہ ء تخت لاہور تھا۔ وہ بادشاہی مسجد میں گدھے باندھا کرتا تھا اور مسجد کے قیمتی سنگ مرمر اکھاڑ کر امرتسر لے گیا تھا اور دربار صاحب میں نصب کر دیئے تھے۔ سکھوں کی آمد اور قبضے سے پہلے شہر لاہور ساری دنیا میں مشہور تھا اور اس کی وجہِ شہرت حضرت داتا گنج بخشؒ، حضرت میاں میرؒ اور انار کلی کے مزارات تھے!“……

عزیز صاحب نے میری طرف دیکھا تو میں نے کہا: ”سر! قوما جھوٹ بول رہا ہے۔ انار کلی کوئی پیر فقیرنی نہیں تھی۔ وہ تو شہزادہ سلیم کی محبوبہ تھی۔ یہی سلیم بعد میں جہانگیر کے نام سے مغل سلطنت کا چوتھابڑا بادشاہ بنا۔ یعنی بابر، ہمایوں اور اکبر کے بعد…… حضرت داتا گنج بخشؒ تو بہت پہلے ہندوستان آئے تھے۔ ’قومے‘ نے حضرت داتا گنج بخش اور حضرت میاں میر کو انار کلی کے ساتھ ملا دیا ہے…… کہاں داتا صاحب اور کہاں ایک کنیز؟…… عزیز صاحب نے لفظ قومے پر مجھے تین ”بیدوں“ سے نوازا اور پھر مجھے شاباش بھی دی اور میں بنچ پر جا کر واپس بیٹھ گیا۔ ’قومے‘ کی غضب ناک آنکھیں تادیر مجھ پر مرکوز رہیں۔ سکولوں کی دوستیاں اور دشمنیاں ناقابل فراموش ہوتی ہیں۔ قیوم ایف ایس سی کرنے کے بعد فوج میں چلا گیا اور جب بہت برس بعد مری (اپرٹوبہ) میں ہماری ملاقات اتفاقاً مال روڈ پر ہوئی تو وہ بریگیڈیئر تھا…… ہم دونوں ماضی کی یادیں کریدتے رہے۔

1947-48ء میں پاک پتن کی آبادی بہت کم تھی۔ اس کے دو حصے تھے۔ زیادہ لوگ اس ٹیلے پر آباد تھے جس کو ’اتاڑ‘ کہا جاتا تھا اور یہ ایک وسیع سطح مرتفع تھی۔ یہاں بھی حضرت بدرالدین اسحاق کا مزار تھا جن کے عقد میں حضرت بابا فرید کی دو بیٹیاں تھیں۔ ان کا عرس بھی بڑے تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے۔ مقامی زبان میں اسے ’جھجروں والا میلہ‘ کہا جاتا ہے۔ زائرین مٹی کی جھجریوں میں شربت بھر کر یہاں لاتے ہیں اور مقامی لڑکے بالے اور پیرو جواں سب کے سب زائرین کے ہاتھوں سے یہ جھجریاں چھین کر بھاگ جاتے ہیں۔ یہ ”بھاگ دوڑ“ اس عرس کی ایک دلچسپ اور خاص رسم ہے۔ جو زائر اپنی جھجری سلامت لے کر مزار تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ بدنصیب ہے اور اس کی مراد پوری نہیں ہوتی۔میرا آبائی گھر اس مزار سے صرف 150گز دور تھا اور ہم بڑی شدت سے اس عرس کا انتظار کیا کرتے تھے۔ شربت سے لبریز جھجری (مٹکی) کسی زائر سے چھین کر بھاگ جانا اور زائر کا ہمارے پیچھے بھاگنا رہ رہ کر یاد آتا ہے۔ اور جب وہ قریب آتا تو اس کے پاؤں میں جھجری پھینک کر اس کو  روکنا، ایک عجیب تماشا ہوتا تھا…… پاک تین کے اس حصے کو ’ہٹھاڑ‘ کہا جاتا تھا جو ’اتاڑ‘ کے چاروں طرف نیچے اس کے دامن میں پھیلا ہوتا تھا۔ آج کل تو ’اتاڑ‘ سنسان سا ہو گیا ہے۔ ساری آبادیاں ’ہٹھاڑ‘ میں بس گئی ہیں۔ اگلے روز اتاڑ کا میرا ایک ہمسایہ ملنے آیا تو بچپن کی یادوں کا ایک سیلاب بہہ نکلا۔ جس کسی کو پوچھتا، جواب ملتا کہ اس کا انتقال ہو گیا ہے!…… تقریباً 90% دوست احباب، بزرگ، عورتیں اور مرد اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں …… معلوم ہوتا ہے کہ اب لوگ پاک پتن کے ساتھ شریف کا لاحقہ نہیں لگاتے۔ ریلوے اسٹیشن پر شاید آج بھی ”پاک پتن شریف“ ہی لکھا ہو گا، میں نے چیک نہیں کیا۔لیکن شرفِ شرافت تو مکانوں سے نہیں، مکینوں سے ہوتا ہے…… اسد  اللہ غالب نے سچ کہا تھا:

ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسد

مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے

میرے بچپن کے دوست عمر نے آکر جب سے یہ بتایا کہ جنگل کے تقریباً سارے ہی مجنوں مر گئے ہیں تو جنگل کی اداسی پر میرا اپنا دل بھی کافی دنوں سے اداس ہے۔ سوچا کہ آج کا کالم اداسی کی یاد میں سپردِ قلم کروں۔ ہر روز عصرِ امروز کے گورکھ دھندے سلجھانے میں فکر و عمل کی بہت ساری ساعتیں گزر جاتی ہیں، سوچا عہدِ ماضی کی یادوں کو بھی کبھی ان ساعتوں کا حصہ بناؤں۔ سو آج کا کالم غیر روائتی سہی، زندگی کے انمٹ نقوش کا آئنہ دار تو ہے!!

مزید :

رائے -کالم -