بڑھتی مہنگائی میں خواتین کا مثبت کردار!

بڑھتی مہنگائی میں خواتین کا مثبت کردار!

  

ناصرہ عتیق

ملک میں سیاسی ابتری اور معاشی انتشار نے قوم کو بہ حیثیت مجموعی مصائب میں نہیں ڈالا بلکہ ہر گھر میں پریشانیوں، اندیشوں اور مخمصوں کی فضاء مسلط کر دی ہے۔ خواتین مردوں سے زیادہ اذیت میں ہیں۔ غریب گھرانوں میں چولہے جلانے کیلئے اگرچہ دونوں کو محنت کرنی پڑتی ہے تاہم عورتوں کی ذمہ داریوں کا دائرہ مردوں سے کئی گنا زیادہ وسیع تر ہے۔ گھر کی دیکھ بھال اور بچوں کے معاملات وہ اضافی بوجھ ہے کہ جسے نہ چاہنے کے باوجود اٹھانے پر مجبور ہیں گو یا ان کی فطرت سلیمہ کا تقاضا ہے۔ عورتوں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ عالمی منڈیوں میں تیل، سونے اور گندم کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ کیا جا رہا ہے کہ ان کے ملک کی معیشت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ وہ تو بس اتنا جانتی ہیں کہ انہوں نے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنا اور تن ڈھانپنا ہے۔

میں نے جھونپڑیوں میں زندگی کے دنوں کی تپش جھیلنے والے لوگوں سے لے کر ڈیڑھ ایکڑ کی اس کوٹھی کے مکینوں کی گزر اوقات سے بھی آگاہی حاصل کی ہے کہ جن کی تعداد بمشکل تین یا چار نفوس پر مشتمل ہوتی ہے۔ نتیجہ ایک ہی تھا کہ مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور گزر بسر مشکل سے ہو رہی ہے۔

اتفاق سے میرا تعلق ایک فلاحی عالمی تنظیم سے بھی ہے جو پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کی فلاح و بہبود اور بہتری کے لئے کام کر رہی ہے بالخصوص صحت، تعلیم اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے شعبوں میں اس تنظیم کی کارکردگی قابلِ ستائش میرا رابطہ ایسے لوگوں سے بھی ہوا ہے کہ جنہوں نے ایک وقت کا کھانا کھایا ہے اور دوسرے وقت کے کھانے کی امید نہیں ہے ان کے بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں ہیں۔ والدین انہیں پڑھا نہیں سکتے۔ چھوٹی عمر ہی میں وہ گھر کی کفالت کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں۔ مائیں دوپٹے کے پلو سے اپنے آنسو پونچھتی ہیں جب بچے ان کی ہتھیلی پر دن بھر کی کمائی چند روپوں کی صورت میں رکھتے ہیں۔ بیماریاں ان لوگوں کے گھروں میں مکینوں کی طرح ڈیرہ جمائے رکھتی ہیں۔ صاف پانی کا حصول ان لوگوں کا خواب ہے۔ بس زندگی سے کندھا رگڑتے رگڑتے وہ اپنے دن پورے کر لیتے ہیں۔ لیکن ایسے حالات میں بھی عورتوں کی صنف ایسی ہے جو محنت، ہمت اور سخت جانی کی مثالیں سامنے لاتی ہے۔ یہ عورتیں پڑھی لکھی نہیں ہیں مگر گھریلو معاملات ایک ایسے نظم و نسق کے ساتھ سنبھالتی ہیں کہ ان کے اردگرد کی فضا میں تلخی اور تندی کے بجائے شفقت، حلیمی اور زندہ دلی کا ترنم ملتا ہے۔ گھروں میں استعمال ہونے والے پانی کو ایک منظم طریقے سے سنبھالتی ہیں، میری رفقاء کار اور میں نے کوشش کی ہے کہ ان علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی کے لئے فلٹریشن پلانٹس نصب کروائے جائیں جہاں لوگ صاف پانی سے محروم ہیں۔ رب کریم کا احسان ہے کہ اس ذات بے ہمتا نے ہمیں خدمت کا یہ موقعہ بخشا ہے۔

مہنگائی ایک عالمگیر عفریت ہے۔ یہ پیدا ہوتی ہے اور پیدا کی جاتی ہے۔ مہنگائی ملک گیر ہو تو سبھی اس کی لپیٹ میں آتے ہیں افسوس کہ متوسط طبقہ مہنگائی کی چکی میں زیادہ پستا ہے جب چکی کے پاٹ چلنا شروع ہو جائیں۔ حکومت تو اپنے وسائل بروئے کار لاتی ہی ہے تاہم عوام پر بھاری ذمہ داری آن پڑتی ہے کہ مہنگائی کی لہر کا سامنا کیسے کیا جائے۔ کون سے ایسے اقدامات کئے جائیں کہ جن سے مہنگائی کے بوجھ میں کمی واقع ہو اور کیا حکمت عملی اور انتظامی لائحہ عمل اختیار کیا جائے کہ مہنگائی کی وحشت دور ہو جائے۔ یہ اسی صورت ممکن ہے اگر قوم کا مورال بلند ہو اور اس کا کردار اپنے اندر آہنی پن رکھتا ہو۔ پرُ امید اور پرُ عزم لوگ ہی اپنے وطن کو بلندیوں پر لے جا سکتے ہیں جبکہ کم ہمت اور تھوڑ دِلے لوگ چوپائیوں کا ریوڑ ہیں۔ ان کی نا امیدی ملک میں سراسیمگی کی فضا پیدا کرتی ہے اور زندگی کو اس کے دلکش رنگوں سے محروم کر دیتی ہے۔

حالیہ مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق ہمارے ملک کی تقریباً نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ آبادی کا یہ ایک بڑا حصہ ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو روکنے میں خواتین مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں، ضروری نہیں کہ وہ تعلیم یافتہ ہی ہوں۔ بس ان کی آگاہی صحیح خطوط پر کی جائے اور ان کی انتظامی صلاحیتوں کو خوب نمایاں کیا جائے۔سودا سلف کی خریداری میں ضروری اور غیر ضروری اشیاء کا خیال وہ بطور خاص رکھیں۔ لباس اور پہناؤں کے انتخاب میں فیشن کی کشش سے دور رہیں۔ تقریبات میں اسراف سے اجتناب کریں۔ اشیائے خوردہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے خوفزدہ نہ ہوں۔ قیمتوں میں بڑھوتی عموماً عارضی ہوتی ہے اگرچہ سراسیمگی یقیناً پھیلاتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ رب رحیم پر اپنا اعتماد و یقین غیر متزلزل رکھیں۔ وہی ہے جو آسانیاں فراہم کرتا ہے اور وہی ہے جو ہمیں بھوک اور املاک کے نقصان سے آزماتا ہے۔ رب کریم پر بھروسہ رکھو گے تو مہنگائی سے خوف محسوس نہیں ہوگا اور زندگی میں اتار چڑھاؤ کا سامنا باآسانی کر سکو گے۔ وہی کار ساز اور وہی امن و سکون بخشنے والا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -