افسوسناک واقعہ

افسوسناک واقعہ
 افسوسناک واقعہ

  

لاہور میں انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا، جس نے نہ صرف اہلیان لاہور بلکہ ہر پاکستانی کو غمزدہ کر دیا، ہر آنکھ اشک بار تھی، لاکھوں روپے کا سامان جل کے خاکستر ہو گیا جبکہ پچیس افراد کو   بحفا ظت بلڈنگ سے نکال لیاگیا۔ لاہور کے معروف تجارتی مرکز میں آگ لگنے کی خبر پل بھر میں دنیا بھر میں پھیل گئی، اس خبر نے سب کو پریشان کر کے رکھ دیا۔یہ بتاتے چلیں کہ حفیظ سنٹر لاہور کا معروف تجارتی مرکز ہے جہاں پر روزانہ لاکھوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔ کمپیوٹرز اور موبائل کی خرید و فروخت کے حوالے سے حفیظ سنٹر نمایاں و منفرد حیثیت رکھتا ہے۔اخبارات میں شائع ہو نے ولی خبروں کے مطابق آگ دوسرے فلور پہ شارٹ سرکٹ سے لگی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے اوپر کے دو فلورز کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور امدادی ٹیموں نے گیارہ گھنٹے کی طویل مشقت کے بعد آگ پر قابو پایا جو کہ یقیناً قابل تحسین ہے۔جبکہ تاجر برادری سراپاء  احتجاج ہے اور غمزدہ بھی اور حکومت وقت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ حکومت حفیظ سنٹر کے تاجروں کو ان کے نقصان کے عوض معاوضہ دے اور یقینا حکومت کو معاوضہ دینا بھی چاہئیے، سینکڑوں افراد کاروبار سے محروم ہو گئے۔جی ہاں لاکھوں کا سامان دکانوں میں جل گیا اس لئے حکومت وقت اپنی ذمہ داری نبھائے اور اہم پہلو تو یہ بھی ہے کہ دیکھا جائے کہ اگر شارٹ سرکٹ ہوا تو کیوں اور کیسے ہوا؟ بہر حال ہماری کیا سب کی دلی ہمدردیاں تاجران حفیظ سنٹر کے ساتھ ہیں۔ بہر حال خبر کے مطابق تاجروں کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے جو کہ جلد اپنی رپورٹ پیش کرے گی تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے اور یہ تو سب کی خواہش بھی ہے کہ اصل حقیقت بھی سامنے آنی چاہئیے۔

شہر قائد میں بھی اپوزیشن کا زور دار جلسہ

شہر کراچی میں اپوزیشن نے ایک دفعہ پھر طاقت کا مظاہرہ کیا اور یقیناً گوجرانوالہ جلسے سے زیادہ بھرپور طاقت کا مظاہرہ کر کے دکھا دیا۔ کراچی جلسہ میں بھی اپوزیشن جماعتوں نے بھر پور شرکت کی،مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز بھی جلسے میں شرکت کے لیے کراچی پہنچ گئیں کارکنوں نے مریم کا استقبال کیا اور جلسے میں شرکت سے قبل مریم نے کارکنوں کے ہمراہ مزار قائد پہ حاضری بھی دی۔ جلسے سے بلاول بھٹو، مریم نواز،پی ڈی ایم کے سربراہ سمیت متعدد جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی نہ صرف شرکت کی بلکہ زور دار خطاب بھی کیا اور سب رہنماؤں نے حکومت کے خلاف دل کی بھڑاس نکالی۔ جلسے میں حکومت کو متنبہ کیا گیا کہ بدھ تک آئیلینڈ آرڈینینس واپس نہ لیا گیا تو سینیٹ میں قرار داد منظور کروائیں گے۔ جبکہ پی ڈی ایم کے سربراہ جناب مولانا فضل الرحمان نے کہہ دیا  کہ کسی کا باپ بھی سندھ کو تقسیم نہیں کر سکتا۔ یقیناً اصولی طور پر تو سندھ کو تقسیم ہونا بھی نہیں چاہئیے۔بہر حال ہم نہ کچھ کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی کچھ کر سکتے ہیں، بس صرف دعاکر سکتے ہیں کہ اللہ کرے جو بھی ہو ملک و قوم کے لیے اچھا ہی ہو تو اجازت دوستوں تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا

مزید :

رائے -کالم -