بحرین صہیونی ریاست تسلیم کرنیوالا مشرق و سطیٰ کا چوتھا ملک بن گیا 

  بحرین صہیونی ریاست تسلیم کرنیوالا مشرق و سطیٰ کا چوتھا ملک بن گیا 

  

 منامہ (مانیٹرنگ ڈیسک)بحرین اور اسرائیل میں معاہدہ طے پا گیا، جس کے بعد بحرین مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو تسلیم کرنیوالا چوتھا ملک بن گیا، دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ طور پر سفارتی تعلقات قائم کر لیے گئے ہیں۔ امریکہ کی زیر سرپرستی طے پانے والے اس معاہدے پر دونوں فریقین کی جانب سے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں دستخط کیے گئے۔گذشتہ کئی دہائیوں سے بیشتر عرب ممالک نے اسرائیل کا بائیکاٹ کر رکھا تھا اور ان ممالک کا موقف تھا کہ وہ صرف اسی صورت میں اسرائیل کیساتھ تعلقات قائم کریں گے جب فلسطین سے متعلق تنازع حل ہو جائیگا۔بحرین اب مشرق وسطیٰ کا چوتھا ملک بن گیا ہے جس نے 1948 میں قائم ہونیوالے ملک اسرائیل کو باقاعدہ طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ بحرین سے قبل متحدہ عرب امارات، مصر اور اْردن اسرائیل کیساتھ سفارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں۔فلسطینیوں نے اس سفارتی اقدام کی سخت محالفت کرتے ہوئے اسے ’پیٹھ میں چھرا گھونپنے‘ سے تشبیہ دی ہے۔اس معاہدے پر دستخط کے بعد امکان ہے کہ دونوں ملکوں ایک دوسرے کے ملک میں اپنے اپنے سفارتخانے قائم کریں گے۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان دستاویزات میں اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے سے متعلق کوئی حوالہ شامل نہیں کیا گیا ہے۔امریکہ کے وزیر خزانہ سٹیو نوچن خود اسرائیلی نمائندوں کیساتھ بحرین پہنچے بحرین کے وزیر خارجہ عبدالعاطف بن راشد الزیانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ امید رکھتے ہیں دونوں ملک ہر شعبے میں معنی خیز تعاون کریں گے۔انھوں نے خطے میں امن کا مطالبہ کر تے ہوئے فلسطین کے مسئلے کا دو ریاستی حل تجویز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔اسرائیل کی مذاکراتی ٹیم گزشتہ روز فلائٹ 973 کے ذریعے بحرین پہنچی۔ یہ پرواز بحرین کے انٹرنیشنل ڈائلنگ کوڈ 973 سے مطابقت رکھتی تھی۔ یہ پرواز سعودی فضائی حدود سے گزری جس کی خصوصی اجازت سعودی حکام کی جانب سے دی گئی تھی۔متحدہ عرب امارات اور بحرین دونوں سعودی عرب کے دوست ملک ہیں اور ایران سے متعلق اسرائیلی خدشات ان میں قدر مشترک ہے۔ ماضی میں ان ممالک کے درمیان کئی بار غیر سرکاری سطح پر رابطے قائم ہوتے رہے ہیں۔امریکہ کے وزیر خزانہ سٹیو نوچن خود اسرائیلی نمائندوں کیساتھ بحرین پہنچے تھے۔ وہ منگل کو بھی متحدہ عرب امارات جانیوالے پہلے اسرائیلی وفد کے ہمراہ ہونگے۔

بحرین اسرائیل

مزید :

صفحہ اول -