ایل آر ایچ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے، جسٹس قیصر شاہ 

ایل آر ایچ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے، جسٹس قیصر شاہ 

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصررشید نے کہاہے کہ اس وقت پشاورمیں واقع صوبے کاسب سے بڑالیڈی ریڈنگ ہسپتال تباہی کے دہانے پرہے سینئرپروفیسراستعفے دے رہے ہیں اوراس کاکوئی پرسان حال نہیں ٗ 1932ء میں قائم ہونے والے اس ہسپتال کی اب ایسی حالت ہے کہ مریضوں کے معائنہ کے لئے سینئرڈاکٹرزہی موجودنہیں ہیں یہ ادارے تباہی کے قریب ہے سیکرٹری صحت خودجاکردیکھیں کہ ہسپتال میں کیوں روزانہ کی بنیاد پرڈاکٹراستعفے دے رہے ہیں فاضل جسٹس نے یہ ریمارکس گذشتہ روز ایل آرایچ کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر عدنان گل کی جانب سے دائرتوہین عدالت کی سماعت کے دوران دئیے دورکنی بنچ جسٹس قیصررشید اور جسٹس لعل جان پر مشتمل تھا کیس کی سماعت شروع ہوئی تواس موقع پر ڈاکٹر عدنان گل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پشاورہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجوددرخواست گذارکو اپنی سینیارٹی کے مطابق تعینات نہیں جارہاہے  اورہائی کورٹ نے ان کی گریڈ20میں ترقی کے احکامات جاری کئے تھے  مگرانتظامیہ اسے اب ترقی تودے رہی ہے لیکن جس تاریخ سے ترقی کاحق بنتاہے اس سے نہیں دے رہی ہے اس موقع پر جسٹس قیصررشید نے کمرہ عدالت میں موجود ہسپتال کے نمائندے سے استفسارکیاکہ یہ کیاہورہا ہے کسی وقت ایل آر ایچ جوصوبے کابہترین ہسپتال تھاتباہی کے دہانے پرپہنچ گیاہے آئے روزسینئرڈاکٹرزمستعفی ہورہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے اورحکومت اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں اورسیکرٹری صحت بھی اس حوالے سے اپناکردارادانہیں کررہے ہیں اس موقع پر فاضل بنچ نے سیکرٹری صحت کوہدایات جاری کیں کہ وہ ہسپتال کاخوددورہ کریں اورپتہ لگائیں کہ سینئرپروفیسرزکیوں اپنے عہدوں سے مستعفی ہورہے ہیں انہوں نے سیکرٹری صحت سے اس حوالے سے جامع رپورٹ مانگ لی۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -