دو سال سے ججز کی تقرریاں نہیں ہوئیں، صورتحال افسوناک، حامد خان

دو سال سے ججز کی تقرریاں نہیں ہوئیں، صورتحال افسوناک، حامد خان

  

 ملتان (خصو صی رپورٹر)سینئر قانون دان و سابق صدر سیریم کورٹ بار حامد خان نے کہا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ کیسز کو فکس کرنے کا ہے، لوگ ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں لیکن ارجنٹ کیسز نہیں لگتے، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ تین ماہ میں کیسز کا فیصلہ ہونا چاہیے(بقیہ نمبر50صفحہ7پر)

، 2 ہزار وکلاء  کے پلاٹ کے سنگین مسئلہ پر 8 ماہ میں فیصلہ نہیں سنایا گیا، ہائیکورٹ میں 20 ججز کی سیٹیں خالی پڑی ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہائیکورٹ بار میں وکلاء تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کے معاملات انتہائی افسوس ناک ہیں، دو سال سے ججز کی تقرریاں نہیں ہوئیں لاکھوں کیسز التواء  کا شکار ہیں، سیریم کورٹ میں ججز کیا تقرریاں بھی مایوس کر رہی ہیں، سپریم کورٹ میں پچھلی تین تقرریوں میں چیف جسٹس نا کسی سینئر جج کو نامزد کیا گیا، ہر سیاسی جماعت کو جلسے کرنے کا حق حاصل ہے، اپوزیشن جماعتیں قانون کے دائرے میں رہ کر جلسوں کا انعقاد کر سکتی ہیں۔کسی ایسی طاقت کو پروان نہیں چڑھنے دیں گے جو ملک کو نقصان پہنچائے،پاکستان ایک جمہوری ملک ہے،میں ملتان میں پروفیشنل گروپ آف لائرز کے سپریم کورٹ میں الیکشن کے حوالے سے آیا ہوں،عامر سہیل سلیمی امیدوار برائے جنرل سیکرٹری، محمد یونس برائے نائب صدر، ملک شکیل الرحمن برائے ایڈیشنل سیکرٹری سپریم کورٹ بار کے امیدوار ہیں، وکلاء  ہمارے گروپ پر اعتماد کریں،سپریم کورٹ بار کی صدارت کے امیدوار عبدالستار خان نے وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی صورتحال کے پیش نظر ہم نے پاکستانیت کو فروغ دینا ہے۔ میرے لئے سب سے پہلے پاکستان ہے، ہمارا مقابلہ بددیانت لوگوں سے پڑا ہے، سپریم کورٹ کی رجسٹری ملتان میں بھی ہونی چاہیے، اگر میں کامیاب ہوا تو ملتان میں سپریم کورٹ کی رجسٹری کے حوالے سے اقدامات کروں گا۔ آخر میں انہوں نے اپنے گروپ کے ممبران کا بھی شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرلرمضان خالد جوئیہ، سینئر قانون دان محمود اشرف خان،محمد حسین جہانیاں، رانا اقبال، بلال بٹ، مسرور حیدر اعوان، اقبال مہدی زیدی، نشید عارف، ریاض الحسن گیلانی، وسیم شہاب، کنور انتظار، خالد اشرف خان سمیت وکلاء کی کثیر تعداد موجود تھی۔

حامد خان

مزید :

ملتان صفحہ آخر -